آخر شادی سے پہلے جو لڑ کی حور پری لگتی ہے وہ شادی کے بعد چڑیل کیوں لگتی ہے جس کو گھر میں لانے کے لئے جوش و خروش سے تیاریاں کی جاتی ہیں۔ پیسہ پانی کی طرح بہا دیا جاتا ہے۔ وہ فوراً ہی دل سے کیوں اتر نےلگتی ہے اس کے خلاف لفظوں کے تیر کیوں چلائے جاتے ہیں۔
ساس بہو میں رنجشوں کی بنیادی وجہ
شاید اس لئے کہ عورت ساس بننے سے پہلے ماں اور بیوی ہوتی ہے۔ گھرکی دنیا اس کے گرد گھومتی ہے۔ ہر معاملے میں اس کی رائے کو مقدم رکھاجاتا ہے۔ اس کے مشورے کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہے۔ وہ اس محبت و اہمیت کی عادی ہو جاتی ہے۔ جب گھر میں بہو آتی ہے تو اسے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں بہو اس کی جگہ نہ لے۔ اسی خطرہ کے پیش نظرساس بہو کے ہر کام میں نقص نکالتی ہے۔ بہو کی رائے کو ناقص ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے تاکہ گھر والے بہو کو ترجیح نہ دیں۔
دوسری طرف بہو جب ایک نئے گھر میں آتی ہے تو اس گھر کے متعلق اس نے بہت سے خواب دیکھے ہوتے ہیں۔ جنہیں پورا کرنے کا موقع شادی کے بعد ملتا ہے چنانچہ وہ چاہتی ہے کہ اسے گھر کے سیاہ و سفید کامالک بنا دیا جائے۔ گھر کی تزئین و آرائش سے لے کر دیگر امور وہ اپنی مرضی و منشاء کے مطابق چلائے۔ اس سلسلے میں جب اسے جائز نصیحت یامشورہ دیا جاتا ہے تو وہ اسے اپنی تو ہین سمجھتی ہے۔ پھر اس کے دل میںساس کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں۔یہیں سے اختیارات کی تقسیم کے تصادم کا آغاز ہوتا ہے۔ جوساس بہو میں پہلے تو غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے بعد میں لڑائی جھگڑے کاباعث بنتا ہے اور گھر میں جنگ کی سی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ ساس بہو اپنی اپنی توپوں کا رخ ایک دوسرے کی طرف موڑ لیتی ہیں اور آئے دن گولہ باری ہوتی رہتی ہے۔ جس سے گھر کے مکین ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کیااس رشتے میں محبت دوستی قائم ہو سکتی ہے؟
زیادہ تر شادیاںخواتین کی وجہ سے ناکام ہو جاتی ہیں کیونکہ عورت ہی ہے جو گھر کو بناتی اور بگاڑتی ہے۔ اب چاہے یہ عورت ساس کے روپ میں ہو یا بہو کےروپ میں۔سوال یہ ہے کہ کیا ساس بہو کے رشتے میں دوستی کا رشتہ قائم نہیںہو سکتا ؟ آخر اس کی وجہ کیا ہے اور کیسے ممکن ہے۔
کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر ساس بہو کے ساتھ ٹھیک رہے بھی تو بہو کا رویہ ساس کے ساتھ اچھا نہیں ہوتا۔ آج کل کی لڑکیوں کے سر پر الگ ہونے کا خبط طاری ہوتاہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو سسرال سے الگ ہو جائےکیونکہ وہ زیادہ کام نہیں کر سکتیں۔ کچھ خواتین شادی کے بعد کچھ عرصے تک ٹھیک رہتی ہیں مگر آہستہ آہستہ طور طریقے بدلناشروع ہو جاتی ہیں۔ پھر ساس اگر کچھ کہہ دے تو جھگڑا شروع ہو جاتا ہے اور پھر اس کی طرف سے علیحدہ رہنے کا مطالبہ شروع ہو جاتا ہے، حالانکہ اگرچہ ساس یہ چاہتی ہو کہ اپنی بہو کو بیٹی کی طرح رکھوں مگر جب تک بہو نہ چاہے ساس اوربہو میں دوستی نہیں ہو سکتی۔ بعض ایسی خواتین بھی ہیں جو بیوہ ہیں اور ایک ہی بیٹا ہے لیکن بہو پسند نہیں کرتی کہ وہ اپنے بیٹے کے پاس بیٹھیں اس سے بات چیت کریں۔ وہ چاہتی ہے کہ ساس سارا وقت تنہار ہے۔ بہو مجھے ناکارہ سمجھتی ہے۔ آخر بہوئیںیہ کیوں نہیں سمجھتیں کہ جس طرح وہ اپنے شوہر پر حق جماتی ہیں۔ بالکل اسی طرح والدین کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔
