جنات سے متعلق بہت سے واقعات عبقری رسالہ میں پڑھ چکی ہوں لیکن آج اپنی ایک آپ بیتی قلمبند کر رہی ہوں۔
سفید بالوں والی ڈرائونی چڑیل
میں اپنی پڑھائی مکمل کر رہی تھی‘ کالج میں زیر تعلیم تھی ‘اس دوران ایک شیطانی چڑیل نے مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو تنگ کرنا شروع کیا۔وہ اکثر کبھی کسی شکل میں اور کبھی صورت میں آکر مختلف طریقوں سے پریشان کرتی۔ ایک دن گرمیوں کی رات اور چاند کی چاندنی تھی۔ ہم گھر والے صحن میں سو رہے تھے۔ میرے چھوٹے بھائی کی چارپائی کے ساتھ میری بڑی بہن کی چارپائی تھی۔ رات گئے جب سب نیند کی آغوش میں تھے تو بھائی نے کروٹ بدلی تو کیا دیکھتا ہے کہ بہن کے پاؤں کی طرف ایک سفید کپڑوں میں ملبوس لمبے سفید بالوں والی چڑیل بیٹھی ہے۔ اُس نے اسی وقت آیت الکرسی پڑھنی شروع کر دی۔ اِک دم وہ چڑیل غائب ہو گئی اور سامنے دیوار پر بلی بولنا شروع ہو گئی۔ بھائی نے مجھے یہ واقعہ بتایا‘وہ رات تو گزر گئی ۔لیکن اس دن کے بعد مجھ پر جو بیتی ہے اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔وہ چڑیل میرے دماغ پر قبضہ کرلیتی ‘ مجھے کچھ سمجھ نہ آتی میں کیا کہہ رہی اور کر رہی ہوں۔کئی بار ایسا ہوا کہ جب وہ شیطانی چیز حملہ کرتی تو میں آیت الکرسی پڑھنا ہی بھول جاتی جبکہ مجھےاچھی طرح روانی کے ساتھ یاد ہے۔وہ چڑیل سامنے آتی تو ایک دم ایسے لگتا جیسےکالی آندھیوں کا زوردار طوفان آ گیا ہے جس میں ہر چیز ریزہ ریزہ ہو جائے گی حتیٰ کہ میں پھر خوف زدہ منظر دیکھ کر اونچی آواز سے چیخنا چلانا شروع ہو جاتی لیکن کوئی بھی میری آواز نہ سنتا کیونکہ وہ شیطانی چیز میری آواز بھی باندھ دیتی۔ جب یہ حملہ کرتی تھی تو میں بہت مشکل سے آیت الکرسی پڑھنا شروع کردیتی ۔ آدھی پڑھ چکتی تو چھوڑ دیتی اور اِک جھٹکے سے میری آنکھ کھل جاتی۔اس چڑیل نے زندگی مجھ پر تنگ کر رکھی تھی۔جب بھی کوئی اہم کام کر رہی ہو تی تو یہ فوراً حملہ آور ہوتی۔
دماغ پر قبضہ اور مختلف اذیتیں
اِک دن میں پیپر کی تیاری کرکے رات کے تقریباً9 بجے لیٹی ہی تھی ‘اس وقت بجلی موجود نہ تھی ‘اچانک وہی دماغ جکڑنا شروع ہوگیا۔ میں نے آیت الکرسی پڑھنا شروع کی۔ اِک دم ہوا میںایک ڈرائونی شکل ظاہر ہوئی ‘میرا آیت الکرسی سے دھیان ہٹ گیا اور میں بھول گئی جس کے بعد اس نے مجھے بہت پریشان کیا‘امتحانات کے دوران بہت رکاوٹ اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔میری زندگی ایسے ہی مسائل اور مشکلات کی نظر ہو چکی تھی‘چھٹکارا پانا ناممکن نظر آرہا تھا۔
عجیب اور ہولناک واقعات
