معاشی پریشانیاں اور گھریلو مسائل
کھیل بھی کسی شخصیت کے نکھار میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ کھلاڑی کی زندگی نظم و ضبط کے علاوہ قوت برداشت کے ساتھ ہی اس کی بہترین کارکردگی کا تقاضا کرتی ہے اور یہ تمام چیزیں یکجا ہوکر اسے ایک بہترین شخصیت کے روپ میں ڈھال دیتی ہیں ۔ معاشرتی ناہمواریاں، معاشی پریشانیاں، صحت اور خاندانی مسائل کے ساتھ ہی کاروباری اور ملازمت سے وابستہ پیچیدگیاں ایسی چیزیں ہیں جن کا سامنا کم و بیش ہر ایک کو کسی نہ کسی سطح پر کسی نہ کسی حد تک کرنا ہی ہوتا ہے اور زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ کھیلوں کی شخصیات کو بھی اپنی بھرپور صلاحیتوں سمیت ان سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ اس تیز رفتار دور میں اردگرد پھیلے ہوئے بے شمار مسائل، تفکرات، مسلسل ذہنی دبائو اور کام کی زیادتی عام لوگوں کے لیے بعض اوقات ناقابل برداشت ہو جاتی ہے لیکن کھیلوں سے جڑے افراد ان مصائب کا سامنا قدرے آسانی سے کرلیتے ہیں۔
موبائل سے ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل
دیکھا گیا ہے کہ کمزور افراد بے پناہ کام اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اسٹریس کے باعث امراض قلب، بلند فشارخون اور ذیابیطس جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ذہنی امراض میں گرفتار ہونے لگتے ہیں تو کچھ کو نفسیاتی مسائل میں بھی گھرا دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ اس مصیبت سے جان چھڑانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں لیکن منفی سوچ اور منفی رویہ انہیں ایسے مسائل سے نکلنے ہی نہیں دیتا۔ ہمارے یہاں موبائل‘ انٹرنیٹ اور کمپیوٹرز تفریح کا واحد ذریعہ رہ گئے ہیں جن کے سامنے بیٹھ کر وقت گزارنے والے افراد ان دو چیزوں سے پرسکون ہونے کو کافی سمجھ لیتے ہیں قطع نظر اس کے کہ گھنٹوں ایک جگہ بیٹھ کر سستی اور کاہلی کی عادت پڑتی ہے جبکہ ہڈیوں اور جوڑوں کے امراض بونس میں مل جاتے ہیں۔
خود کوتازہ دم اور صحت مند رکھیے
لائف اسٹائل میں مثبت تبدیلی خود کو کسی بھی قسم کی سرگرمی میں ملوث کرکے پیدا کی جاسکتی ہے خاص طور پر کھیلوں کے ذریعے خود کو جسمانی اور ذہنی دونوں اعتبار سے فٹ رکھا جاسکتا ہے۔ اگر کھیل جیسی سرگرمی کو زندگی کے معمولات میں شامل کرلیا جائے تو اس کے مثبت اثرات زندگی پر بہت جلد نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ کھیلوں کی مدد سے تفکرات، مسائل، رکاوٹوں اور انسانی رویوں کی اذیت سے خود کو محفوظ رکھنے میں مہارت حاصل ہوسکتی ہے جبکہ ان سے منسلک ہوکر جسم کی مضبوطی، نظم و ضبط، احساس ذمہ داری، جدوجہد، وقت کی قدر، مقابلے کا رحجان، صبر و برداشت اور بہتر حکمت عملی جیسی مثبت چیزیں بھی انسان کا ایک حصہ بن جاتی ہیں۔ کامیابی کا احساس اور کامیابی سے ہمکنار کرانے کا یہ عمل تفریح کے ساتھ ہی کسی شخصیت کے لیے وہ سنگ میل بنتا ہے جو مسائل میں گھرے معاشرے میں مشکلات سے نبرد آزما ہونے کی طاقت عطا کرتا ہے جبکہ فیصلہ سازی کے علاوہ شخصیت کوطاقتور، متوازن اور پروقار بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ہمیشہ چست رہیں!
کاموں میں مصروفیت ہمیں کھیلوں کی طرف متوجہ ہونے کا وقت ہی نہیں دیتی ہے کیونکہ ہمارا بیشتر وقت تو کاموں اور مصروفیت کی نذر ہو جاتا ہے اور جب ہمیں یہ سوچ کر شرمندگی ہوتی ہے تو اس کی دلیل بھی ہم خود ہی تلاش کرلیتے ہیں کہ کاموں اور کھیل کو یکجا کر دینا ہماری تباہی کا باعث بھی تو بن سکتا ہے لیکن اس تحقیق سے انکار ممکن ہے کہ کھیلوں سے احتراز کرتے ہوئے صرف کاموں میں مگن رہنے والے افراد سست، کاہل اور غبی ہوکر رہ جاتے ہیں۔ کھیلوں کی ایک معروف شخصیت نے اس حوالے سے ایک سروے کیا تو بات سامنے آئی کہ کاموں کی جگہ سے باہر کی دلچسپیاں نہ صرف لوگوں کو خوش و خرم بلکہ چاق و چوبند رکھتی ہیں ۔یہ بات اب پوری طرح ثابت ہوچکی ہے کہ مشاغل سے دوستی ملازمت کے دوران پیدا ہونے والی فرسٹریشن، اسٹریس اور ذہنی الجھن کا مداوا کردیتی ہے اور انسان نہ صرف نئی کامیابیوں کی طرف قدم بڑھانے کے قابل ہو جاتا ہے بلکہ اس کی استعداد کار کی تعمیر بھی ہوتی رہتی ہے۔ آج ہر شخص کے پاس بے پناہ کام ہے، ہر کوئی مصروف ہے جسے قابو کرنے یا اس بارے میں سوچنے کا وقت بھی نہیں مل رہا ہے اور ہم میں سے بیشتر افراد کو فراغت کے چند لمحات مل جانے پر یہ پشیمانی ہوتی ہے کہ انہوں نے خود کو کاموں میں غیر ضروری طور پر الجھا کر بہت ساری مثبت سرگرمیوں سے منہ موڑ لیا ہے مگر آج ایسے حالات میں جب زندگیاں دبائو تلے سسک رہی ہیں اور لطف کا عنصر کم سے کم ہوتا جارہا ہے تو آپ کا مشغلہ یا شوق وہ آرام اور سکون فراہم کرسکتا ہے جس کی کمی آپ کو محسوس ہوتی ہے۔ مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے کر خود کو ری چارج کریں اور اپنے آپ سے لطف اٹھائیں جس سے آپ کی کارکردگی میں تو بہتری پیدا ہوگی جبکہ کاموں کے دوران آپ کی بے مثال صلاحیتیں بھی بلندیوں کو چھو لیں گی۔