میرے ابو کے چچا کو ایک عورت پسند تھی وہ اس سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن وہ عورت بدکردار تھی میرے پردادا نے اس عورت سے ان کی شادی نہ کی۔ لیکن میرے چچا نے ضد میں آکر اس عورت سے ناجائز تعلقات استوار رکھے اور اسے ملنا شروع کردیا۔میرے چچا کی معاشرے میں کہیں عزت نہ رہی‘ ہر کوئی انہیں پیٹھ پیچھے باتیں کرتا تھا۔ میرے دادا نے انہیں بہت سمجھایا‘ شریعت کی حدود بتائیں‘ بغیر نکاح کے غیرمحرم کے پاس جانے کی وعیدیں سنائیں مگر میرےابوکے چچا پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ پھر انوکھا معاملہ ہوا وہ یہ کہ اس عورت کے دو بچے ہوئے۔حیران کن بات یہ کہ اس عورت کے دونوں بچوں کی شکلیں ہوبہو میرے ابو کے چچا کی اپنی بیوی کے بچوں جیسی تھیں جیسے چاروں جڑواںہوں۔ کوئی پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ بچے کس کے ہیں؟ ان کی گائوںمیں بہت بدنامی ہوئی۔ آخر کار ایک دن اللہ کے غضب کو جلال آیا۔ ان کو ہر سال بعد پاخانے کی جگہ ایک بہت بڑا پھوڑا نکلتا اور تین مہینے تک اس کو ٹھیک ہونے میں وقت لگتا۔ پھر اگلے سال اسی موسم میں ان کو پاخانے کی جگہ پھوڑا نکل آتا۔ چار سال انہوں نے بہت مشکل سے گزارے ۔ پھوڑا کینسر کی شکل اختیار کرگیا ہر آئے دن ان کا آپریشن ہوتا۔ کولہوں سے جسم گلنا شروع ہوگیا ہر ہفتے بعد ڈاکٹر اس کا آپریشن کرتے اور جسم کاٹ دیتے۔ ڈاکٹروں نے اس کے پاخانے کا راستہ بند کرکے کمر کے پیچھے سے راستہ نکالاپاخانے کا راستہ۔ ہر وقت ان کے جسم سے پاخانہ نکلتا رہتا تھا۔ اس نے زندگی کے آخری پانچ یا چھ سال بہت مشکل سے گزارے۔ان کے پاس بہت دولت تھی اور بیٹے بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ اس کا ایک بیٹا ڈاکٹر تھا۔ انہوں نے بہت دولت لگائی مگر دولت کہاں اللہ کے غضب کا مقابلہ کرسکتی تھی۔ تو دوستو! بے راہ روی کے شکار ہونے سے پہلے ایسا ضرور سوچ لینا کہ آخرت میں تو جو ہوگا سو ہوگا دنیا میں بھی اس کی سزا ملے گی اور اللہ کی ناراضگی بہت بڑی ہے۔ اللہ کو کبھی ناراض نہ کرنا۔