کسی مخلص کے ذریعہ تسبیح خانہ سے تعارف ہوا‘ آپ کی روحانی محافل سننا شروع کیں جس میں آپ نے تیل پر 1001 پر سورئہ کافرون پڑھ کر دم کرنے والے عمل کے بارے میں فرمایا کہ یہ دم شدہ تیل روحانی و جسمانی بیماریوں اور مسائل کے لئے بہت لاجواب ہے۔میں نے یہ تیل دم کر کے اپنے پاس رکھ لیا۔ایک دن دائیں بازو میں سخت دبائو محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے بہت زور سے جکڑ لیا ہو‘میں نے سورئہ کافرون پڑھ کر دائیں بازو پر پھونک ماری توجسم ہلکا پھلکا محسوس ہوا۔تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی اس نے دماغ کو اس طرح سختی جکڑ لیا محسوس ہوا جیسے وہ آج ریزہ ریزہ کردے گی۔میں سخت تکلیف میں مبتلا تھی۔میرے دن رات ایسے ہی گزرتے رہے تھے۔
ایک رات ہم اپنے کمرے میں سو رہے تھے۔تقریباً بارہ بجے کے قریب کیا دیکھتی ہوں کہ چارپائی کے پاس میرا چھوٹا بھائی کھڑا ہے۔ جب اوپر دیکھا تو کالا سیاہ چہرہ، میں ڈر گئی اُس نے ہاتھ میری گردن کی طرف بڑھایا۔ میں نے گھبرا کر آیت الکرسی پڑھنا شروع ہو گئی۔ اس کے ہاتھ ایسے تھے جیسے انسانی ہاتھ ہوں لیکن ناخن بہت لمبے لمبے تھے۔ میں ڈر کر اُٹھی ۔امی اور ابو بھی آواز سن کرآگئے۔ہم بہن بھائی کمرے سے باہر سو گئے لیکن تھوڑی ہی دیر بعد واش روم کے نل سے پانی نکلنا شروع ہو گیا‘ سب حیران کہ نل کس نے کھولا ہے جبکہ سب اپنے اپنے بستر پر ہیں۔
چڑیل کی نفی کرنے والے بھائی کا ا نجام
میرا ایک بھائی جو سرکاری نوکری کے سلسلہ میں دوسرے شہر ہوتا ہے وہ چھٹی آیا ہوا تھا،وہ کہنے لگا یہ اتفاق ہو سکتا ہے آپ خواہ مخواہ پریشان ہوں رہے ہیں اس کا جنات اور شیطانی چیزوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اسی دوران چڑیل نے چھوٹے بھائی کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ بڑا بھائی بولا کچھ بھی نہیں ہے ایسے وہم ہے آپ لوگوں کا،ہم تو رات کو جنگلوں میں بھی ڈیوٹیاں کرتے ہیں، آج تک ہمارے ساتھ تو ایسا کچھ نہیں ہوا۔ جب یہ سنا تو مجھے سخت غصہ آیا اور میں نے اس چڑیل کو مخاطب کر کے کہا میرے اس بھائی کو بھی اپنے ہونے کا احساس دلائو۔اس وقت ہم باتیں کرتے کرتے سو گئے۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ بڑے بھائی کی بوکھلاہٹ والی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ امی بھی اُٹھ گئیں کہ بیٹا کیا ہوا اُٹھو‘ ایک دم آنکھ کھولی اور بولا امی آپ لوگ ٹھیک کہتے ہیں۔ میں نے تو کہا کہ سب ڈرے ہوئے اُن کے دماغوں سے اس کے ڈر کو ہٹاؤ پر جب آپ لوگ سو گئے تو واقعی دوبارہ واش روم کا نل کھلا تو اِک دم کچن سے آوازیں آنا شروع ہو گئیں جیسے بارش ہورہی ہو اور کوئی برتن اٹھا اٹھا کر پھینک رہا ہو۔ اُس کے بعد اُس نے مجھے تنگ کرنا شروع کر دیا۔ میں آپ لوگوں کو آوازیں دے رہا تھا مگر آپ لوگ سن ہی نہیں رہے تھے۔پھر میں نے بھی بھائی سے کہا کہ اب سمجھ آگیا کہ یہ ہمارا وہم نہیں بلکہ حقیقت ہے تو وہ بھی مان گیا۔خیردن گزرتے گئے اور ہم اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو گئے۔ یہاں وہ شروع شروع کے دن میں ایک دفعہ آئی تھی کیونکہ ہم نے اس گھر کی بنیادوں میں وہ اینٹ لگائی ہے جو آپ نے بتائی تھی کہ 81 دفعہ سورۃ یٰسین پڑھ کر لگانی ہے۔
