محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم! جب سے آپ سے اور عبقری سےتعلق بنا میری تو دنیا ہی بدل گئی یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور آپ کی محبت کا اثر تھا کہ میرا رمضان اس دفعہ بھرپور اعمال میں گزرا بڑی تمنا تھی کہ آپ کے ساتھ رمضان گزرتا مگر ایسا نہ ہوسکا الحمدللہ مجھے ڈاڑھی رکھنے کی توفیق نصیب ہوئی۔ باجماعت نماز، تہجد، تلاوت قرآن، ذکر اذکار اور روزمرہ کے وظائف کی توفیق ملی۔ میں اپنی آنکھوں سے دیکھے بالکل سچے واقعات نہایت مختصر تحریر کررہا ہوں شاید میری کسی بات سے کسی ایک انسان کو بھی عبرت حاصل ہو جائے کہ جو انسان اللہ تعالیٰ کے حکم کی کھلے عام نفی کرتے ہیں ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ یہ سارے واقعات میرے اپنے خاندان کے ہیں مکافات عمل انسان کو کس طرح اپنی لپیٹ میں لیتا ہے۔ (۱)ہمارے ایک قریبی رشتہ دار نے جو چار بچوں کا باپ تھا ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر رہتے تھے۔ ایک دن خاوند بیوی میں جھگڑا ہوا تو خاوند نے تقریباً 50 دفعہ سے زیادہ مرتبہ بیوی کو طلاق دیدی۔سارے محلے نے سنا جرگہ بیٹھا علماء اکرام بیٹھے سب نے کہا اب کوئی صورت نہیں دونوں کی علیحدگی کروا دی پھر کچھ شریر لوگوں نے اس لڑکے کو مشورہ دیا کہ طلاق نہیں ہوئی ۔محض پانچ دن بعد وہ بیوی کو گھر لے آیا۔ تقریباً دس دن بھی نہیں گزرے کہ پھر جھگڑا ہوا تو وہ لڑکا ان سب لوگوں کو گالیاں دے رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ میں نے طلاق دی ہوئی تھی یہ مجھ سے حرام کاری کروا رہے ہیں ۔ بیوی کو اس نے بچوں سمیت نکال دیا بس اس کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ میں نے بیوی کو طلاق دے دی تھی تین چار دن بعد وہ مکمل پاگل ہوگیا ۔ اب وہ سارا دن گلیوں میں یہ ہی آواز لگاتا رہتا ہے کہ میں نے بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ (۲)ایک ہماری عورت جو قریبی رشتہ دار تھی اس نے اپنی سازباز سے پتہ نہیں کتنے گھر اُجاڑے پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس عورت کے بڑے بیٹے نے اچانک اپنی بیوی کو طلاق دے دی حالانکہ اس کے بچے بھی جوان تھے ابھی یہ بات ختم بھی نہ ہوئی کہ کچھ دنوں میں چھوٹے بیٹے نے چھوٹی سی بات پر اپنی بیوی کو طلاق دے دی سارا گائوں حیران و پریشان تھا تقریباً تین ماہ بعد اچانک اس کا بڑا بیٹا کھیتوں میں کام کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا ابھی چالیس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ خاتون کو فالج ہوا جسم کے کافی حصے کے علاوہ اس کی زبان بھی بند ہوگئی تقریباً ایک سال سخت اذیت اور تکلیف کے بعد وہ بھی فوت ہوگئی یوں ایک ہنستا بستا گھرانہ سال میں عبرت کا نشان بن گیا۔ (۳)ہمارے ساتھ والے گائوں میں ایک آدمی بیس پچیس سال سعودی عرب رہا بے۔ پناہ دولت کے علاوہ اس کے پاس آدھا کلو سونا تھا جس کی انہوں نے سالہاسال کبھی زکوٰۃ نہیں دی ۔ ایک دفعہ ان کو کچھ پیسوں کی ضرورت تھی۔ آٹھ لاکھ کا چیک لے کر وہ شخص بینک گیا پیسے نکلوائے واپسی پر کچھ لوگوں نے گن پوائنٹ پر پیسے چھین لیے اس صدمے سے وہ آدمی اور اس کی بیوی بے شمار امراض کا شکار ہوکر چارپائی پر پڑے ہوئے لوگوں کے لیے سامان عبرت بنے ہوئے ہیں۔ (۴)ہمارے ماموں کی اپنے سالے سے کسی بات پر توں تکرار ہوئی پاس ہی ڈنڈا پڑا تھا جو ماموں نے اٹھا کر سالے کے سر پر دے مارا وہ جوان لڑکا ایف اے کا طالب علم ڈنڈا لگنے کے ساتھ ہی گرکر تڑپا اور مرگیا۔ ماموں سےیہ کام اچانک اور اتفاقیہ ہوگیا ۔ کچھ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد ماموں گھر آگئے ٹھیک دو سال بعد ماموں کا بیٹا جو انتہائی خوبصورت اور وہ بھی ایف اے میں زیر تعلیم تھا ایک دوست کے پاس بیٹھا تھا اس کا دوست پستول صاف کررہا تھا کہ اچانک اتفاقیہ گولی چلی اور ماموں کے لڑکے کو جالگی اور وہ وہیں مرگیا۔ لڑکےکادوست کچھ عرصہ جیل میں رہنے کے بعد گھر آگیا۔