گھر کے خوشگوار ماحول کا اہم راز
ایک اہم بات یہ ہے کہ اکثر ساس کی خواہش ہوتی ہےکہ جس طرح انہوں نے زندگی بسر کی بہو بھی وہی سب کچھ کرے ۔ جبکہ موجودہ دور میں ترجیحات اور ضروریات بدل گئی ہیں۔
بہو اگر اپنی ساس کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کو شش کرتی ہو لیکن پھر بھی ساس اس سے خفا ہی رہتی ہو اوراگر کوئی بات یا کام انہیں اچھا بھی لگے تب بھی وہ کھل کر اس کی تعریف نہیں کرتیں جبکہ غلطی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں لیکن اچھی بہو یقین رکھتی ہے کہ میں ایک نہ ایک دن ان کا دل ضرورجیت لوں گی۔
ساس بہو میں دوستی اسی وقت ممکن ہے جب ساس بہو کو بیٹی سمجھے اور بہو ساس کو اپنی ماں سمجھے۔یہ دونوں اگر تھوڑی سی کوشش کریں تو ساس بہو کے رشتے میں نفرت و عداوت کو ختم کر کے اس کی جگہ دوستی اور محبت پیدا کر سکتی ہیں جس سےان کی گھریلو زندگی پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اور ان کا گھر ایک آئیڈیل گھر بن جائے گا۔ لوگ ان پر رشک کریں گے۔
اس کے لئےدونوں کو مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کرنا چاہیے۔
ساس کو چاہئے کہ بہو کو اپنی بیٹی سمجھے۔ جس طرح وہ اپنی بیٹی کو تکلیف پہنچانے کاسوچ نہیں سکتی بالکل اسی طرح بہو کو بھی پریشان نہ کرے۔اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو در گزر سے کام لے۔ ڈانٹنے کی بجائے پیار سے سمجھائے اور جو کام قابل ستائش ہو اس کی تعریف کرےتا کہ اس کی حوصلہ افزائی ہو۔گھریلو معاملات میں بہو سے بھی مشورہ لیا جائے تاکہ وہ بھی خود کوگھر کا ایک فرد سمجھے اور ان معاملات میں دلچسپی لے۔ساس کو گھر کی باتیں محلے والوں اور رشتے داروں کو نہیں بتانی چاہئیں۔
بہو کو بھی کچھ باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔اپنے شوہر کے ساتھ ساتھ شوہر کے والدین پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ ان کی خواہشات و ضرورتوں کا خیال رکھے۔ اگرکوئی غلطی ہو جائے اسے فور اًدور کرے۔ دوسروں کی باتوں میں آنے کےبجائے خود حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرے۔گھر کی باتوں کو میکے میں جا کر نہ بتائے ایسا کرنے سے بات ختم ہونےکے بجائے بڑھ جاتی ہے اور دونوں گھرانوں میں رنجشیں جنم لیتی ہیں۔ساس بہو ان باتوں پر دھیان دیں تو ان کا رشتہ دوستی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایک دوسرے کی خامیوں کو تلاش کرنے کے بجائےخوبیوں پر نظر رکھیں کیونکہ ہر انسان خوبیوں وخامیوں کا مجموعہ ہوتاہے۔ کہیں اچھائی کا عنصر زیادہ ہوتا ہے تو کہیں برائی کا۔ تعلقات کو بہتربنانے کے سلسلے میں ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ خوشگوار تعلقات کےلئے ضروری ہے کہ فرد کی خوبیوں پر نظر رکھی جائے۔ ورنہ برائیوں کوزیادہ اہمیت دینے سے رشتوں میں دراڑ پڑ جاتی ہے۔