تلاش

محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!آپ کا انتہائی شکر گزار ہوںکہ آپ نے جنتی تعویذ کے بارے میں بتایا۔ دسویں روحانی کلاس میں آپ نے اس کے فضائل بیان کیےاور پھر عبقری سوشل میڈیا پر بھی اسے شائع کیا گیا۔
میری بہن گزشتہ چار سال سے بیماری کی وجہ سے بیڈ پر پڑی ہوئی تھی۔وہ اچانک بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو جاتی‘رات کو نیند سے اچانک جاگ جاتی اور چیخنا چلانا شروع کردیتی۔اسے سینے میں شدید تکلیف ہوتی اور بتاتی کے بعض اوقات ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی اس کا سینا چیر رہا ہو۔ہم نے علاج کروانا شروع کیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے پھیپھڑے خراب ہیںاور جگر بھی کمزور ہو چکا ہے۔وہ چند دن ہسپتال میں ہی زیر علاج رہی‘پھر کچھ ادویات کا لکھ کر اسے گھر بھیج دیا گیا۔ہم نے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ادویات استعمال کروانا شروع کردیں۔شروع میں کچھ افاقہ محسوس ہوا مگر تقریباً ایک ماہ بعد پھر سے وہی مسائل ہونا شروع ہو گئے۔بیماری کی وجہ سے اسے پڑھائی چھوڑنا پڑی‘وہ آہستہ آہستہ مزید بیماریوں کا شکار ہوتی جا رہی تھی مگر اس کا مرض سمجھ میں نہ آرہا تھا،ہم نے مختلف معالج بدل کر دیکھ لئے مگر بہن صحت یاب نہ ہو سکی۔
چند ماہ قبل تسبیح خانہ میں دسویں روحانی کلاس ہوئی جس میں اپنے ایک دوست کے اصرار پر شامل ہوا۔اس میں آپ نے اور لوگوں نےبہت سے نایاب روحانی موتی بتائے۔پھر جب آپ نے جنتی تعویذ کے بارے میں بات کی تو مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میرے تمام مسائل کا حل اسی میں ہے۔ آپ نے اس تعویذ کے فوائدکے بارے میں بتایاتو میری دلچسپی مزید بڑھ گئی ۔آپ نے مزید شفقت یہ فرمائی کہ اس تعویذ کی پوسٹ عبقری سوشل میڈیا پر اپلوڈ کروادی۔
سالہا سال سے بیمار مریض صحت یاب
عبقری سوشل میڈیا سے دیکھ میں نے تعویذ لکھا اور اسے چمڑے میں بند کر کےبہن کو گلے میں پہنا دیا۔پہلے دن اس کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی مگر تعویذ نہ اتارا ۔چند دن بعد کچھ افاقہ ہونا محسوس ہوا۔اللہ کا شکر ہے اب اس نے چلنا پھرنا شروع کردیا ہے ورنہ بیماریوں نے اسے حد سے زیادہ کمزور کر دیا تھا۔گھر کے کام کاج میں بھی حصہ لینا شروع کردیا اور سکول کی تعلیم دوبارہ شروع کردی ہے۔ابھی کچھ مسائل محسوس ہوتے ہیں مگر کافی حد تک ختم ہو گئے۔امید ہے وہ بھی ان شاءاللہ جلد حل ہو جائیں۔
 قارئین!جنتی تعویذ کے مشاہدات پہلے عبقری میگزین میں شائع ہو چکے‘ بے شمار لوگوں نے اس تعویذ کے ذریعہ مشکلات ٹلوائیں‘ مسائل حل کروائے اورجادو جنات جیسے مسائل سے نجات پائی اور آج خوشحال زندگی گزار رہے۔
 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ تعویذ حضورﷺکے معجزہ کے طور پر نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ جس وقت حضور سرور کونینﷺ کی ولادت باسعادت کا مبارک وقت قریب ہوا تو آپ ﷺکی والدہ محترمہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو خواب میں کچھ فرشتے نظر آئے ۔ انہوں نے عرض کیا: آپ کو ساری کائنات میں افضل ترین ذات گرامی کا حمل ہے۔ جب آپؓ ان کو جنم دیں تو ان کا نام محمد ( ﷺ )رکھئے گا۔ پھر سونے کے طباق میں ایک تعویذ رکھا ہوا پیش کیا کہ یہ تعویذ ان کو ولادت کے بعد پہنا دیجئے گا۔وہ مبارک تعویذ(جنتی تعویذ) یہ ہے:۔
اعیذ بالواحد من شر کل حاسد۔ وکل خلق رائد۔ من قائم وقاعد۔ عن السبیل عاند۔ علی الفساد جاھد۔ من نافث اوعاقد۔ وکل خلق مارد۔ یاخذ بالمراصد ۔فی طرق الموارد۔ انھاھم عنہ باللہ الاعلیٰ۔ واحوطہ منھم باللہ الاعلی۔ واحوطہ منھم بالیدالعلیا۔ والکف الذی لایری۔  ید اللہ فوق ایدیھم وحجاب اللہ دون عادیھم۔ لایطردوہ ولا یضرورہ فی مقعد ولا منام۔ ولامسیر ولامقام۔ اول اللیانی وآخر الایام  ۔
تعویذ کے حوالہ جات:تعویذ کے مضبوط دلائل اور مستند روایات بڑے بڑے فقہاء محدثین اور اکابرینؒ امت کی درج ذیل کتابوں میں موجود ہیں۔