تلاش

حق مہر کی رقم: کوئی آدمی کاروبار کرے تو بیوی کے حق مہر کی رقم تھوڑی سی اپنے کاروبار میں لگا دے اسے ان شاء اللہ نقصان نہیں ہوگا۔ مہر کی رقم طرفین کے لیے خیر و برکت کی چیز ہے۔دل کی بیماری:اگر کسی شخص کا دل سے متعلق کوئی بھی مسئلہ ہے تو دن کے کسی بھی وقت وضو کی حالت میں دل پر ہاتھ رکھ کر گیارہ بارسُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ  پڑھ کر دم کردے ان شاء اللہ فائدہ ہوگا اور دل کا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔صبح کی سیر:کسی شخص نے ایک اللہ والے رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ آپ کی اچھی صحت کا راز کیا ہے تو فرمایا کہ عمر بھر دو باتوں کا خیال رکھا ہے ایک یہ کہ جس چیز نے ایک بار نقصان دیا ہے پھر اس سے پرہیز کیا ، دوئم صبح کی سیر کا ناغہ نہیں کیا۔اکابر کا تقویٰ:فقیہ ابو اللیث ثمرقندیؒ کے زہد و تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ جب سفر میں جاتے تو استنجا کے دو ڈھیلے اپنے ساتھ رکھتے تھے جب ان سے دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ میں کسی دوسرے کی ملکیت سے بلا اجازت کے ڈھیلے استعمال کرنا اچھا نہیں سمجھتا۔
چھ قیمتی باتیں:حضرت شبلی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کثیرالعیال ہونے کی شکایت کی یعنی میری اولاد بہت زیادہ ہے۔ فرمایا ان کو گھر سے نکال  جن کے رزق کا ذمہ اللہ نے نہیں لیا ہے یعنی رزق اللہ کے ذمہ ہے۔ شیخ بہائوالدین رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ’’جسے دیکھو اسے اپنے سے بہتر سمجھو اگرچہ تم عالم اطاعت گزار اور وہ گنہگار ہو۔ ہوسکتا ہے یہ تمہاری آخری اطاعت ہو اور اس کا آخری گناہ ہو۔ تم گنہگار بن جائو اور وہ نیکوکار بن جائے۔ ان سے لوگوں نے کرامت کی تشریح پوچھی تو فرمایا یہی کرامت کیا کم ہے کہ اتنے گناہوں کے باوجود ہم زمین پر چل پھر رہے ہیں۔ حضرت جنید بغدادیؒ کا ارشاد ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک عارف نہیں کہلا سکتا کہ جب تک وہ زمین کی طرح نہ ہو جائے کہ نیک و بد اسے روندتے ہیں اور بادل کی طرح نہ ہو جائو جو ہر چیز پر سایہ کرتا ہے اور سورج کی طرح نہ ہو جائو جو ہر ذرے کو روشن کرتا ہے اور بارش کی طرح نہ ہو جائو جو ہر چیز کو سیراب کرتی ہے۔ ابو علی محمد بن الوہابؒ کا ارشاد ہے ’’اُف ہے دنیا کے کاموں پر جب وہ آجائیں اور اُف ہے دنیا کی حسرتوں پر جب وہ جاتی رہیں‘‘ عقلمند ایسی چیز کی طرف ہرگز توجہ نہیں دیتا کہ آئے تو شمولیت کا سبب اور جائے تو حسرت کا ۔ (بندہ خدا، واہ کینٹ)