تلاش

اللہ تعالیٰ کا نظام ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کبھی کبھی بالکل بے بس ہوتا ہے۔ میری زندگی بظاہر تو بہت نیک اور سلجھی ہوئی تھی۔ تسبیح خانے کی برکت تھی اور ہے کہ اللہ نے اپنے فضل و کرم کو متوجہ اور اعمال کی برکتوں کو مجھ پر ظاہر کیا۔ لیکن میرے اندر کئی عیب تھے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے میری پردہ پوشی کی اور عبقری سے ملنے والے اعمال کی برکت سے لوگوں کی نظروں میں مجھے نیک اور صالح بنایا۔زندگی میں نیکی اور مسنون اعمال تو نصیب ہوئے مگر ابھی کچھ گناہ ایسے تھے جو نہ چاہتے ہوئے بھی مجھ سے سرزد ہو جاتے اور میں تنہائی میں ان گناہوں میں مبتلا ہو جاتی‘اس معاملے میں خود کو بے بس محسوس کرتی۔میں خود کو ان گناہوں سے نہ روک پاتی تھی اور ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے گناہوں کی وہ نحوست مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہو۔
 میں اس معاملے میںبہت زیادہ پریشان تھی پھرشیخ الوظائف  کی روحانی محفل میںایک بات سنی کہ اللہ سے اللہ کومانگنے والااگر گر جائے اور پھر دوبارہ کپڑے جھاڑ کر اُٹھ جائے ایسا انسان اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے جو اپنے گناہوں پر نادم ہو کر توبہ کر لے۔اس دن کے بعد میں نے اپنا یہ معمول بنا لیا کہ جب بھی گناہ سرزد ہوتا تو اس پر سخت نادم ہوتی اور پھر توبہ و حاجات کے دو نفل پڑھتی جس کی ہر رکعت میں جب سورۃ الفاتحہ پڑھ کر ’’اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ پر پہنچتی تو سو بار اس آیت کی تکرار کرتی اور پھر سورئہ کی جگہ ’’اَفَحَسِبْتُمْ‘‘(سورئہ مومنون کی آخری چار آیات) کو سات یا گیارہ بار پڑھ کر رکوع اور سجدے کی تسبیح کو سو،سو بار پڑھتی۔ اگلی رکعت بھی اسی ترتیب کے ساتھ مکمل کر کے سلام پھیر دیتی اور پھر اس کے بعد اللہ سے اپنے گناہوں کی گِڑ گِڑا کرمعافی مانگتی اور اللہ سے عہد کرتی کہ میں یہ گناہ نہیں کروں گی۔ روحانی محفل کے بعد ہونے والی دعا میں بھی بہت زیادہ رو رو کر اللہ سے مانگتی کہ میرے اندرحیا اور شرم ڈال دے اور مجھ گناہوں سے نجات دے‘ جیسے لوگ مجھے ظاہر سے نیک اور اللہ والی سمجھتے ہیں اندر بھی حیا والا بنا دے۔
کوئی اندازہ نہیں کر سکتا کہ میں کس قدر پریشان زیادہ تھی، میں اندر ہی اندر شرمندگی میں ڈوبی رہتی۔لیکن اب اللہ کا بے حد فضل و کرم اور احسان ہے کہ اب طبیعت بالکل بھی گناہ کی طرف راغب نہیں ہوتی۔میرا دل ہر وقت اللہ کی یاد میں مگن رہتا ہے، سانس سانس اللہ کی رضا کا طلب گار ہے۔میری درخواست ہے کہ جو لوگ بھی گناہوں اور عیبوں سے نجات چاہتے ہیں وہ یہ عمل ضرور کریں۔