تلاش

(۱)ٹی وی مت دیکھیے ہارٹ اٹیک ہوجائے گا
یہ عادت بھی منشیات کے استعمال اور رحجان سے کم نہیں، گھنٹوں تک ٹی وی دیکھتے رہنا ہرگز فائدہ مند نہیں، ورنہ فالج اور امراض قلب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ جسم کا طویل عرصے تک غیر متحرک حالت میں رہنا خون میں شکر کی سطح متاثر کرتا ہے۔دفتر میں فون سننا ہوتو کھڑے ہوکر بھی سنا کریں یہ کیا کہ چھ گھنٹے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے گزار دیں اور بیماریاں اندر ہی اندر پلتی رہیں۔‘‘
(۲)چھوٹی چھوٹی بیماریوں کو ٹالتے رہنا
زندگی میں اگر کسی کا بلڈپریشر کبھی نہیں بڑھا تو بھی 50 سال کے ہوتے ہی 90 فیصد افراد کا بلڈپریشر بڑھتا ہے۔ اسی طرح معمولی نزلہ، زکام، بخار، کھانسی، جوڑوں کے درد اور غیر معمولی عارضوں کے لئے خود علاجی نہ اپنائیں۔ معالج سے رجوع کریں۔ ممکن ہے جو مانع درد ادویات آپ کھا  رہے ہوں وہ دل کو کمزور کررہی ہوں اور براہ راست نقصان پہنچ رہا ہو۔
(۳)خراٹوں کو خاطر میں نہ لانا
آپ محض سونے والوں کی ذہنی کوفت کو خاطر میں لاتے ہیں مگر خزاٹے کا مریض Obstructive sleep apnea میں مبتلا ہے۔ اس عارضے کو آپ معمولی نہ سمجھیں اس میں مبتلا افراد کی نیند وقتی طور پر سانس رکنے کی وجہ سے اچاٹ ہوتی ہے اور وہ منہ سے سانس لیتا ہے اس عارضے میں بلڈپریشر خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے اور دل کا مرض بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ عموماً خزاٹے کے مریض پوری رات سونے کے بعد بھی بیدار ہونے پر خود کو تھکا ہوا محسوس کرتے ہیں۔
(۴)سرخ گوشت کھانے کی عادت
کبھی کبھار گائے کا گوشت کھانے میں کوئی قباحت نہیں مگر اس کو مستقل عادت نہ بنائیں۔ بہت دن تک محفوظ کیا جانے والا سرخ گوشت دل کی شریانوں کو تنگ کرتا ہے اور اس سے بڑی آنت کا کینسر ہوسکتا ہے۔
(۵)سگریٹ نوشی کرنا یا سگریٹ پینے والوں کیساتھ رہنا
یہ دونوں صورت حال خطرے سے خالی نہیں ’’سگریٹ نوشی باعث ہلاکت ہے‘‘ آپ نے لاکھوں مرتبہ اس پیغام کو پڑھا اور سنا ہوگا مگر سنجیدگی سے دھیان نہیں دیا۔ یاد رکھئے کہ سگریٹ نوشی دل کی مکمل تباہی ہے کیونکہ اس سے خون میں پھٹکیاں بننے کا عمل تیز ہوتا ہے اور ان پھٹکیوں کے باعث دل تک خون پہنچانے والی نالیاں تنگ ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں اس سے شریانوں میں پلیک بھی جمع ہوتا ہے۔ جو لوگ خود سگریٹ نہیں پیتے لیکن دھوئیں سے آلودہ ماحول میں رہتے ہیں وہ بھی اپنی صحت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مضر صحت اجزاء اور دھواں ان کی سانس کی نالیوں کے ذریعہ جسم تک پہنچتا ہے اور بالواسطہ طور پر ان کے دل بھی متاثر ہوتے ہیں۔
(۶)مایوسی اور جبر
