وہ زمانہ گیا جب آپ اپنے بچوں کی آن لائن مصروفیات پہ نظر رکھنے کی غرض سے اپنے گھر کا کمپیوٹر ٹی وی لائونج میں رکھا کرتی تھیں۔ مگر اب الیکٹرونک دنیا میں آئے دن متعارف ہونے والی جدید اسمارٹ Gadgets نے اس امر کو تقریباً ناممکن بنادیا ہے کہ آپ جان سکیں آپ کا بچہ کب اور کس کے ساتھ آن لائن چیٹنگ میں مصروف ہے اور اس جدید دور میں ایک ذمہ دار ہونے کے ناطے آپ کو اس بات کی آگاہی ہونا نہایت ضروری ہے کہ آپ کا اپنے بچے کی آن لائن مصروفیات پر نظر نہ رکھنا کس قدر خطرناک نتائج مرتب کرسکتا ہے۔جس کی حالیہ مثال ہمارے سامنے ہے جہاں ایک بچے نے آن لائن کسی اجنبی سے دوستی کی اور بنا اپنے والدین کو اطلاع دیئے اکیلے ہی اس سے ملنے چلا گیا۔ اس کے والدین اس بات سے شاید لاعلم تھے کہ جو آسائشیں وہ اپنے بارہ سالہ بچے کو اس کے فائدے کی غرض سے مہیا کررہے ہیں وہ اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں اور اسے سوشل میڈیا تک رسائی دلاسکتی ہیں۔ خیر خدا خدا کرکے جب چند ہفتوں بعد بچہ گھر واپس آیا تو وہ جسمانی اور جذباتی طور پر خاصا ڈرا سہما ہوا تھا، یہاں تک کہ وہ ایک لفظ کہنے کی بھی ہمت نہیں کر پارہا تھا۔بہت سے والدین اکثر اس بات کا گلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بچے اپنے نجی معاملات میں کسی کی بھی مداخلت برداشت نہیں کرتے۔ آپ خود بھی بسا اوقات اس مسئلے سے دو چار رہے ہوں گے اور اپنے اطراف میں بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ والدین اور نوجوانوں کے جارحانہ رویے ان کے درمیان بحث و تکرار کا باعث بنتے ہیں۔
تاہم جب تک والدین ان الیکٹرانک Gadgets اور سوشل میڈیا سے متعلق مکمل آگاہی حاصل نہیں کرلیتے ان کی اپنے بچوںکو ان بربادیوں سے محفوظ رکھنے کی نیک نیت کبھی بھی پوری نہیں ہو پائے گی۔ یہ بات اکثر دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ بچے جو زیادہ گم سم یا خاموش طبع ہوتے ہیں وہی باآسانی بچوں کو بیوقوف بنانے والے افراد کا شکار ہو جاتے ہیں اس لئے والدین کو زیادہ سے زیادہ دھیان رکھنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی انہیں چاہئے کہ وہ ان بچوں سے بات چیت کریں اور ان کا اعتماد جیتیں تاکہ وہ ان فضولیات میں پڑنے سے بچ سکیں۔اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ ٹین ایج بچے بچیاں ہارمونل تبدیلیوں سے گزر رہے ہوتے ہیں جس کے باعث وہ خاصے متلون مزاج ہو جاتے ہیں اور ان میں آزادی و خودمختاری جیسے احساسات بھی ابھر رہے ہوتے ہیں اس سلسلے میں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو گھر پر دوستوں کے ہمراہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے اور کھیلنے کودنے کے مواقع فراہم کریں اس طرح انہیں تنہائی کا احساس بھی نہیں ہوگا اور ان کا وقت بھی صحتمند سرگرمیوں میں صرف ہوگا۔ بچوں کےساتھ دوستانہ رویہ اپنائیں اور ان کا خود پر اعتماد بحال کریں نہ کہ گھر میں مقابلے کی فضا بنائیں۔ اس طرح جب بچے آپ پر بھروسہ کریں گے اور انہیں آپ کے غصے کا ڈر کم ہوگا تو وہ خودبخود اپنی زندگی کے تمام تر معاملات اور ملنے والی معلومات آپ کے ساتھ بلا جھجک کے بانٹ سکیں گے۔یوں تو ہر عمر کے بچوں کے حلقہ احباب، سکول کے ساتھیوں، وین ڈرائیوروں، اساتذہ اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں سے متعلق آگاہی رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بچے کے خاص دوستوں کے بارے میں مختصر لیکن ضروری معلومات والدین کے پاس ہر صورت میں موجود ہونی چاہئیں۔ بچے کی واپسی کا وقت ہو کھیل کود کے میدان سے ہو یا سکول کالج سے دونوں جاننا بہت ضروری ہیں۔بچے کی اپنی عمر سے بڑے کسی بھی شخص سے دوستی نہیں ہونی چاہیے۔ ویڈیو گیمز، اسنوکر کلب، نیٹ کیفے، زیر تعمیر عمارت، ویران جگہیں، بچوں کو ان سب سے دور رہنے کا سختی سے پابند کرنا ضروری ہے۔ غرضیکہ اس طرح معصوم بچوں کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