کچھ نہیں کہتی۔ ملازمہ آکر بتاتی ہے کہ کھانا تیار ہے تو کبھی سب کے ساتھ کھالیتی ہوں، خاص طور پر جب شوہر گھر پر ہوتے ہیں اور اگر اکیلی ہوں تو اپنے کمرے میں ہی کھانا منگوا کر کھا لیتی ہوں۔ زیادہ بھوک بھی نہیں لگتی، میں نے محسوس کیا ہے ساس مجھے سے اپنائیت نہیں رکھتیں، بازار جانا ہو یا کسی تقریب میں شرکت کرنی ہوتو اپنی بیٹی کو بلواتی ہیں، وہ بھی اپنے خرچ پر۔ لیکن وہ آتی ہے تو وہ اپنی ماں کے ساتھ ہی بیٹھتی ہے۔ میرے کمرے میں نہیں آتی۔ کوئی مجھ سے بات تک نہیں کرتا، نہ اس کے بچے اور نہ شوہر، میرے میکے والے دوسرے شہرمیں ہیں، ورنہ میں ہر صبح وہاں چلی جایا کرتی۔ (ش،بنوں)
مشورہ:ساس اور نند سے اپنائیت بڑھانے کے لیے آپ کو اجنبیت کی اس دیوار کو گرانا ہوگا جو خودکو خاموش طبع سمجھ کر بنائی ہوئی ہے۔ اپنے کمرے میں لیٹی یا بیٹھی رہیں گی تو لوگ خود آکر ملنے میں تکلف محسوس کریں گے کہ کہیں آپ بے آرام نہ ہوں۔ لیکن اگر کسی کے گھر پر آنے پر خود اٹھ کر کمرے سے باہر نکلیں گی، خوشی کا اظہار کریں گی تو لوگ بھی اپنائیت رکھیں گے۔
سائنس میں میٹرک کیا۔ پھر والد نے اپنے ایک دوست کے مشورے سے مجھے انٹر میں بھی سائنس دلوائی۔ بہت مشکل سے پاس ہوا۔ پھر میرے دوستوں نے کہا کہ تم نے کامرس کیوں نہیں لی، اس میں محنت کم ہے اور نمبر بھی اچھے آتے ہیں۔ مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ ابو نے میری بات نہ مانی بلکہ اپنے دوست کے کہنے پر جو کہ کالج کے پرنسپل ہیں، میرے مستقبل کا فیصلہ کیا۔ (ج، لاہور)
مشورہ:افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اکثر لڑکے تعلیم کے معاملات میں آسانی چاہتے ہیں اور والدین کے حوالے سے منفی سوچ رکھتے ہیں۔ والد نے آپ کے حق میں بہتر کیا لیکن آپ کو دوستوں کی بات اچھی لگتی ہے۔ اب تک جو ہوا سو ہوا، اب کیا کرنا ہے یہ سوچیں اور دوستوں کے مشوروں سے ہٹ کر خود اپنے لئے اپنے ذہنی رحجان کے مطابق مضامین کا انتخاب کریں۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اچھی کامیابی کے لیے ہر فیلڈ میں محنت کر