تلاش

(ڈاکٹر سعدیہ خان‘ راولپنڈی)
کان کا راستہ(سرنگ) کے بیرونی عضو یا حصے سے منسلک ہوا کرتا ہے۔ کان کا وہ حصہ جو گوشت پر مشتمل ہوتا ہے اسے پینا کہتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا راستہ ہوتا ہے جو کان کے پردے سے جا ملتا ہے۔ کان کا پردہ ہوا اور پانی سے محفوظ (ٹائٹ) ہوا کرتا ہے۔ کان کے پردے پانی سے اس وقت متاثر ہوتے ہیں جب کان کے درمیانی  حصے میں انفیکشن واقع ہو جائے، زخم ہو جائے یا پیپ پڑجائے۔ اس وقت کان کے پردے بھی غیر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ کان کا راستہ بھی اس وقت انفیکشن کا شکار ہوسکتا ہے۔ وہ بچے جو اکثر پیراکی کیا کرتے ہیں یا پانی میں کھیل کود کرتے ہیں‘ یا زیادہ نہاتے ہیں ان کے بیرونی کانوں میں انفیکشن کا خطرہ دوسروں سے زیادہ ہوا کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پانی میں مختلف قسم کے جراثیم ہوا کرتے ہیں۔ پھپوندی ہوا کرتی ہے جو براہ راست ان کے کانوں پر حملہ آور ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ان کے کانوں میں انفیکشن کی شکایت ہو جاتی ہے۔
علامات:(۱)کان کا راستہ، سوزش زدہ، سوجا ہوا اور سرخ دکھائی دے۔
(۲)کان کے بیرونی راستے پر یعنی اوپر ہی سرخی مائل دانے یا دھبے نمودار ہو جائیں۔ (ہلکے ہلکے زخم کی شکل میں)(۳)کان سے پیپ یا میل نکلنا شروع ہو جائے۔(۴)کان میں خارش یا تکلیف بھی ہوسکتی ہے۔(۵)بچہ کان کے بھرے بھرے ہونے کی شکایت کرے۔ اسے ایسا محسوس ہو جیسے اس کے کانوں میں پانی بھر گیا ہو یا سننے میں اسے تھوڑی دشواری ہورہی ہو۔ (۶)کبھی کبھی کانوں میں ایسی تکلیف ہونے لگے جس سے بچہ بے حال ہوکر رہ جائے۔
ماؤں کو ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہیے؟
بچے کو پیراکی کے لئے جانے دیں لیکن کوشش کریں کہ پانی اس کے کانوں میں براہ راست داخل نہ ہو۔ نہاتے ہوئے  ایسی کیپ پہنا دیں کہ جس سے اس کے کان پانی سے بچے رہیں۔چھوٹے بچوں کو اکیلے نہانے نہ دیں‘ خود نہلائیں‘بچے کو کان کھجانے یا کان چھونے سے روکنے کی کوشش کریں۔ اگر میل یا پیپ وغیرہ کانوںسے بہہ رہی ہوتو اسے اس طرح صاف کریں کہ کان کے راستے کو آپ کی انگلیاں چھو نہ سکیں۔ یعنی کان کی سرنگ کو نہ صاف کریں بلکہ باہر بہہ آنے والی گندگی صاف کردیں اگر بچے کو تکلیف ہورہی ہے تو معالج کے مشورے سے اسے کوئی پین کلر دی جاسکتی ہے۔