بچوں میں دانت نکلنے کی علامات
جب چھوٹے بچے دانت نکالتے ہیں تو ان میں کچھ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جیسا کہ مسوڑھوں میں سوجن، بچے کا رونا اور ہلچل، ہلکے بخار کا ہونا، سخت چیزوں کو چبانا، بہت زیادہ منہ سے تھوک کو نکالنا، کھانسی، کان کو رگڑنا اور کان کو کھینچنا اس کے علاوہ منہ میں ہاتھ ڈالنا اور سونے اور اٹھنے کے اوقات میں تبدیلیاں ہونا۔دانت نکلنا بچے کے لئے تکلیف دہ ہو سکتا ہے لیکن یہ بچے کو زیادہ بیمار نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر آپ کے بچے میں اسہال ، متلی یا الٹی ہو رہی ہے تو اس صورت میں فوری طور پرمعالج سے رابطہ کیجئے۔بہت سے والدین اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کا بچہ دانت نکال رہا ہے اگر آپ کے بچے کو بھی دانت نکالتے وقت تکلیف ہوتی ہے تو آپ ان کی کچھ طریقوں کی مدد سے ان کی تکلیف دور کریں کیونکہ ایسا کرنے سے والدین بھی راحت محسوس کریں گے
بچے کو سکون دیں
اگر آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا بچہ دانت نکال رہا ہے تو اس کو آرام دہ رکھنے کی کوشش کریں اگر اس کے کپڑےگیلے ہیں تو اس کو فوری طور پر بدلنے کی کوسس کریں اس کے علاوہ آپ ان کی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لئے بچوں کے جسم کی مالش کریں اور ان کو پرسکون محسوس کروائیں۔
مسوڑھوں کا مساج
اگر آپ کو مسوڑھوں میں نوکیں نکلتی محسوس ہوں تو صاف انگلی یا ململ کے کپڑے سے مسوڑھو ں کا ہلکے ہلکے مساج کریں ۔ البتہ کسی جیل یا پین کلر کا استعمال نہ کریں ۔پسی ہوئی ملیٹھی ،شہد اور نمک تینوں کو ملا کر مسوڑھوں پر ملنے سے بھی دانت نکلنے میں آسانی ہوتی ہے ۔
قدرتی طریقے اپنائیں
بچے کو کوئی ٹھنڈی سبزی چبانے کو دے دیں ، جیسے کے گاجر غیرہ۔ دھیان رکھیں کہ جب بچے کو کوئی ایسی چیز دیں تو اسے اکیلا نہ چھوڑیں ۔ بچہ سبزی کو کاٹ بھی سکتا ہے اور اگر وہ ٹکڑاحلق یا سانس کی نالی میں پھنس جائے تو یہ خطرے کا باعث بن سکتا ہے ۔
جلدی جلدی دودھ پلائیں
ہر بچے کی دانت نکلنے کی مختلف علامات اور مختلف علاج ہوتا ہے ۔ بعض بچوں کی ماں کا دودھ پینے سے تکلیف اور بڑھ جاتی ہے جبکہ کچھ بچوں کو اس سے آرام آجاتا ہے۔ اگر بچہ شوق سے دودھ پیئے تو اسے کم وقفے سے فیڈ کرائیں ۔ دودھ پلانے سے قبل اور بعد میں صاف انگلی سے بچے کے مسوڑھوں میں مساج کریں ۔
رال صاف کرتی رہیں
یوں تو دانت نکلنے سے پہلا رال بہنااچھا ہوتا ہے ۔ اس سے بچے کا منہ نرم رہتا ہے اور بغیر مسوڑھوں کو نقصان پہنچائے دانت نکلنے میں آسانی ہوتی ہے۔
دست‘ پیچش اور خراب ہاضمہ
ان مسوڑھوں میں کچھ درد اور خارش وغیرہ ہوتی ہے۔بچہ اپنے جبڑوں کو اِدھر اُدھر ہلاتا اور باہم رگڑتا ہے، یا انگلیاں منہ میں ڈال کر چُوستا ہے۔ منہ سے رال بہتی ہے، پیاس زیادہ لگتی ہے، بعض بچوں کو دست آنے لگتے ہیں اور بعض کو پیچش ہو جاتی ہے، ہاضمہ خراب ہو جاتا ہے، بھوک کم ہو جاتی ہے، بچہ دودھ رغبت سے نہیں پیتااور قے ہونے لگتی ہے۔
ماؤں کو چاہیے کہ جیسے ہی بچے کو دست شروع ہوں اسے فوری طور پر نمکول پلانا شروع کردیں۔ اگر نمکول دستیاب نہ ہو تو گھر پر بھی باآسانی تیار کیا جاسکتا ہے۔نمکول بنانے کا طریقہ :
4گلاس ابلے ہوئے پانی میں آٹھ چائے کے چمچ چینی‘ آدھا چائے کا چمچ نمک‘ ایک لیموں کا رس اور ایک چٹکی کھانے کا سوڈا ملا ئیں‘چند منٹ بعد برتن اتار لیں۔ عموماً بچے یہ نمکول بڑے شوق سے پیتے ہیں‘ جب پانی نارمل ہو جائے تواسے وقفے وقفے سے بچوں کو دیتے رہیں تاکہ جسم میں ہونے والی پانی اور نمکیات کی کمی کو پورا کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ دستوں میں چاولوں کی پیچ بھی بہت فائدہ مند ہوتیہے۔ پیچ بنانے کیلئے چار گلاس پانی میں ایک مٹھی چاول اور ایک چٹکی نمک ملا کر چولہے پر ابالنے کیلئے رکھ دیںاور اس وقت تک ابالیں جب تک چاول نرم نہ ہوجائیں اس کے بعد آدھا گلاس پانی مزید شامل کردیں پھر اس آمیزے کو بلینڈر میں ڈال کر پیس لیںا ور وقفے وقفے سے پلاتے رہیں۔ چاولوںکا پیچ بچے کو 12گھنٹے تک پلایا جاسکتا ہے اس سے دستوں میں جلد افاقہ ہوتا ہے۔ارنڈ کا تیل اور شہد:جن بچوں کی صحت اچھی ہوتی ہے ان کے دانت آسانی سے نکل آتے ہیں لیکن کمزور بچوں کو دانت نکلنے میں زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔خاص کر جن بچوں کا ہاضمہ خراب ہوتا ہے، دانت نکالنے کے زمانے میں ان کا ہاضمہ مزیدخراب ہو جاتا ہے۔اس مسئلہ سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ جہاں تک ہو سکے بچے کے ہاضمہ کو درست رکھنے کی بھر پور کوشش کریں۔بچے کو ایسی کوئی بھی غذا ہر گز نہ دی جائے جس سے قبض کا خدشہ ہو۔اگر بچوں کو قبض ہو جائے تو اس صورت میں ارنڈ کا تیل چار ماشے اور شہد چار ماشے ملا کر چٹائیں۔اس کے علاوہ ملٹھی اور ذرا سا نمک شہد میں ملا کر مسوڑھوں پر دن میںوقفہ وقفہ سے ملیں ۔ مسوڑھے سُوجھے ہوں اور دانتوں کے نکلنے میں دیر ہو جائے تو کسی ماہر جراح سے مسوڑھوں کے اوپر ہلکا شگاف دِلوائیں یا اس شعبے کے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