جیب میں اینٹیں لے کر چلا کر ہوا تیز چل رہی ہے۔اوئے کچھ کھایا پیا کر‘کیا تیرے گھر والے تجھے کھانے کو کچھ نہیں دیتے۔ ’’کانگڑی پہلوان سنا کیا حال ہے؟‘‘وہ دیکھ ہڈیوں کا ڈھانچہ جارہا ہے۔ یہ انسان ہے یا ہینگر پر کپڑے لٹکائے ہوئے ہیں۔ ایسے بے شمار جملے ایسے بچوں کو سننے کو ملتے ہیں جو بیچارے بہت دبلے پتلے ہوتے ہیں۔ یہی جملے بچوں کو احساس کمتری کا شکار بنادیتے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ گھر سے باہر نکلنا‘ رشتہ داروں سے ملنا جلنا حتیٰ کہ بولنا تک چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے بچے ہر تقریب میں مذاق کا نشانہ بنتے ہیں۔ میرا ایک عزیز ہےاس کا بچپن بھی ایسی ہی باتیں سنتے گزرا‘ سب سے تیز طرار‘سکول میں لانگ جمپ ہو یا دوڑ‘ ہمیشہ اول آتا‘ پتنگ پکڑنی ہو تو سب سے آگے‘ چھتوں سے چھلانگیں سب سے لمبی‘ دیواریں ایسے پھلانگتا جیسے کوئی اولمپئن کھلاڑی ہو‘ مگر صحت ایسی کہ دیکھ کر بے ساختہ ہنسی نکل جاتی۔
بس ایسے ہی بچپن گزرا‘ جوانی میں قدم رکھا وہ بھی مصروف ہوگیا اور میں بھی ‘ پہلی جیسی ملاقاتیں تو نہ رہیں مگر ہفتے میں ایک آدھ بار گلی یا چھت پر ملاقات ہوہی جاتی۔
ایک دن چھت پر آیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس کے چپکے گال بھرنا شروع ہوگئے ہیں‘ میں نے مذاق میں پوچھا ’’کون سا کشتہ کھارہے ہو‘ بڑی صحت بن رہی ہے‘‘ کہنے لگا: سمجھ لے اب کشتہ ہی ہاتھ آگیا ہے‘ پھر کہنے لگا: لوہا کھارہا ہوں‘ رات کو بھگوتا ہوں صبح چباتا ہوں اور پھر نگل جاتا ہوں‘ ابھی تو صرف چودہ دن ہوئے ہیں‘ ابھی چالیس دن تک کھانا ہے‘ اس وقت اس کےچہرے کے تاثرات بہت سنجیدہ تھے‘ میں بھی اس کی بات سن کر حیران رہ گیا کہ ’’یہ لوہا رات کو بھگو کر صبح کیسے کھاسکتا ہے؟‘‘میں نے دیوار پھلانگی اور اس کی چھت پر اس کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گیا‘ میں نے اس کی کمر پر ہاتھ مارا اور کہا اب بتا کیا کھارہا ہے؟ کہنے لگا: بتایا تو ہے لوہا کھارہا ہوں؟ میں نے کہا مذاق چھوڑ؟ سچ میں تمہاری صحت بہترین ہورہی ہے ‘ بتاؤ کون سا نسخہ کھارہے ہیں‘ مجھے تھوڑا سا ستانے کے بعد کہنے لگا:میں اپنے دفتر میں کام کررہا تھا‘ میرے ساتھ والی سیٹ پر میرے سینئر بیٹھتے ہیں انہوں نے مجھے گزشتہ ماہ ایک ٹوٹکہ بتایا تھا‘ بس وہ ہی استعمال کررہا ہوں۔ میں نے کہا وہ کون سا ٹوٹکہ ہے اس نے جو بتایا آپ بھی پڑھ لیجئے:۔ھوالشافی: ایک درمیانے سائز کا سیب لیں‘بڑی سوئی جسے عرف عام میں ’’گندوئی‘‘ بھی کہتے ہیں جس سے خواتین رضائی کی سلائی کرتی ہیں۔ اس بڑی سوئی سے سیب میں چاروں طرف اس طرح سوراخ کریں کہ سوئی ایک مرتبہ مکمل سیب کے اندر چلی جائے پھر باہر نکالیں۔ جب سیب کی شکل اس طرح ہوجائے کہ سیب کے ہر طرف سوراخ ہی سوراخ ہوں تو پھر اس سیب کو پکڑ کر ایک گلاس دودھ میں رات کو بھگودیں۔ ساری رات بھیگا رہے‘ صبح اٹھ کر نہار منہ یہی سیب کھا کر اوپر سے یہی گلاس دودھ پی لیں۔ چالیس دن بعد اس نے اپنا وزن کروایا تو 9کلو وزن بڑھ چکا تھا‘ اس ٹوٹکے نے مجھے بھی حیران کردیا۔ واقعی سیب انسان کو لوہا کی طرح مضبوط اور ہیرے کی طرح چمکداربنادیتا ہے۔ سیب کے مزید کیا فوائد ہیں وہ بھی پڑھتے جائیے۔