قارئین السلام علیکم! گزشتہ ماہ کاغان میں شیخ الوظائف کی نورانی‘ روحانی محفل تھی‘ اس سفر میں شیخ الوظائف کے ساتھ رہنے کی سعادت مجھے بھی ملی۔ سفر کیسے کرنا ہے اور دوران سفر کیسے رہنا ہے؟ ایسے ایسے راز و رموز سے پردہ اٹھا کہ واقعی یہ سفر میری زندگی کا یادگار سفر تھا‘ آٹھ دن ہم نے مسلسل سفر کیا اور تقریباً 26سوکلومیٹرہماری فور بائے فور گاڑی چلی۔
کاغان درس کے بعد فیصلہ ہوا کہ ہم آگے بابوسرٹاپ اور پھر آگے چلاس‘ ہنزہ‘ گلگت بلتستان اور کوہستان تک جائیں گے۔یوں یہ سفر جاری ہوا‘ دوران سفر بے شمار واقعات ہوئے‘ بے شمار باتیں ہوئیں‘ بے شمار مشورے ہوئے‘ مگر ایک تجربہ جس نے مجھے چونکا دیا اور جب میں نے اس کا مشاہدہ کیا تو میںحیران رہ گیا کہ واقعی یہ تو سوفیصد سچ ہے۔
بات کچھ یوں ہے کہ کاغان سے نکلنے کےبعد موسم خراب ہوگیا‘ ہلکی ہلکی بارش شروع ہوگئی اور ہم رات گئے بابوسر ٹاپ پر پہنچے جہاں برف باری جاری تھی اور پہاڑوں پر تازہ تازہ برف گررہی تھی‘ ہم نے وہاں ایک ہوٹل میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا تاکہ صبح تازہ دم ہوکر اگلے سفر پر روانہ ہوسکیں۔ جب ہم بابوسر ٹاپ پر پہنچے تو ہمارے ساتھ ہمارے ایک پہاڑی مخلص تھے‘ انہوں نے زمین سے تھوڑی سی برف ہاتھ میں اٹھائی اور منہ میں ڈال لی‘ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا اورانہوں نے میری حیرت اور ہلکی سی مسکراہٹ کو بھانپ لیا اور دوبارہ برف لی اور مجھے دعوت دی کہ آپ بھی کھالیجئے! میں ایک قدم پیچھا ہٹا کہ برف اتنی شدید ٹھنڈ میں کیوں کھارہے ہیں؟ کہنے لگے برف پکڑ تو لیجئے آپ کو اس کا ایک انوکھا فائدہ اور تجربہ بتاتا ہوں۔ خیر میں نے برف ہاتھ میں پکڑی جو چند لمحات میں پگل کر قطرہ قطرہ میرے ہاتھ سے پھسل کر ختم ہوگئی۔ وہ مخلص گویا ہوئے کہ یہ قدرتی برف آپ کے جسم کے لیے حیرت انگیز ٹانک ہے۔ ملٹی وٹامنز سے زیادہ مفید ہے۔ اس کے کھانے سے چہرے کا رنگ نکھر اٹھتا ہے‘ دماغ پرسکون ہوجاتا ہے‘ معدہ کا بوجھ ختم ہوجاتا ہے‘ گیس‘ تبخیر‘ ہاضمہ کی خرابی کا لاجواب علاج ہے۔جسم مضبوط اور تکان اتر جاتی ہے۔مزید بتاتے ہوئے وہ مسکرائے اور کہا کہ یہ آپ کے شہروں میں جواس وقت سب سے مشہور اور بڑی بیماری ہے یہ اس کا بہترین علاج ہے‘ میں چونک اٹھاآخر یہ کون سی بیماری کا کہہ رہے ہیں؟میں نے بے ساختہ جھک کر برف اٹھائی ہاتھ سے اس کو گولابناتے ہوئے بے ساختہ پوچھا کہ وہ کونسی بیماری ہے؟ کہنے لگے ڈیپریشن! اس قدرت کے تحفہ کو آہستہ آہستہ منہ میں رکھ کر چوسیں دماغ پرسکون ہوجاتا ہے‘ بے چینی‘ اضطراب‘ چڑچڑاپن‘ غصہ سب ختم اور بلڈپریشر کنٹرول ہوجاتا ہے۔میں مسلسل ہاتھ میں برف کو دبا رہا تھا اور جب میں نے ہاتھ کی طرف دیکھا تو وہ ختم ہوچکی تھی‘ میرا ہاتھ ٹھنڈک سے سن ہورہا تھا‘ حیران تھا کہ یہ کیسی باتیں کررہے ہیں؟ ایسا تو میں نے نہ پہلے پڑھا‘ نہ سنا نہ کسی کو اس طرح برف کے فوائد بتاتے سنا۔ میں اور میرا چھوٹا بھائی محمد لبیب شبلی صاحب بھی کھڑےتھے ہم مسلسل سفرکی وجہ سے بہت تھکے ہوئے تھے‘ ہم نے باکل تازہ برف اٹھائی اور آہستہ آہستہ اس کو چوسا یقین کیجئے جیسے جیسے یہ قدرتی کا انمول موتی ہمارے اندر گیا‘ جسم کو ایسے سکون ملا جیسے ہم نے کوئی بہت زیادہ مقدار میں ملٹی وٹامنز کھالیے ہوں‘ بہترین ڈکار آیا‘ دماغ پرسکون ہوا۔ میں نے اسی وقت ان کی بات کی تائید کی اور مجھے اس وقت سمجھ آیا کہ پہاڑی لوگ اتنے مضبوط جسم‘ اعصاب‘ لاجواب حافظہ یادداشت کے مالک کیسے ہوتے ہیں؟ یہ بوڑھے ہوکر بھی بوڑھے نہیں ہوتے‘ یہ بچے بھی ہوں تو یہ بچے نہیں ہوتے یہ انتہائی سمجھ دار ہوتے ہیں‘ یہ میلوں چڑھائی چڑھتے ہیں مگر کبھی تھکتے نہیں‘ یہ سالہا سال بیمار نہیں ہوتے۔ قارئین! یہ میرا ایک مشاہدہ اور تجربہ تھا جو میں نے آپ کی نذر کیا۔ آپ کے سینے میں بھی کوئی راز ہے تو قبر میں جانے سے پہلے مخلوق خدا کو دے جائیے‘ ساری عمر صدقہ جاریہ رہے گا۔ ضرور لکھیے میں منتظر ہوں!