قارئین السلام علیکم! کرامت کیا ہے؟ کرامت کسے کہتے ہیں؟ کیا آپ کو پتہ ہے کرامت کسے کہتے ہیں؟ ہاں! میں آپ کو شیخ حبیب الرحمن کہروڑ پکا والوں کی زبانی بتاتا ہوں کہ ’’کرامت اللہ کا فعل ہے، ظہور بندے کے ہاتھ پر ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ کرامت کے تفصیلی معنی یہ ہیں جو کہ شیخ نے چند الفاظ میں بند کردیئے ہیں۔ کوئی بھی شخص خود کچھ نہیں کرسکتا ساری طاقتیں، معجزے، کرامتیں یہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک ہیں اور یہ چنے ہوئے بندوں کو ملتی ہیں۔ بس اس کی ایک شرط ہے وہ ہے پرہیزگاری۔ جو بندہ جتنا گناہوں سے دور ہوگا اللہ اس پر اتنی نعمتیں عطا فرمائیں گے۔شیخ مالکؓ دینار کشتی پر سوار تھے۔ ملاح نے معاوضہ مانگا۔ شیخ نے سکہ نکال کر دیا۔ ملاح نے کہا سکہ کھوٹا ہے اور ملاح نے سکہ اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا اور کہنے لگا کہ بابا جی اور لائو۔ شیخ نے فرمایا میرے پاس تو صرف یہی تھا۔ اس ملاح کو موقع مل گیا اس نے دوسرے لوگوں کو کہا چلو ان باباجی کو اٹھا کر سمندر میں پھینکتے ہیں۔ جب شیخ نے یہ سب کچھ سنا تو آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور کچھ نہیں کہا‘ چند لمحوں کے اندر کشی کو مچھلیوں نے گھیرلیا اور ہر مچھلی کے منہ میں سکہ تھا۔ کسی مچھلی کے پاس سونے کا، کسی کے پاس چاندی کا‘ ایک مچھلی کے منہ میں شیخ کا سکہ تھا۔ شیخ نے ملاح کو فرمایا: میرا سکہ دے دو۔ جب ملاح نے یہ سب کچھ دیکھا تو بہت ڈر گیا اور شیخ مالک رحمۃ اللہ علیہ کے پائوں میں پڑگیا اور معافی اور التجا کرنے لگا۔ اللہ کے ولی کا صرف اوپر دیکھنا ہی بہت ہوگیا کیونکہ انہوں نے اللہ کو منالیا تھا۔ جب ہم اللہ کے ہو جائیں گے۔ اللہ ہمارے ہو جائیں گے پھر آنکھ کا اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ایک اور واقعہ پاک فوج کے آفیسر رحمن نیازی صاحب کا جو چیف آف نیول سٹاف تھے۔ رحمن نیازی صاحب فرمانے لگے میں کیپٹن تھا‘ ہم بحری جہاز پر سفر کررہے تھے۔ سخت طوفان آیا اور بہت تیز ہوا چل پڑی۔ اسی دوران ہمارے ایک ساتھی کو ہوا نے اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا اور ساتھی بھی آفیسر تھا۔ اب تمام عملہ میرے حکم کا منتظر ہے کہ خود کودتے ہیں یا کسی کو کودنے اور بچانے کا حکم دیتے ہیں، ابھی میں فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کیونکہ سمندر میں طوفان بہت زبردست تھا۔ میں ابھی کشمکش میں ہی تھا کہ تیز پانی کے ریلے نے اس آفیسر کو اٹھا کر دوبارہ جہاز میں پھینک دیا اور وہ بالکل صحیح سلامت تھا۔ اس آفیسر کی یقیناً کوئی نا کوئی نیکی ہوگی کہ اللہ نے اس کی جان عجب طریقے سے بچائی۔
قارئین! اس کو کرامت کہتے ہیں۔ اچھے اعمال کرو گے تو اچھے فیصلے ہوں گے اور چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو ترجیح دیں کیونکہ اس آفیسر کی کوئی چھوٹی سی نیکی کام آئی ہے۔ اللہ والو!! قطرہ قطرہ اکٹھا ہوکر سمندر بنتا ہے۔ کوشش جاری رکھیں جب اللہ کے سامنے حاضری ہوگی تو ہم جدوجہد اور کوشش کرنے والوں میں اٹھائے جائیں گے اور ہمارا انعام ان شاء اللہ جنت الفردوس ہوگی۔