تلاش

قارئین! یہ کیسے ممکن ہے! ہاں یقیناً ممکن ہے میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں‘ جتنی بھی وبائی بیماریاں ہیں جیسے کورونا  آپ نے ناک اور منہ کو ہی ڈھانپا ہے‘ ہاتھوں اور آنکھوں کو نہیں ڈھاپنا‘ پاؤں اور جسم کو نہیں ڈھانپا وہ تو ویسے ہی پہلے ڈھکا ہوا ہے۔مجھے اس کے متعلق تجربہ ہوا پہلے وہ تجربہ بتانا چاہوں گا۔چند بار حج پر حاضری ہوئی وہاں ہر بار وائرس پھیلتا ہے کیونکہ پوری دنیا کے لاکھوں لوگ آئے ہوتے ہیں‘ اس وائرس کا اثر نزلہ زکام‘ ریشہ‘ کھانسی‘ سخت بخار‘ ہڈیوں میں سخت درد‘ طبیعت بوجھل‘ جسم بے چین‘ اعصابی کھچاؤ‘ تناؤ بلکہ ایک مرتبہ میں خود اس کی لپیٹ میں آگیا ‘بہت پرانی بات ہے‘ کئی دن بستر پر پڑا رہا‘ پھر میں نے یہ ترکیب نکالی کہ جب بھی میں وہاں جاتا تھا‘ زیتون کے تیل کا چھوٹا ڈبہ لے لیتا تھا‘ بس دن میں چند بار زیتون کے تیل کو انگلی پر لگایا اور ناک کے دونوں نتھنوں کے اندر گھما دیا‘ اس کا نتیجہ یہ نکلا نہ نزلہ‘ نہ زکام‘ نہ کھانسی‘ نہ ریشہ‘ نہ بدن میں توڑ پھوڑ۔
بیمار ہیں تودم کملی والے ﷺ سے کروائیں!
ایک مرتبہ کراچی کے ایک بہت بڑے آدمی روضہ اطہرﷺ کے قریب مجھے ملے ‘ وہ بہت تکلیف میں تھے‘ مجھ سے کہنے لگے: ہر سال حاضری ہوتی ہے بہت گولیاں اور ادویات کھاتا ہوں لیکن اس وائرس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں‘ کیا کروں؟ حج کے ایام میں پوری دنیا کے لوگ جمع ہوتے ہیں‘ طرح طرح کی سانسیں‘ مزاج‘ طبیعتیں ساتھ لاتے ہیں‘ ہر بار کوئی نہ کوئی تکلیف ہوجاتی ہے اب گلا خراب ہے‘ بہت آخری درجہ کی اینٹی بائیوٹک کھارہا ہوں‘ بھاپ لے رہا ہوں‘ آرام کررہا ہوں جسم ٹوٹا ہے‘ کئی دنوں کے بعد آج مسجد نبویﷺ آیا ہوں‘ مجھ سے کہنے لگے: آپ مجھے دم کردیں‘ میں نے روضہ اطہرﷺ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہاں بڑوںکے پَر جلتے ہیں‘ دم تو کملی والے ﷺ سے کروائیں۔ 
مجھ سے ایک ٹوٹکہ لے لیں!
