زندگی میں تجربات‘ مشاہدات اور ٹھوکروں کے بعد مسلسل ایک چیز سامنے آتی ہے اور وہ چیز ہے کہ کچھ حاصل اور سبق ملتا ہے اور وہ سبق یہ ملتا ہے کہ سوچتے سوچتے‘ دیکھتے دیکھتے‘ سنتےسنتے‘ پڑھتے پڑھتے‘ بولتے بولتے۔۔۔! یہ پانچ چیزیں ہیںجس سے انسان کسی چیز کا نچوڑ نکالتا ہے‘ آج اپناایک نچوڑ اور بڑوں کا نچوڑ آپ کو دینا چاہتا ہوں اور اس نچوڑ کے بعد آپ کو بہت کچھ ملے گا اور آپ بہت کچھ پائیں گے۔ کیا ملے گا؟ کیا پائیں گے؟ آئیں آپ کو اس کے تجربات بتاتا ہوں۔
گھر میں غربت‘ بچوں کے دودھ کے پیسے نہیں!
اگر کسی بندے کو غریب‘ مفلس ‘نادار دیکھیں اورکہہ رہا ہو کہ میری جاب نہیں‘ نوکری نہیں‘ کاروبار نہیں اور میرے گھر میں غربت ہے‘ بچوں کے دودھ کے پیسے نہیں‘ میرا سایہ میری چھت نہیں‘ میں مقروض ہوں‘ پریشان ہوں‘ حالات کی تلخیوں نے مجھے مار دیا ہے‘ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے‘ اس لیے میں در در کا منگتا ہوں‘ اگر منگتا نہیں بھی ہوں تو غریب بہت ہوںتو اس میں تین چیزیں تلاش کریں:۔
1۔ وہ سست کاہل ہڈحرام‘ جس سستی کاہلی سے میرے حبیب ﷺنے اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگی ہے۔ کیا وہ واقعی سست کاہل ہے۔
2۔ بددیانت، خائن، وقت کی چوری‘ پیسے کی چوری‘ کام کی چوری‘ جو ذمہ داری دی اس کی چوری۔ یہ ضرور دیکھیں۔
3۔ بدمزاج‘ متکبر‘ بدتمیز‘ بات بات میں بگڑ جانا‘ تم مالدار ہو تو ہو‘ ہم غریب ہیں تو ہماری کوئی عزت نہیں‘ ضرورت سے زیادہ باوقار‘ باعزت اور پھر اسی باوقار اور باعزت میں اپنے آپ کو غیرت مند کہنا‘ اور اپنے آپ کو کہنا کہ آپ کو پتہ تو ہے کہ ہمارے اندر غیرت ہے اگر یہ تین چیزیں آپ کسی میں دیکھیں اوروہ کہے کہ وہ غریب ہے‘ سمجھ لیں یہ پھر کسی پکڑ میں ہے‘ آزمائش میں ہے۔ ان تین چیزوں کی وجہ سے اس میں غربت ہے‘ اللہ پاک ہر چیز میں قادر ہے لیکن یہ کبھی بھی مالدار نہیں ہوسکتا اور اگر سمجھ لیں کہ یہ تین چیزیں اس میں نہیں ہے پھر غریب ہے لیکن یہ اندازہ تجزیہ سوچ سمجھ کر کرنا ہے ایسے نہیں تین چیزیں اس میں نہیں تو سمجھ لیں پھر وہ جنتی روح ہے‘ اور اللہ نے اسے دنیا میں مال تھوڑا دینا ہے اور تھوڑے مال سے اس کی ساری ضروریات پوری ہوجائیں گی۔ اور وہ دنیا میں تھوڑی چیز پر کفایت کرکے آخرت میں بڑی جنت کا حق دار ہے۔
غربت سے بچوںکو مار کر خودکشی کرنے والے
قارئین! اوپر تین نشانیاں میں نے لکھی ہیں یہ تین نشانیاں یقیناً سچی نشانیاں ہیں‘ اور تینوں نشانیاں سوفیصد حق ہے‘ آپ جگہ جگہ غریب ہونے کی آوازیں سنتے ہیں‘ غریب ہونے کے مضامین پڑھتے ہیں‘ فلاں نے غربت سے خودکشی کرلی‘ خود مرگیا بچوں کو ماردیا لیکن آپ باریک تجزیہ اور نظر رکھیں گے تو آپ کی غربت کی وجہ سے یہ تینوں چیزیں ہیں اور ان تینوں چیزوں میں بنیادیں ہیں‘ حقائق ہیں‘ حقیقتیں ہیں جو انسان اس کو جھٹلا نہیں سکتا۔ آپ اگر غریب ہیں تو پھر یہ تینوں چیزیں اپنے ذہن میں لے آئیں‘ سوچیں! کیا تینوں ہیں یا تینوں میں ایک ہے‘ اگر کوئی ایک بھی ہے تو سخت نقصان ہے‘ دو ہی تو بہت گھاٹا ہے‘ تینوں ہے تو آخری زوال ہے۔
زندگی کو مفلسی‘ غربت اور پریشانی سے نکالیں
آئیں! اپنی زندگی کو مفلسی‘ تنگدستی‘ غربت اور پریشانی سے نکالیں مفلسی تنگدستی اور غربت میں جانے سے پہلے اپنی زندگی کو بہترین اور لاجواب کریں اگر ان چیزوں میں موجود ہیں تو ان چیزوں سے نکلیں اور ان چیزوں سے نکل کر آگے بڑھیں اور آگے بڑھ کر اپنی زندگی میں ترقیاں پائیں‘ کامیابیاں پائیں ورنہ یہ تینوں چیزیں آپ کو کسی وقت بھی زوال سے نہیں روک سکتیں۔ اگر میری باتیں آپ کو کمزور محسوس ہوں تو آپ بڑوں سے پوچھیں‘ کتب پڑھیں آپ کو یقیناً میری باتیں باوزن محسوس ہوں گی اور آپ کو ایسے محسوس ہوں گی کہ آپ نے سچ سنا‘ سچ پڑھا۔ ان شاء اللہ۔