محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! لوگوں کو اللہ کے در کا بھکاری بنانے کا سینٹر یعنی عبقری جیسے کارخیر کو بخوبی سرانجام دے رہا ہے جس سے ہزاروں لاکھوں لوگ مستفید ہورہے ہیں اور ان شاء اللہ ہوتے رہیں گے۔میں ایک ادنیٰ سا انسان ہوں جس پر میرے اللہ کا خصوصی کرم اور اتنی مہربانیاں ہیں کہ جس کا میں اپنی اس ناشکری زبان سے جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ اللہ نے مجھے نبی کریمﷺ کی امت سے اٹھایا۔ دنیا کی ہر نعمت سے نوازہ اور اس فتنوں کے دور میں تسبیح خانہ سے جوڑ دیا۔ لیکن مجھ نا سمجھ ، کم عقل اور نادان نے اپنے مرشد کی بتائی ہوئی باتوں کو بھول کر اس دنیا کی لذتوں میں کھوگیا۔ فرسٹ ائیر کا طالب علم ہوں اور میری عمرصرف سولہ برس ہے اور عمر کے اس حصے میں میں اپنی جوانی کو سنبھال نہیں پایا اور اس کم عمری میں بہت بڑی خطائیں کر بیٹھا ہوں لیکن صرف عبقر ی سے جڑا ہونے کی وجہ سےمیں نے اللہ کے سامنے ندامت کے آنسو بہا کر معافی مانگ لی ہے اور آپ کے درس سننے کے بعد مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اس رحیم اور کریم ذات نے اپنی شان کریمی سے میرے گناہوں کو بخش دیا ہوگا اور اب اپنی روح پر لگے داغوں کو مٹانے کے لیےدرس سنتا ہوں اور مسنون اعمال کرتا ہوں۔مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں نفس پر کس طرح قابو پائوں کس طرح میں من چاہی چھوڑ کر رب چاہی اختیار کروں‘ میں کس طرح اپنی نظروں کی حفاظت کروں۔ میں آپ کے درس سننے کے بہت کچھ دن بہت اچھا اور نیک ہو جاتا ہوں۔ گناہوں سے پرہیز کرتا ہوں نظروں کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ دو تین وقت کی نمازیں بھی پڑھتا ہوں۔ گانے تو بالکل بھی نہیں سنتا ۔عرض اب میں اپنے آپ کو اللہ کے قریب سمجھتا ہوں۔ بس اب رب س دعامانگتاہوں کہ من چاہی چھوڑ کر رب چاہی اختیار کروں اور نظروں کی حفاظت کروں ۔آپ کے تمام درس بہت اچھے ہوتے ہیں بہت گہرے اور ان میں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور آپ نے جو ہمیں انسانیت کا درس اور درد دیا ہے اس سے میں بہت متاثر ہوا ہوں پہلے میں اپنے لیے دعا مانگتا تھا اب میں پوری انسانیت کے لیے مانگتا ہوں چاہےاپنے ہوں یا غیر، دوست یا دشمن، مسلم یا غیر مسلم اور ان کے لیے دعا مانگنے کے بعد مجھے اس بات کا پکا یقین ہوتا ہے کہ اللہ میری دعا بھی ضرور قبول کرے گا اور اللہ کرتا بھی ہے۔