میرے ہاسٹل میں ایک لڑکی تھی وہ روزانہ ایک لڑکے ساتھ باہر جاتی تھی اور وہ لڑکا اس کاکزن اور منگیتر تھا بقول اس کے آگے اللہ جانے لیکن منگیتر غیر محرم ہوتا ہے یہ بات اپنے ذہن میں رکھنا اور لوگوں کو بھی بتائو۔
آج کل سوشل میڈیا دیکھ دیکھ کر لوگ دین کو بھول گئے۔ انہیں اس بات کا علم ہی نہیں منگیتر غیر محرم ہے۔ اچھا قارئین! وہ ہر روز اس کے ساتھ باہر موٹرسائیکل پر جاتی اور اپنی دوستوں کو بغیر کسی شرمندگی کے اترا کر بتاتی‘ آج ہم نے فلاں ہوٹل پر کھانا کھایا‘ فلاں پارک گئے‘ فلاں جگہ سےآئس کریم کھائی جبکہ میں اکثر سمجھاتی کہ دین کو مذاق نہ سمجھو‘ اگر شریعت نے منگیتر سے ملاقات کا منع فرمایا ہے تو اسی میں خیر سمجھو‘ مگروہ الٹا مجھے سمجھتا‘ خیر بتاتی کہ میرا منگتیرمجھے شاپنگ کیلئے ڈھیروں پیسے دیتا ‘ میں اس کو دیکھتی رہتی اورکڑھتی رہتی کہ اس کا کیا بنے گا؟ اس وقت میری عمر 16یا 17 سال تھی۔ وہ لڑکی عمر میں مجھ سے کافی بڑی تھی۔ میں اس کو سمجھاتی مگر وہ مجھے چھوٹی بچی سمجھتی تھی‘ وقت گزر گیا اللہ نے مجھے ترقی دی۔ میں یونیورسٹی تک پہنچ گئی۔ غالباً تین سال گزرنے کے بعد وہ لڑکی مجھے ملی اس کی بہت بری حالت
تھی۔ اس کے چہرے کے آثار غم کی داستان سنا رہے تھے۔ اللہ نے حسن چھین لیا تھا۔ بدصورت سا جسم ہوگیا تھا میں نے پوچھا کیا ہوگیا تمہیں؟ وہ شرمندہ تھی مجھے کچھ بتا نہ سکی۔ اس کے ساتھ ایک خاتون تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جس لڑکےسے اس کی منگنی ہوئی تھی‘ پانچ سال کے بعد اس لڑکے نے شادی سے صاف انکار کردیا ہے اور کسی دوسری لڑکی سے شادی کرکے ہنسی خوشی زندگی گزار رہا ہے۔اس لڑکی نے پانچ سال اپنے منگیتر سے ملاقاتوں کی اتنی تشہیر کی ہے کہ اب کوئی بھی اس لڑکی سے شادی کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ اس غم کی وجہ سے بیمار پڑگئی ہے۔ اللہ نے حسن چھین لیا ہے۔عمر بھی زیادہ ہوگئی ہے اور شادی کے بھی کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ توقارئین! اپنی عزت کی خود حفاظت کریں‘ چاہے کوئی منگیتر ہو یا کزن‘ ہمیشہ شرعی پردہ کیجئے‘ محفوظ رہیے۔