تلاش

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! آپ کا درس پہلی مرتبہ اٹک میں سنا ،جس کے بعد آپ سے خاص عقیدت ہوگئی پھر ماہنامہ عبقری پڑھنا شروع کیا جس سے زندگی سنور گئی، سب مسائل الجھنیں ختم ہو گئیں،الحمدللہ آپ کے توسل سے اللہ اور رسول ﷺ سے محبت اور اعمال ایمان والی زندگی نصیب ہو گئ اور میںیہ انسانیت کی بھلائی کاپیغام لوگوں تک بھی پہنچاتا ہوں انکو بھی بہت فائدہ ہورہا ہے۔اس حوالے سے کچھ مشاہدات عبقری قارئین کی نذر کر رہا ہوں۔ 
طلاق تک بات پہنچ چکی تھی
ہمارے گائوں میں ایک شخص کی شادی ہوئی یہ شخص بہت بددماغ اور ضدی تھا چند ہی دنوں میں اس کا اپنی بیوی سے لڑائی جھگڑا ہوا اور بات طلاق تک پہنچ گئی جس دن شام کے وقت ان آخری فیصلہ ہونا تھا رشتہ دار اکٹھے ہو رہے تھے میرے دل میں ایک وجدانی کیفیت پیدا ہوئی میں نے اس کی بیوی کو بلا کر اس کی منت سماجت کی کہ صرف ایک ہفتہ انتظار کرو اور یہ عمل کرو نہ صدقہ نہ نفل نہ ہی وضو شرط ‘ اللہ سے دعا کے زریعے خیر کا سوال کرو اورصرف زبان سے یہ الفاظ ادا کرتے رہیں کہ میں نے اللہ کے لئے اپنے خاوند کو معاف کیا ہر وقت یہ کہتی رہو اور سات دن جیسے بھی ہو برداشت کرو اگر وہ ٹھیک نہ ہوا تو جو آپ کے جی میں آئے کرلیں۔سات دن بھی ابھی مکمل نہ ہوئے تھے کہ الحمدللہ اس عورت کی اپنی خاوند سے صلح ہو گئی اور طلاق کا معاملہ ختم ہو گیا۔
 اللہ کے لئے اپنے خاوند کو معاف کیا
اسی طرح ایک عورت جس کے دو بچے ہیں بیٹا سات سال کا اور بیٹی دو سال کی، ان کا خاوند کئی سالوں سے بے روزگار تھا ہنر مند ہونے کے باوجود کام نہیں کرتا تھا ‘گھر میں لڑائی جھگڑا مار پیٹ کرتا رہتا تھا وہ بیچاری تنگ آچکی تھی۔ اس نے بھی میری اہلیہ سے اپنا مسئلہ ذکر کیا کہ میری مدد کریں میں نے اسے بھی یہ عمل بتایا کہ آپ اللہ سے دعا کےذریعے خیر کا سوال کیجئے اور صرف ایک ہفتہ یہ کہتے رہیں کہ میں نے اللہ کے لئے اپنے خاوند کو معاف کیا، چوتھے دن وہ خاتون ہمارے گھر آئی اور بتانے لگی کہ اللہ کے فضل سے خاوند اب بہت سدھر گیا ہے گھر میں بہت سکون ہو گیا ہے۔وہ بہت خوش تھی میرا شکریہ ادا کررہی تھی میں ایک مثال دیتا ہوں کہ شیشہ جتنا قیمتی اور مضبوط ہو پتھر سے ٹوٹ ہی جاتا ہے، ایسے ہی مسائل، مشکلات ،بیماری، بے برکتی سب اللہ کے نام کی برکت سے اور دعا کی طاقت سے ختم ہو جاتے ہیں۔