تلاش

اصل میں زندگی کو حقائق پر مبنی جس دانشمندانہ ترتیب کے ماتحت ہونا چاہیے‘ہم اکثر اس کا اہتمام نہیں کر پاتے۔ گویا شب و روز کے معاملات پر دل کا رسوخ اتنا زیادہ ہے کہ پاسبانِ عقل منہ تکتا، سر پیٹتا رہ جاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی غلط فہمی بڑے بڑے تنازعات میں ڈھل جاتی ہیں۔یہ غلط فہمیاں ہمارےربط وہم آ ہنگی کے وجود اور امکان تک کوختم کر دیتی ہیں۔ ایک تلخی دوسری کو جنم دیتی ہے اور پھر چڑچڑا پن اورنفرت جبکہ اس سے اگلا مرحلہ مکمل بیزاری کا ہے۔ 
جینے کی دو سطحیں‘ عقل اور جذبات
جینے کی دو سطحیں ہیں‘ ایک عقلی اور دوسری جذباتی۔ پہلی کا تعلق عمل سے اور دوسری کا تخیل سے ہے۔ عمل کرنے والے کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ دو کو دو سے ضرب دیا ہے تو نتیجہ چار ہی آئے گا اور کریلا بوکر آم کاٹنے کی اُمید فضول ہے جبکہ تخیل پرست فرض بہت کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ میاں اور بیوی میں عموماً کس کا رویہ عقلی اور کس کا جذباتی ہوتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہیں،لہٰذا دونوں کا حصہ برابر ہے۔اصل میں سارا مسئلہ اپنی ذات کو ترجیح دینے کا ہے۔ زندگی کے وہ مراحل بڑے منحوس ہوتے ہیں جب انسان خودترسی و بے چارگی میں مبتلا ہو جائے۔ یاد رکھیں کہ قسمت بہادروں کا ساتھ دیتی ہے۔ 
 فرائض کی ادائیگی اور بہترین کاموں کے صلے کیلئے دوسروں کی طرف دیکھنا ایک قدیم حماقت ہے کیونکہ اچھائی خود ایک اعلیٰ ترین صلہ ہے۔ اچھے کاموں کے بعد جو اطمینان آپ کے ضمیر کو حاصل ہوتا ہے‘ جو روشنی آپ کے دل میں پھیلتی ہے اور جو اعتماد آپ کے ذہن کا حصہ بنتا ہےتو وہ نور جو آپ کے چہرے پر جگمگاتا ہے اور وہ دنیا و مافیہا سے بے نیاز بیش قیمت نیند جو آپ کی آنکھوں میں گھلتی ہے اور وہ لائقِ افتخار نتائج جو مستقبل میں آپ کو بلند کر دیتے ہیں ۔ کیا اس سے اچھا بھی کوئی صلہ ہو سکتا ہے؟لبِ لباب یہ کہ میاں بیوی کو سب سے زیادہ زور ذہنی و دِلی ہم آہنگی پر دینا چاہیے۔ اپنے مسائل کو اوور اسٹیمیٹ کرنے کے بجائے دوسرے کی پریشانیوں کا ادراک بھی ضروری ہے۔مزید یہ کہ مسائل سے متعلق باہمی صلاح مشورہ لازمی ہے۔ وقت بے وقت چخ چخ کے بجائے مناسب موقع دیکھ کر، دھیمے اور نارمل لہجے میں اپنے پرابلمز ایک دوسرے سے شیئر کیجیے، ان کا حل نکالیے۔ گفتگو کے دوران خواہ کیسی ہی بات کیوں نہ ہو، ایک دوسرے کو ٹوکنے سے گریز کریں۔ پہلے تحمل سے سنیں پھر اطمینان سے اپنا مؤقف بیان کریں۔اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ کبھی اس چکر میں مت پڑیں کہ آپ کا شریکِ سفر ہر بات بِنا کہے ہی سمجھ لے گا اور ہر ضرورت بغیر طلب کیے پوری کر دے گا بلکہ اس کیلئے اظہار کرنا ضروری ہے۔
اپنی مرضی کی افادیت اور نقصان کا تجزیہ کریں
مزیدبرآں ہمیں اپنی ’’مرضی‘‘ کی افادیت اور نقصانات کا تجزیہ بھی کرنا ہوگا۔ ضروری نہیں کہ شوہر دفتر سے گھر پہنچے تو بیوی یاقوتی لبوں پر دیدہ زیب مسکراہٹ سجائے خیرمقدم کرے۔ گھر کی ہر چیز قرینے سے اپنی جگہ پر ہو۔ کھانا لذیذ اور بستر سازگار ہو‘ جبکہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ بیوی بن سنورنے کے بعد واقعی بہت حسین لگ رہی ہو اور میاں جی حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ کرنے والی کسی انتہائی بے ہنگم شخصیت پر آنکھیں گاڑے اور کان لگائے بیٹھے ہوں۔ ایسے بے شمار گھریلو معاملات میں فوری اشتعال کے بجائے اگر تحمل اور دُور اندیشی کا مظاہرہ کیا جائے تو ڈھیروںمسائل پیدا ہی نہ ہوں۔ 
آخر میں ہم چاہیں گے کہ کچھ باتیں خوشی کے حوالے سے بھی کر لی جائیں۔ مسرت سے متعلق متفقہ رائے یہ ہے کہ یہ انسانی قلب و ذہن کی ایک مخصوص کیفیت ہے اور بیرونی دنیا سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مزید یہ کہ کوئی لگابندھا طریقہ یا صورت ایسی نہیں جو آپ کو ہمیشہ خوش رکھ سکے۔ مثلاً اگر آپ کو پوری دنیا کا حکمران بنا دیا جائے اور ساری آسائشات اور تمام نعمتوں پر آپ کا تصرف ہو‘ تب بھی مکمل اور پیہم خوشی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ گویا خوش رہنے کے آرٹ کو سمجھنے کیلئے ہمیں اپنی ازسرِنو تربیت کرنی ہوگی۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہماری مسرت کا دارومدار اس بات پر نہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے بلکہ اس پر ہے کہ ہم خود کیا ہیں۔ ہمیں اپنی خواہشات کی سطح کو اپنے عمل کی سطح سے نیچے رکھنا ہوگا۔اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ آپ خواہشات کا گلا گھونٹ دیں۔بلکہ اس ضمن میںمحض ایک محتاط انتخاب ضروری ہے۔ دوسروں سے منفی مقابلے بازی کی روش گھریلو سکون برباد کر دیتی ہے۔ آپ کا کام تو بس اتنا ہے کہ مستقل مزاجی کے ساتھ، چُپ چاپ مصروفِ کار رہیں۔ زندگی سے متعلق علم میں اضافہ کرتے چلے جائیں۔اگر ہم نے ایسا کر لیا تو یقین جانیے کہ ہماری تمام خواہشات یا تو پوری ہو جائیں گی یا پھر ہمیں ان کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی۔