محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میری ایک آنکھ موتیے کی وجہ سے بالکل بند ہوچکا تھی اب دوسری میں بھی موتیا اُترنا شروع ہوگیا تھا بینائی اس قدر کمزور ہو چکی کہ عبقری رسالہ بھی پڑھنا پڑھنا میرے بس کی بات نہیں رہی تھی صرف ہیڈنگ دیکھ سکتا تھا۔ عمرہ کے لیے اچانک پروگرام بنا حتیٰ الامکان حد تک وقت ضائع نہیں کیا۔ مکہ مکرمہ میں طواف اور مدینہ منورہ میں درود پاک پڑھتا رہا۔ بفضلہ تعالیٰ ایک لاکھ 26 ہزار مرتبہ درود پاک پڑھ کر ہدیہ پیش کیا۔ آپ اور آپ کے عبقری ادارے کے لیے بھی بہت دعائیں کیں۔ مکہ مکرمہ سے واپسی کے وقت خانہ کعبہ کو دیکھ کر آنکھیں اشک بار ہوئیں کہ شاید اس کے بعد پھر موقع نہ مل سکے لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا جب جدہ میں پہنچا تو کائونٹر بند ہوچکا تھا ٹکٹیں منسوخ ہوچکی تھیں۔ ڈائریکٹر حج کو آپ بیتی سنائی کہ کمپنی کی غفلت کے سبب فلائٹ مس ہوگئی ہے۔ انہوں نے دوبارہ مکہ مکرمہ بھیج دیا۔ فائیوسٹار ہوٹل میں رہائش دی حرم پاک چونکہ تین کلو میٹر دور تھا وہاں آنے جانے کے لیے ایک گاڑی اور ڈرائیور کی سہولت دی۔ دوبارہ حرم پاک میں حاضری شروع ہوگئی۔خوب طواف کیے اور رو رو کر دعائیں مانگیں۔ آخر ایک دن دوران طواف دعا مانگی کہ یااللہ میری واپسی کا بندوبست فرما دے۔مغرب کی نماز کے بعد اسی روز فون آیا کہ کل سوا گیارہ بجے تمہاری فلائٹ ہے اور صبح اڑھائی بجے تم نے جدہ کے لیے روانہ ہونا ہے سعودی حکومت نے کمپنی کو چھ لاکھ روپے کا جرمانہ کیا کہ تمہاری غفلت کی وجہ سے مسافر کی پہلی فلائٹ مس ہوئی۔ باخیرعافیت اپنے ملک پاکستان پہنچ گیا۔