میں آپ کو ایک ٹوٹکہ بتاتا ہوں‘ پھر اپنا واقعہ سنایا کہ مجھے کیسے بخار ہوا‘ پھر میں نے کیسے زیتون کا تیل ناک میں حتیٰ کہ سوتے وقت ناک میں انگلی سے زیتون کا تیل لگایا اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ رات کو نیند بہت اچھی آئی حتیٰ کہ میرے نزدیک بعض لوگ خراٹے لیتے اس کی وجہ سے سب کی نیند خراب ہوتی تھی ان کے ناک میں زیتون کا تیل لگوایا اس کا اور زیادہ فائدہ اور بہتری ہوئی حتیٰ کہ میں نے جن جن احباب کو زیتون کےتیل کا بتایا‘ انہوں نے ناک کے دونوں نتھنوں میں لگایا تو انہوں نے بتایا نیند اچھی رہی‘پہلے رات کو نیند ٹوٹ ٹوٹ جاتی تھی‘ کوئی کہنے لگا: اعصابی تناؤ‘ کھچاؤ کو فرق ہوا‘ صبح اٹھا تو ہشاش بشاش تھا پہلے بہت لمبی نیند لیتا تھا اور جسم میں اعصابی‘ جسمانی کھچاؤ رہتا تھا ‘ اب مختصراً نیند بھی ہے تو جسم بالکل مطمئن اور طبیعت پرسکون ہے۔ بہرحال لوگوں نے ناک میں تیل لگانے کے بہت فوائد بتائے۔
جو فائدہ میں آپ کو بتارہا ہوں وہ فائدہ بھی بہت زیادہ کہ جس جس کو بھی یہ بتایا وہ وبائی بیماریوں وائرس اور پھیلنے والی تکالیف سے محفوظ رہا۔ میں نے موصوف کو یہ واقعات خود سنا کر انہیں مشورہ دیا کہ آپ بھی یہ ضرور کریں۔ چند دن کے بعد مجھے پھر ملے‘ کہنے لگے: آپ کا ٹوٹکہ کیا کمال کا تھا‘ پھر ایک بار مجھے کراچی میں ان سے ملنےکاموقع ملا اور پھر وہی ہمارا موضوع رہا اور کہنے لگے: میں نے آپ کے زیتون والے ٹوٹکے کو اتنا عام کیا اتنا عام کیا اور جس جس کو بھی بتایا سمجھایا اس نے تعریف کی آج تک کسی ایک نےبھی شکوہ نہ کیا‘ بہت فائدہ بخش نتیجہ ملا حیرت انگیز اتنا کہ میرے گُمان خیال سے بھی بالاتر۔ 
آپ کبھی بھی وبائی امراض کا شکار نہ ہوں گے
قارئین! آپ کو کوئی تکلیف نہیں‘ اللہ کرے کبھی نہ ہو‘ آپ کبھی کسی وبائی بیماری میں مبتلا نہ ہوئے آئندہ بھی آپ کی حفاظت‘ کفایت اور کفالت ہو اور اللہ کی مدد ملے مگر آپ موجودہ فضائی آلودگی سے بھی بچنا چاہتے ہیں اور لاعلاج بیماری کے اچانک حملے سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو رات سوتے وقت کم از کم اور صبح‘ ورنہ تین وقت تو لازم ہے اگر تین وقت نہیں تو کم ازکم رات سوتے وقت اچھی طرح سے ڈراپر کے ذریعے یا انگلی کے ذریعے زیتون کا تیل لگا کر سوئیے۔ آپ یقین جانیے! میری بات بہت زیادہ لوگ سننے‘ پڑھنے اور ماننے والے ہیں‘ میں نے جس جس کو بھی یہ ٹوٹکہ دیا وہ نہایت محفوظ اور حیرت انگیز طور پر صحت و تندرستی اس کو ایسی ملی کہ گمان اور خیال سے بالاتر۔ آئیے! آپ بھی زیتون کا تیل اپنے پاس رکھیں اور اگر زیتون کا تیل نہیں تو سرسوں کا تیل لے لیں‘ وہ بھی بہت مفید مؤثر ہے ‘انگلی یا ڈراپر سے ‘ ناک کے دونوں نتھنوں میں آخر تک پہنچائیں پھر چند دنوں میں نہیں بلکہ اسی وقت اس کی تاثیر اور کمال دیکھیں۔ مجھے فائدہ ہوا‘ بے شمار کو فائدہ ہوا‘ آپ بھی فائدہ پائیں‘ ان شاء اللہ۔ اور اپنے آزمودہ تجربات مجھے ضرور لکھیں تاکہ نسلوں کے لیے آپ کا صدقہ جاریہ رہے‘منتظر رہوں گا!