تلاش

نبی پاکﷺ نے آج  سے صدیوں پہلے ہی اپنے ارشاد پاک میں فرمایا تھا کہ ’’سُرمہ لگایا کرو۔‘‘طب نبویﷺ میں آپ کو بہت سی ایسی احادیث مبارکہ ملیں گی کہ جن سے آپ کو سرمے کی افادیت کا پتہ چلے گا۔ آپﷺ کے تمام اعمال اور فرامین ایسے ہیں جن پر عمل کرنے میں ہی امت کی فلاح و بہبود ہے۔ احادیث کے مطالعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ محبوب خدا حضورﷺ رات کو دو سلائی سرمے کی پہلے دائیں آنکھ میں پھر دو سلائی بائیں آنکھ میں پھر ایک ایک سلائی دونوں آنکھوں میں ڈالتے تھے۔زمانہ قدیم سےسرمے کو آنکھوں کی خوبصورتی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مصری عورتیں اپنی آنکھوں کو خوبصورت بنانے کے لیے سرمہ لگایا کرتی تھیں۔ سرمے کے بے شمار طبی فوائد ہیں لیکن اس پربات کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ آپ کو سرمے کے بارے میں بتایا جائے کہ دراصل یہ کیسا جزو ہے اور کہاں سے آیا ہے اور اس کی دیگر تفصیلات کیا ہیں۔
سرمہ کیا ہے؟:سرمہ ایک سیاہ رنگ کا نہایت چمکدار پتھر ہے۔ یہ قدرتی کانوں میں پایا جاتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق سرمے میں معمولی سی گندھک بھی شامل ہے۔ پاکستان میں سرمے کا پتھر چترال، کوہستان اور باجوڑ کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا کابہترین سرمہ چترال اور اصفہان میں ملتا ہے۔
سرمہ کی مفید اقسام! آپ کے کام آئیں گی
طبی لحاظ سے سرمے کا مزاج دوسرے درجے میں سرد اور تیسرے درجے میں خشک ہے۔ سرمے کی ایک قسم ’’سُرمی‘‘ کہلاتی ہے جس میں سلفر(گندھک) اور زنک (جست) شامل ہے۔ سُرمے کی ایک قسم ’’سُرمہ سفید‘‘ ہے۔ لوگ غلط فہمی اور معلومات نہ ہونے کی وجہ سے اسے سرمہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ سرمہ ہے ہی نہیں، یہ تو آنکھوں کادشمن اور نہایت نقصان دہ ہے۔ یہ تو سنگ مرمر کی ایک قسم ہے، بھلا سنگ مرمر کو آنکھوں جیسی نازک عضو میں کیسے لگایا جاسکتا ہے؟ لیکن بہت سے لوگ معلومات لئے بغیر اسے استعمال کرکے ناقابل تلافی نقصان اٹھاتے ہیں۔
سرمے کو بناتے وقت اسے اتنا زیادہ کھرل یعنی پیسا جاتا ہے کہ اس کی چمک ختم ہو جاتی ہے اور اس کے نقصان دہ اجزاء باربار کی رگڑ سے ضائع ہو جاتے ہیں اور ان میں ایسی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ یہ ہماری آنکھوں کے لیے یوں سمجھیںکہ بہت سے مسائل اوربیماریوں میں شفائی اثرات کاحامل ہو جاتا ہے۔ سرمہ آنکھوں کی جھلیوں اور پردوں پر اپنے شفائی اثرات ڈال کر مختلف امراض سے نجات کا باعث بنتا ہے لیکن یہ سب فوائد اصل سُرمے سے ہی ممکن ہیں۔
سرمہ کے پتھر کو عرق گلاب میں ڈبوئیے
ماہرین کا خیال ہے کہ سادہ سُرمہ سے صحت خراب ہوتی ہے کیونکہ اس میں لیڈ(سیسہ) اور آکسائیڈ موجود ہوتا ہے جو آنکھوںکے لیے مضر ہے۔ 1971ء میں حکومت نے یہ حکم بھی دیا تھا کہ سرمہ میں لیڈ کا تناسب کم ہونا چاہئے اور اس بناء پر سرمہ کے لائسنس جاری کئے گئے۔ اب لیڈ کی مقدار کو کم کرنے کے لیے پتھر کو عرق گلاب میں ڈبویا جاتا ہے۔ اس عمل سے لیڈ الگ ہو جاتا ہے۔ اس عمل کو سات بار دہرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد پتھر کو خشک کرکے پیس لیا جاتا ہے۔