تلاش

محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!ہمارا پورا گھر پچھلے کچھ سالوں سے مختلف آزمائشوں اورمصیبتوں میں جکڑا ہوا ہے۔ایک مصیبت ابھی ختم نہیں ہوتی کہ اگلی شروع ہو جاتی ہے۔ہمارے ہاں کوئی ایک فرد نہیں بلکہ گھر کے تمام افراد ان آزمائشوں اور مصیبتوں کے درمیان جکڑے ہوئے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ مصائب اب ہماری زندگی کا حصہ بن چکے اور ان سے نجات اب بہت مشکل نظر آتی ہے۔
ہمارے ان مسائل ‘ مصائب اور مشکلات کی وجہ اور کوئی نہیں بلکہ میرے اپنے والد صاحب ہیں۔آج سے کچھ سال پہلے میرے والد صاحب نےمیرے دادا ابو کو بتائے بغیر چوری پوری جائیداد کا انتقال اپنے نام پر کروالیا اور پھر اس جائیداد میں سے اپنی بہنوں کو یہ کہہ کر حصہ دینے سے انکار کردیا کہ ہمارے خاندان میں بہنیں جائیداد سے حصہ نہیں لیتیں بلکہ خوشی سے بھائیوں کو دے دیتی ہیں۔جبکہ حقیقت میں ایسا ہرگز نہ تھا‘ میری پھپھو حصہ لینا چاہتی تھیں اور اس معاملہ پر گھر میں ٹھیک ٹھاک جھگڑا بھی رہا مگر میرے والد نے میری پھپھو کو حصہ دینے سے انکار کردیا۔ تمام خاندان والے سمجھاتے تھے مگر میرے والد نہ سمجھے‘ بالآخر تھک ہار کر میری پھپھو بیٹھ گئیں مگر مسلسل میرے والد کو بددعائیں دیتی ہیں۔ ان کی بددعاؤں نے ہمارے گھر کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے‘ ہر طرف عجب ویرانی‘ وحشت‘ سناٹا‘ گھبراہٹ‘ مسائل‘ مشکلات‘ ذہنی الجھنیں‘ گھریلو جھگڑے ہیں۔ ان بددعاؤں نے کیا تباہی ہمیں دیں آپ بھی پڑھیں۔
ہم سمجھے خوشیوں نے گھر کا دروازہ دیکھ لیا!
ہم بہن بھائیوں کی شادی کی عمر ہونے کے باوجود کافی عرصہ تک تو کوئی رشتہ نہ آیا‘کافی عرصہ بعد جب بہن کا ایک مناسب جگہ سے رشتہ آیا اور اس کے ساتھ ہی بھائی کے رشتہ کی بھی بات ہو گئی تو ہمیں کچھ تسلی ہوئی اور لگا کہ شاید رشتوں کی بندش کا معاملہ اب ختم ہو گیا ہے اور ہمارے لئے بھی اب آسانی اور عافیت کی زندگی کا آغاز ہو چکا ہے۔میری بہن کا رشتہ پکا ہو گیا اور شادی کے معاملات بھی طے پا گئے۔
ہم سب گھر والے بہت خوش تھے اور شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔شادی میں ابھی تین دن باقی تھے کہ لڑکے والوں نے شادی سے انکار کر دیا جو سب کے لئے ایک گہرے صدمے کا باعث تھا کیونکہ اب ہر طرف بدنامی اور رسوائی کا سامنا تھا‘بہن جن کی شادی تھی وہ اندر سے ٹوٹ چکی تھی اور والدین بہت زیادہ غمزدہ اور بے بس تھے۔ ہمارے قریبی رشتہ داروں کو ہمارے حال پر رحم آیا اور وہ ٹھیک اسی دن میری بہن سے شادی کے لئے رضا مند ہو کر بارات لے آئے اور میری بہن کی شادی ہو گئی۔
بھابی آئی مگر گھر سے بربادی نہ گئی!
بھائی کی جس لڑکی کے ساتھ شادی ہوئی ہے اس کا رویہ بھائی کے ساتھ انتہائی نا مناسب ہے یہاں تک کہ وہ ہم سے تو دور بلکہ بھائی سے بھی بات تک کرنا گوارا نہیں سمجھتی۔وہ جان بوجھ کر ایسے کام کرتی ہے جس سے میرے بھائی کو دکھ پہنچے۔ وہ خود کہتی ہے کہ میں اس گھر میں نہیں بسنا چاہتی۔مجھے ہر وقت بوڑھی کنواری عورت ہونے کے طعنے دیتی ہے کہ تم سے کوئی شادی نہیں کرے گا۔بھائی کا کاروبار بھی دن بدن زوال کا شکار ہوتا جا رہا ہے اور کسی بھی طرح سنبھل نہیں پا رہا ہے۔میرے بھی کئی جگہ سے رشتے آئے لیکن لوگ دیکھ کر انکار کر کے چلے جاتے ہیں‘ میرے چہرے کی رنگت ڈھل چکی اور سر کے بال بھی مسلسل گر رہے ہیں‘ علاج کے باوجود بھی کوئی فرق نہیں پڑرہا ہے۔ہماری زندگی میں دکھوں اورمصائب کے علاوہ کچھ نہیں ہے‘ خوشی جیسی نعمت کو ہم ترس گئے ہیں جو کہیں سے بھی میسر نہیں ہے۔
میری بڑی بہن کی شادی کو گیارہ سال ہو چکے ہیں مگر ابھی تک وہ اولاد کی نعمت سے محروم ہے اور بھائی والدین کے ساتھ اچھا سلوک روا نہیں رکھتا بہت بدتمیزی کرتا ہے۔مختصر یہ کہ ہمارا پورا گھر برباد ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ میرے والد کا اپنی بہن کو جائیداد میں حصہ نہ دینا ہے اور اس کی سزا ہم سب گھر والے بھگت رہے ہیں۔