قارئین یہ آج سے 25،30 سال پہلے کا واقعہ ہے۔ میری والدہ کی ایک رشتہ دار تھیں، میری والدہ انہیں نانی ہی کہتی تھیں۔وہ سات بیٹوں کی ماں تھی، مجھے ان کےصرف دو بیٹوں کے نام کا پتہ ہیں باقی کے نام مجھے معلوم نہیں ایک کا نام سنّا تھا اور ایک بیٹے کو شمسو کہتے تھے۔ سب شادی شدہ تھے۔
زندگی کا دردناک منظر
ماں عمر رسیدہ ہوگئی تھی، والد تھا نہیں، ماں کے بڑھاپے کی یہ حالت تھی کہ وہ ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتی تھی جیسے چھوٹا بچہ چلنا سیکھتا ہے اس طرح سے وہ چلتی تھی اس کا کوئی بھی پرسان حال نہیں تھا۔ سات بیٹوں میں سے کوئی بھی اس کا خیال نہیں رکھتا تھا۔ ماں بھوک سے تڑپتی رہتی، کھانے کے لئے مانگتی رہتی، کوئی بھی اس کو کھانے کے لئے نہ دیتا میری امی کہتی ہیں کہ میں ان کے گھر گئی میں نے دیکھا کہ سخت سردی کے موسم میں اس بوڑھی عورت کو ٹوٹی پھوٹی چارپائی پر بھینسوں کے باڑے میں رکھا ہوا تھا اور ان پر پتلی سی میلی کچیلی سی رضائی تھی جس میں سے سردی بھی نہیں رک سکتی تھی اور اس کی پائینتی والی سائیڈ پر بڑا سا ٹوکرا رکھا ہواتھا ۔ کچی سی دیواریں تھیں، اس میں کھڑکی لگی ہوئی تھی ، جس میں لوہے کے سریے لگے ہوتے ہیں اس میں بہت بڑے بڑے خلا تھے ساری ہوا اندر آ رہی تھی اور سردی سے ان کا برا حال تھا۔چارپائی کے ایک طرف بیل بندھا ہوا تھا دوسری طرف بھینس، ان کو ذرا بھی خیال نہ آیا کہ ہماری بوڑھی ماں کو کوئی جانور نقصان نہ پہنچا دے۔
ماں کی آہوں نے اپنا اثر دکھایا
میر ی والدہ بتاتی ہیں کہ جب بھی وہ(شمسو کی ماں) شمسو کے گھر جاتی تھی تو وہ اس کو دور سے ہی دیکھ کر اپنی بیوی سے کہتا’’اس سور کو میرے گھر میں نہ آنے دیا کر‘‘۔ میری نانی اماں بتاتی تھیں کہ جب ان کے آخری وقت میں ان کے گھر گئی تو کہنے لگی’’آڑے کوئی ایک روٹی دے دے بھوکامر گیا پیٹ ‘‘ یعنی کوئی جلدی سے ایک روٹی دے دے میرا پیٹ بھوک سے مر رہا ہے اور میری والدہ کا ہاتھ پکڑ پکڑ کر اپنے پیٹ پر زور سے رکھتی تھی پتہ نہیں کتنے دنوں سے بھوک سے بے تاب تھی حتی کہ اس نے تڑپ تڑپ کر بھوک اور پیاس کی شدت سے جان دے دی۔ اس کے بعد بربادی شروع ہوگئی ایک بیٹے کی بیوی کا ذہنی توازن درست نہ رہالوگوں کے گھروں میں جا کر ان کے برتنوں میں خودہی بغیر اجازت کے دیکھنے لگ جاتی کیا رکھا ہے لوگ اس سے اپنی چیزیں چھپا چھا کر رکھتے دوسرے بیٹے کی اولاد اپنی بوڑھی ماں کو مارتی تھے اس کی ساری پنشن چھین کر لے جاتے تھے آگے پیچھے ماں کی خبر نہیں لیتے تھے ۔ ایک بیٹے کی اولاد میں سے دو بیٹوں کا تو کچھ پتہ ہی نہیں تھا مرگئے ہیں یا زندہ ہیں۔ ایک بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو کر دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں تھی ۔
عبرت کا نشان بننے والاخاندان
جو شمسو تھا اس کی جب موت آئی تو بہت بری طرح آئی اللہ معاف فرمائے میری والدہ کہتی ہیں کہ اس پر ایک دن اور ایک رات حالت نزع طاری رہی، اس کی سانس نہیں نکلتی تھی ایک بہت درد ناک آواز نکلتی تھی جو بہت دور دور تک جاتی تھی اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ ہو رہا تھا۔ اس کی آواز سے معلوم ہوتا تھا بہت سخت تکلیف میں ہے اور جب آواز نکلتی تھی اس کا پورا منہ کھل جاتا تھا اتنا منہ کھلتا تھا کہ اس کے اندر سےحلق تک صاف نظر آتا تھا بس پانی مانگتا تھا ایک رات اور ایک دن کے بعد اس نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی اور اب شمسو کا بیٹا شرابی ہے ،شراب پیتا ہے، ہر وقت نشے میں دھت رہتا ہے ، شراب پی کرماں کو غلیظ غلیظ گالیاں دیتا ہے مارتا ہے اس کی پنشن میں سے اس کو کچھ نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ اپنی بیٹیوں کو یہاںآنے سے منع کر دے، یہاں کیا لینے آتی ہیںاور ماں کو دھمکی دیتا ہے اگر پیسے دے گی تو اس گھر میں رہے گی ورنہ نکل جا میرے گھر سے، بیوی کو کچھ نہیں کہتا ماں کو ذلیل کرتا ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔یہ ایک فصل ہے ، جیسی بوئو گے ویسی کاٹو گے،اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کا فرما نبردار بنائے ۔