کالی آندھیوں کے طوفان :تقریباً چار پانچ مہینے پہلے اُس چیز نے مجھے دوبارہ تنگ کیا تو ہم ڈاکٹر کے پاس بھی گئے جس نے کہا بچی کو نفسیاتی بیماری ہے۔ جو دوا دی گئی اس سے موٹاپا ہونا شروع ہو گیا۔مجھ سے پورا ہفتہ سر نہ سنبھالا گیا‘سخت تکلیف میں مبتلا رہی۔میرے چچا وہی تیل یعنی سورۃ الکافرون جس پر ایک ہزار ایک دفعہ دم کیا تھا وہ دیا اور میں نے لگایا ابھی چند ہی دن ہوئے ہوں گے کہ چاند کی چاندنی ہے۔ تقریباً 11 بجے کے وقت نماز وغیرہ پڑھ کر جب سب سوئے تو میں بھی اپنی چارپائی پر لیٹی ‘سب صحن میں تھے کیونکہ گرمیاں تھیں۔ کیا دیکھتی ہوں کہ میرے سرہانے کوئی آدمی کھڑا ہے جس کے سیاہ چہرے پر ڈاڑھی پر سفید بال ہیں جیسے ہندوعاملوں نے لگائی ہوتی ہیں۔ مجھے کہتا ہےصبر کرو تمہیں پوچھتا ہوں‘ میں سوچتی ہوں کہ میں نے تو اس کو کچھ بھی نہیں کہا۔تھوڑی ہی دیر گزری پھر وہی دماغ میں کالے آندھیوں کے طوفان آنا شروع ہو گئے۔ میں نے کانوں اور آنکھوں پر دم شدہ تیل لگایا اور قرآن پاک کی آخری چھ سورتیں پڑھنی شروع کیں تو درمیان میں بھول گئی۔میں نے آسمان کی طرف جب ہاتھ کرکے روتے ہوئے کہا کہ یااللہ بچالے ورنہ یہ شیطانی چیز مار دے گی ‘چند ہی لمحات گزرے تھے کہ اس شیطانی چیز نے مجھےچھوڑ دیا۔ میں اُٹھ کر رونا شروع ہو گئی۔گھر والے سب جاگ اٹھے۔میں نے روتے ہوئے کہا کہ میرا کوئی علاج کراؤ۔
حملہ کا اثر ختم ہونے لگا: اگر آج جس طرح اس نے دماغ پر حملہ کیا ہے ایسے دوبارہ کیا تو میں پاگل جاؤں گی کیونکہ یہ اُس اٹیک سے زیادہ تھا جس نے ہفتہ سر اٹھانے کی ہمت نہیں تھی۔ میں بار بار کہوں اب پھر آکر تنگ کرے گی مگر چچا نے تسلی دی اور میرے کان میں اذان پڑھی جس کے بعد میں سو گئی ۔جب صبح ہوئی تو شکر ہے میرا دماغ ٹھیک بالکل تھااس کے حملےکا اثر نہیں ہوا۔ یہ اُس تیل اور 81 بار سورئہ یٰسین والے عمل کی برکت تھی جو گھر میں شفٹ ہونے سے پہلے پڑھتے ہیں۔ورنہ اس سے پہلے جب وہ چڑیل رات کو حملہ کرتی تو صبح مجھ سے اٹھا نہ جاتا‘جسم میں سخت تکلیف تھی۔اس تیل کو مسلسل لگانے سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس چڑیل سے بچا لیا ہے ورنہ میں نے صرف اپنی آپ بیتی بیان کی ہے بھائی کے ساتھ اس کے ظلم الگ اور ہولناک ہیں۔اس نے ہمارا جینا اجیرن کیا ہوا تھا لیکن اللہ کا شکر اب اس کے وار ہم پر اثر نہیں کرتے۔