اچھی طرح چبا کر کھانا ، ذیابیطس سے بچائو:پرانے وقتوں سے مائیں اپنے بچوں کو نصیحت کرتی آئی ہیں کہ کھانا اچھی طرح چبا چبا کر اور آہستہ کھانا چاہئے۔ ہمارے مذہب اسلام میں بھی یہی تاکید کی گئی ہے۔ تحقیق سے اس کے بہت سے فوائد بھی ثابت ہوچکے ہیں لیکن جدید تحقیق سے اس عادت کا ایک اور نیا فائدہ سامنے آیا ہے جس کی طرف شاید اب تک کسی کا ذہن نہ گیا ہو۔جدید تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جو لوگ کھانا آہستگی سے اور اچھی طرح چبا کر کھاتے ہیں ان کےذیابیطس کا شکار ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر ایسے افراد ذیابیطس کا شکار ہوں بھی تو تاخیر سے ہوتے ہیں۔ ذیابیطس پر خصوصیت سے تحقیق کرنے والے ایک غیر ملکی ڈاکٹر نے بتایا ’’میں کافی عرصے سے اس پہلو پر خصوصی مشاہدہ کررہا تھا کہ عربوں میں شوگر کا شکار ہونے والوں کی شرح اس لئے تو کچھ زیادہ نہیں کہ یہاں دسترخوان پر ایک وقت میں زیادہ کھانے ہوتے ہیں اور عرب عام طور پر انہیں جلدی جلدی کھا لینے کے عادی ہوتے ہیں۔ میں نے اس ضمن میں تجربات کئے۔ لوگوں کے مختلف گروپ تشکیل دیئے اور انہیں ایک ہی قسم کی ڈشیں مختلف رفتار سے کھانے کی ہدایت کی گئی۔ مثلاً ایک گروپ نے اگر وہ چیزیں ایک مقررہ مقدار میں دس منٹ میں ختم کیں تو دوسرے گروپ نے بیس منٹ میں اور تیسرے گروپ نے تیس منٹ میں ۔ بعد میں تینوں گروپس کےخون میں شوگر لیول چیک کیا گیا تو اس میں پہلے کے مقابلے میں نمایاں فرق پایا گیا۔ تیز کھانے والوں کے خون میں شوگر کا لیول آہستہ اور چبا کر کھانے والوں کے مقابلے میں تیس فیصد زیادہ تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ تیز کھانے والے دوسروں کےمقابلے میں جلد ذیابیطس کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک مخصوص رفتار سے زیادہ تیزی سے خوراک جسم میں جانے کی صورت میں لبلبہ انسولین کی تیاری اور اخراج بند کردیتا ہے‘‘۔
کافی پینے سے پہلے دل تھام لیجئے
یہ تو بیشتر لوگوں کو معلوم ہی ہے کہ کافی میں کیفین نامی ایک جز موجود ہوتا ہے جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ لیکن حال ہی میں چار ہزار افراد پر عرصے سے جاری تحقیق کے نتائج سامنے آئے ہیں جس سے کیفین کی ضرر رسانی کا سلسلہ آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین نے بتایا ہے کہ بہت سے انسانوں کا جسمانی نظام کیفین کے ضرر رساں اثرات کے خلاف مزاحمت یا مدافعت کی کم طاقت رکھتا ہے اور ان کے جسم میں کیفین زیادہ دیر تک اپنے تمام تر برے اثرات کے ساتھ موجود رہتی ہے جس کے نتیجے میں انہیں ہائی بلڈپریشر اور دل کی تکالیف لاحق ہوسکتی ہیں۔
دوسری طرف بعض انسانوں کے جسم میں کیفین کے برے اثرات سے بچائو کا فطری نظام ذرا تیزی سے کام کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ کم خطرات کا شکار ہوتے ہیں۔ جن چار ہزار افراد پر تجربات کئے گئے ان میں سے آدھے اوّل الذکر قسم کے تھے اور آدھے آخر الذکر قسم کے یہ فرق جینز کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کا تناسب گویا ففٹی ففٹی کا ہے۔ یوں یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کافی پینے والوں میں سے تقریباً آدھے افراد زیادہ خطرے کی زد میں ہوتے ہیں لیکن ظاہر ہے آپ کے لیے یہ جاننا مشکل ہے کہ آپ کون سے دھڑے میں ہیں اس لئے احتیاط ہی بہتر ہے۔