محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! عبقری رسالہ بہت شوق سے پڑھتی ہوں‘ لوگوں کے بھیجے تجربات سے خوب مستفید ہوتے ہیں‘ آج کے پرفتن دور میں اگر کوئی حقیقت میں مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کررہا ہے وہ صرف ’’عبقری‘‘ ہے۔آج اپنے تجربات لے کر حاضر ہوئی ہوں‘ یقیناًگھریلو خواتین اس سے بھرپو رفائدہ اٹھائیں گی۔ آئیے! کچھ نئے مشاہدات جانتے ہیں:۔
نہانے کے بعد تیل کی مالش اور حیرت انگیز فائدہ
آپ کے ایک درس میں سنا تھا کہ نہانے کے بعد جسم پر تیل کی مالش کریں‘ ساری تھکن اتر جاتی ہے۔ ہم خواتین سارا دن گھر کے کاموں میں لگی رہتی ہیں‘ دوسروں کی خدمت کرتے ہوئے اپنے آپ کو بھول جاتی ہیں جب صبح دس بجے سے تین بجے تک کچن میں گرمی میں جان نکل رہی ہو تو سردرد سے پھٹ جاتا ہے‘ ٹانگوں میں جان ختم ہوجاتی ہے‘ ہمت ختم ہوجاتی ہے۔ اسی وقت میں نے اس ٹوٹکے سے بہت فائدہ پایا۔نہانے کے بعد تیل کی مالش سارے جسم پر کرلیں اور پھر کپڑے پہن لیں۔ ساری تھکن اتر جاتی ہے‘ جسم بالکل فریش اور ہلکا پھلکا ہوجاتاہے‘ ایسا لگتا ہے کہ صبح سے کوئی کام کیا ہی نہیں۔ میں نے تو اس چیز کو اپنا معمول بنا لیا ہے۔
میرے شوہر نے جب شیخ الوظائف کے درس میں مالش کے فوائد سنے تو میرامیرے شوہر سے جھگڑا شروع ہوگیا؟ آپ سوچ رہے ہوں گے وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ میرے شوہر صاحب نہانے کے بعد اتنا تیل لگا کر مالش کرتے تھے کہ کاٹن کا سفید سوٹ تیل سے بھر دیتے تھے اورپھر لڑائی کہ سوٹ صاف کیسے ہو؟ میں کہتی تھی کہ تیل کی مالش کرنے کے بعد رومال سے تیل صاف کرلیں کہ سفید کپڑے تیل سے خراب نہ ہوں وہ کہتے تھے شیخ الوظائف نے فرمایا ہے کہ مالش کے بعد صاف نہیں کرنا‘ ویسے ہی کپڑے پہننے ہیں۔ پھرنجانے کتنے سوٹوں کو تیل سے بھرا‘پھر ایک مرتبہ شیخ الوظائف نے پھر درس میں فرمایا کہ ہاتھوں کو ہلکا تیل لگا کر پورے جسم کی مالش کریں اس کے علاوہ شوہر نے بازوؤں والی بنیان پہننا شروع کردی جس کی وجہ سے میری بچت ہوئی یعنی سوٹ تیل سے داغدار ہونےسے بچ گئے۔پہلے ہمارےدرمیان لڑائی جھگڑا رہتا تھا مگر جب سے شوہر نے اور میں نے اس ٹوٹکے پر عمل کیا ہے‘ دماغی طور پر بالکل تازہ دم رہتےہیں‘موڈ ہمیشہ خوشگوار رہتا ہے‘ اسی وجہ سے جھگڑے بھی نہیں ہوتے۔ مزید شوہر خود کو بہت بہتر محسوس کرتے ہیں۔