محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!عبقری رسالہ ہم پچھلے کئی سالوں سے پڑھ رہے ہیں جس سے ہمیں طبی و روحانی دونوں فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔اس رسالہ میں چھپنے والے ٹوٹکے انتہائی آسان اور فائدہ مند ہوتے ہیں جو کہ ہماری روزمرہ زندگی میں بہت جگہ پر کام آتے ہیں۔ہماری طرح ہمارے شہر کے لوگ اور رشتہ دار بھی اس رسالہ سے بہت برکتیں اور فوائد سمیٹ رہے ہیں۔ ہمارا خاندانی پیشہ زراعت اور جانور پالنا ہے۔ہم باپ دادا اور پردادا سے اسی شعبہ سے منسلک ہیں۔اس لئے جانور پالنے کا ہمیں وسیع تجربہ ہے۔عبقری میں جانوروں اور فصلوں کے بارے میں شائع ہونے والی تحریروں میں بہت سے نسخے میں نے خود آزمائے اور ان سے بھر پور فائدے بھی ہوئے۔اس لئے آج میں بھی اپنا بارہاکا تجربہ عبقری قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں‘ اس نسخہ کو استعمال کرنے سے ان شاءاللہ نفع ہوگا۔
موسم جب تبدیل ہو رہا ہوتا ہے یعنی سخت سردی سے گرمی یا پھر گرمی سے سردی کی طرف تو اس وقت اکثر دودھ دینے والے جانور ایک بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں جس کے تحت جانور کی ٹانگوں میں کمزوری ہو جاتی ہے اوروہ اٹھ نہیں سکتااور ان کو اٹھانے کے لئے کئی افراد کومشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے بعد وہ اپنے پائوں پر بہت مشکل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور پھردوبارہ زیادہ دیر بیٹھنے کے بعد پھر یہی مسئلہ سامنے آتا ہے۔جانور کی اس بیماری سے نجات کے لئے پھر ڈاکٹروں کے پاس چیک کروانا پڑتا ہے ۔ اس بیماری سے نجات پانے کے لئے میرا ایک انتہائی آزمودہ اور سستا نسخہ ہے جو میں نے بارہا آزمایا اور اپنے جاننے والے بہت سے لوگوں کو بتایا جنہوں نے اسے آزمایا اور دعائیں دی۔وہ نسخہ یہ ہے:آپ اپنے قریبی کسی بھی اچھے پنساری کی دکان سے دو سو روپے کی ’’ثنامکی ‘‘ بوٹی لےلیجئے۔اس بوٹی کے اب چار حصے کر کے دو کلو پانی میں ابال لیں جب پانی ابل کر آدھا کلو رہ جائے تو اس پانی کو دن میں چار بار متاثرہ جانور کو پلائیں‘بس چند دن مستقل مزاجی کے ساستھ یہ عمل کیجئے ان شاءاللہ جانور صحت مند اور تندرست ہو کر خود ہی اپنے پائوں پر با آسانی کھڑا ہو جائے گا۔