خوشیاں ہندو کی جھولی میں کیوں گئیں!
واقعہ کچھ یوں ہے ایک حافظ صاحب آنکھوں سے نابینا‘ لوگوں سے بھیک مانگ رہے تھے‘ ایک ہندو نے انہیں دیکھا‘ کہنے لگا: یہ وہی حافظ صاحب ہیں میں نے ان سےسورۂ یٰسین سیکھی تھی اور میں سورۂ یٰسین پڑھتا ہوں‘ مجھے یاد نہیں کبھی میری سورۂ یٰسین چونکی ہو اور جس یقین‘ جس توجہ اور جس دھیان کے ساتھ میں پڑھتا ہوں وہ توجہ بھی مجھے ان حافظ صاحب نے سکھائی تھی نامعلوم کیوں انہوں نے سورۂ یاسین چھوڑ دی رزق‘ دولت‘ عزت‘ برکت‘ صحت‘ سکون‘ چین‘ خوشیاں خوشحالیاں راحتیں رحمتیں عافیتیں عطائیں شفقتیں محبتیں مودتیں ان سے روٹھ گئیں اور یہ ساری سورۃ یٰسین پڑھنے کی وجہ سے میری جھولی اور میرے آنگن میں آگئیں۔وہ ہندو افسوس کررہا تھا اور کہہ رہا تھا جس شخص نے مجھے سورۂ یاسین سکھائی ہے وہ شخص اتنا زیادہ بے یقین کیوں ہوگیا؟
مسلمان میرے پاس کالاجادو کروانے آتے ہیں!
میرا اپنا واقعہ سنیں‘ اندرون سندھ مجھے ایک ہندو ملا‘ کالے جادو کا جادوگر تھا‘ مجھ سے کہنے لگا: آپ مسلمانوں کو سمجھاتے نہیں کہ یہ میرے پاس کالاجادو کروانے آتے ہیں‘ حالانکہ جب مجھے مشکل اور پریشانی ہوتی ہے میں آیت کریمہ پڑھتا ہوں اور میری مشکل پریشانی ختم ہوجاتی ہے اور ہمیشہ کوئی بھی الجھن ہو‘ ناکامی ہو‘ میرے گھر کا مسئلہ‘ میرے روزگار کا مسئلہ‘ میرے کاروبار کا مسئلہ یا کہیں میرا کام اٹکا اور پھنسا ہوا ہو میں فوراً آیت کریمہ پڑھتا ہوں اور میرے کام ہوجاتے ہیں‘ میں اس ہندو کالے عامل جادوگر کا منہ دیکھ رہا تھا اور اندر ہی اندر اپنے آپ کو کہہ رہا تھا کہ واقعی یہ قصور میرا ہے ان مسلمانوں میں میں بھی شامل ہوں اور میری کوتاہی ہے کہ یہ شخص مجھے کیا کہہ رہا ہے!
قارئین! یہ دو واقعات ہیں جن کے پیچھے ایک انوکھا سبق ہے وہ سب یہ ہے کہ جب قرآن اور اس کا یقین ہم چھوڑ دیں گے اور اس یقین سے بھٹک جائیں گے تو پھر ہمیں ایک اور راستہ ملے گا وہ راستہ جادوگر اور کالے جادو کا ہے پھر ایسی ایسی جگہ ہم بھٹکیں گے جہاں ضمیر بھی ملامت کرے گا‘ زمانہ بھی ملامت کرے گا‘ مال جو خرچ ہورہا وہ بھی ملامت کرے گا‘ اٹھے ہوئے قدم‘ شرمندہ اٹھیں گے لیکن سب ملامتوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہمارے قدم اٹھیں گے مال خرچ ہوگا اور زندگی اسی طرح مایوسی میں گزر جائے گی۔
ہم قرآن سے دور ہوگئے!
کتنی عجیب بات ہے کہ ہم قرآن سےدور ہوگئے ہیں اور قرآن کی دنیا ہم سے دور ہوگئی ہے‘ ہم نے قرآن کو دور کیا ہے اور قرآن کا یقین ختم کیا ہے‘ میرے پاس ہندو سکھ آتے جاتے رہتےہیں غیرمسلم اپنی ضروریات مسائل مشکلات کے ازالہ کے لیے‘ میرا تجربہ ہے میں نے جس ہندو کو یا سکھ کو کوئی وظیفہ دیا ہے اور اس نے پڑھا ہو یقین کے ساتھ اور اس کو فائدہ نہ ہوا ہو مجھے یاد نہیں۔
عرشی وظائف چھوڑ دئیے تو ناکامیاں ہی مقدرہوں گی
آئیے! اپنی زندگی میں عرشی وظائف سے دوستی کریں‘ فرشی مسائل حل ہوجائیں گے کیونکہ عرشی وظائف قرآن حدیث جو انسانیت کے آزمائے ہوئے ہیں‘ زندگی میں بہت کمالات اسی میں موجود ہیں اور ہم نے اگر عرشی وظائف کو چھوڑ دیا تو ناکامیاں پریشانیاں ہمارا مقدر بن جائیں گی‘ ہر وقت کوئی نہ کوئی مشکل الجھن تکلیف اور پریشانی ہمارے ساتھ رہے گی لیکن بات یقین کی ہے! بے یقینی سے کبھی نفع نہیں ملتا اور یقین ہمیشہ فائدہ دیتا ہے اور یقین سے ہمیشہ خیر اور فیض ملتا ہے۔
آئیے! یقین پانے کے لیے اپنی زندگی میں تھوڑی سی کوشش کرلیں اور محنت کرلیں توجہ کرلیں‘ تھوڑے عرصہ میں زندگی میں آخری کامیابیاں خیریں اور برکات پائیں گے۔