اگر آپ زندگی میں تفکرات، بحرانوں اور جذباتی نقصانات جھیل رہے ہوں تو یہ ساری کیفیات دل سے خراج وصول کرتی ہیں۔ کوشش کریں کہ مایوسی کی کیفیت سے نکلیں، جذبات پر قابو پائیں تاکہ دل کی کارکردگی پرمنفی اثر نہ پڑے، دبائو کو اندر ہی اندر چھپا کے نہ رکھیں یہ خطرناک بات ہے۔ ہنسی مذاق کریں۔ دوستوں رشتہ داروں سے قربت بڑھائیں۔ کسی ہمدرد سے کہیں سنیں اور مثبت طرز عمل میں خود کو شریک کرکے دل کی کریں مکمل حفاظت کیونکہ اگر یہ نہ سنبھالا گیا تو آپ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
(۷)بہت زیادہ کھانا
اپنی جسمانی ضرورت کو پہچان کر ناپ تول کے کھانا اچھی عادت ہوتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ کھانا ڈیپریشن کی علامت بھی ہوتی ہے اگر کسی طرح ضرورت سے زیادہ کھا لیا جائے تو ورزش ضرور کرلینی چاہئے بلکہ بھوک کا کچھ احساس رکھ کر کھانا ترک کر دینا ہی صحت مندی کی دلیل ہے۔ غذا کو حلق تک بھر لینے سے معدہ ہی نہیں دل کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
(۸)بڑھتی ہوئی عمر کے تقاضوں کو نہ سمجھنا:
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے تھک جانا اور لفٹ کا انتظار کرنا، چہل قدمی سے تازہ دم نہ ہونا بلکہ ہانپنے لگنا اور معمولی کام کرتے ہی تھکن کا شکار ہو جانا خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔ ان علامات کو ہم لوگ بیماری کی شروعات نہیں سمجھتے اور دراصل یہی غلطی کرتے ہیں۔ کیا ہم ہارٹ اٹیک کے چار چھ گھنٹوں بعد ڈاکٹر سے ملنے جائیں گے؟
(۹)پھلوں اور سبزیوں سے گریز
دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے سب اہم غذائیں پھل اور سبزیاں ہی ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ مغزیات، سالم اناج، کم چکنائی والا دودھ، دہی، پنیر وغیرہ بھی استعمال کرنے  چاہئیں۔ خوراک کا آدھا حصہ پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل ہونا چاہئے۔جو لوگ دن میں پانچ سے زیادہ مرتبہ پھل اور سبزیاں استعمال کرتے ہیں انہیں اسٹروک اور امراض قلب کا خطرہ کم سے کم ہوتا ہے۔
(۱۰)نمک کا بکثرت استعمال
بارہا طبی حلقوں نے اس جانب توجہ مرکوز کروائی ہے کہ غذا میں نمک کا استعمال کم کر دینا ضروری ہے۔ یہ بلڈپریشر بڑھاتا ہے اور بلڈپریشر کی وجہ سے گردوں کے ناکارہ ہو جانے اور ہارٹ اٹیک کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر کو یومیہ 2300 ملی گرام سے کم سوڈیم اپنے کھانوں میں استعمال کرنا چاہئے اور جنہیں بلڈپریشر کی شکایت ہو یا جن کی عمر 50برس ہوگئی ہو انہیں 1500 ملی گرام تک نمک استعمال کرنا چاہئے مگر اپنا لائف اسٹائل ضرور مدنظر رکھیں۔ ہم آٹا گوندھتے وقت سے نمک کا استعمال شروع کرتے ہیں تو ہر چیز میں چٹکی بھر نمک سے ذائقہ دو آتشہ کرتے کرتے بیماری کو دعوت دیتے ہیں۔ آج سے کم از کم تندوری روٹی کھانے کی عادت ہی ترک کردیں کیونکہ اس آٹے میں نمک کچھ زیادہ ہی مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔ گھر کی روٹی میں بجائ نمک کے السی کے بیج پیس کر شامل کردیں اور بھوسی ملا آٹا کھائیں تاکہ جسمانی صحت مکمل طور پر بحال رکھی جاسکے۔