خوش رہنا ایک ایسی نعمت ہے جو بڑی حد تک خود پر منحصر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہم کوشش کریں تو زیادہ سے زیادہ خوش رہ سکتے ہیں ، تقریباً ہمیشہ ہی زندگی کے بارے میں مزاج اور رویوں کا معاملہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب خوشی کی بات آتی ہے تو ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ہمیں آخر خوش کیسے رہنا ہے؟ ہم اپنے سارے دن کو کیسے پرلطف اور بھرپور خوشی اور تسکین کے ساتھ گزار سکتے ہیں۔آئیے ایسی تجاویز اور ترکیبیں جو ہمیں خوش رکھنے میں مدد کرسکتی ہیں ان کا جائزہ لیتے ہیں کیونکہ خوش رہنا بھی سیکھا جاسکتا ہے۔ آج ہم سب اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ خوشی کا انحصار خود پر ہی ہوتا ہے نہ کہ ان بیرونی عوامل پر جن پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے۔
خوش رہنے کا انتخاب
پہلی بنیاد جس کے بارے میں ہمیں بہت واضح ہونا ہے وہ یہ ہے کہ زندگی میں آنے والے تمام تر حالات کے باوجودہمیں خوش رہنے کا انتخاب کرنا چاہئے۔ ہر دن اور جن حالات میں ہم رہتے ہیں اس کے ساتھ خوش رہنا یہ ایک انتخاب ہے ، یقین کریں یا نہیں ہماری زندگی میں بہت سے ایسے مسائل ہیں جن پر ہم قابو نہیں پاسکیں گے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم خوش رہنے کا فیصلہ نہیں کرسکتے ‘ جو کچھ آپ کےپاس ہے اس سے لطف اٹھائیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم روزمرہ کے کاموں میں آنے والی مختلف ناکامیوں کے باوجود خود پر قابو پانا سیکھیں اور ان ناکامیوں سے سبق حاصل کر کےاپنی شخصیت مثبت پہلو میں ڈال لیں‘ ایسا کرنے سے ہی ان ناکامیوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔
مصائب‘ مشکلات اور مسائل کا مقابلہ کیجئے
کبھی کبھی ہمیں یہ احساس ہوناکہ ہم کیسی شخصیت رکھتے ہیں ہمارے آس پاس کے عمومی مزاج کو متاثر کرتا ہے. اگر ہم اپنے آپ کو مثبت اور مسرت بخش لوگوں سے گھیر لیتے ہیں تو ہمیں احساس ہوگا کہ اس سے ہم اور زیادہ خوش اور مثبت ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے ، لہٰذا ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کون سے ایسے ہمارے دوست احباب ہیں جو کہ ہمارے لئے کسی پریشانی اور مصیبت کے وقت مزید تکلیف کا باعث بن سکتے ہیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم خود کو ایسے لوگوں سے دور رکھیں تاکہ زندگی میں آنے والی مصیبتوں‘ پریشانیوں اور آزمائشوں کا مثبت طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ کچھ لوگوں کو ایک طرف چھوڑنے کی بات نہیں ہے ، لیکن یقیناًہمیں اپنے آپ کو ایسے لوگوں سے گھیرنا ہوگا جو خوشی لاتے ہیں اور زندگی میں آنے والی تلخیوں میں راحت کا باعث بنتے ہیں۔
معاف کرنا سیکھیں
زندگی میں پیش آنے والے منفی اور تلخ واقعات کو بھلا کر ہمیں ایک نئے سفر کا آغاز کرنا چاہیے‘ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہم آنے والی خوشیوں میں ان تلخیوں کو یاد کر کے زندگی میں پیش آنے والے خوشگوار واقعات سے خوشی حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم زندگی میں دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں‘ یہ ایک مشکل کام ہے مگر اس کے زندگی پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔یہ عمل کرنے سے انسان کبھی کسی روگ کا شکار نہیں ہوتا‘ وہ اپنی مثبت سوچ کے باعث ہر دلعزیز اور زندگی میں پیش آنے والی تمام تر تلخیوں کے باوجود مطمئن رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ کبھی ڈپریشن او ایگزائٹی جیسے امراض کا شکار نہیں ہوتا۔