مشکلات‘ غربت‘ بندش ختماوردولت مند ہونے کیلئے
محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!چند سال پہلے ہم سخت پریشان اور حالات سے مجبورسخت سردی میںآپ کے اسسٹنٹ صاحب سے ملاقات کے لئے آئے۔لوگوں کا رش شروع ہوا، پتہ چلا آج شیخ الوظائف صاحب سے ملاقات کا دن ہے ہم بھی اس طرف آئے، وہاں کھڑے ایک بزرگ بوڑھے بابا کی بڑی منت سماجت کی مگر انہوں نےاس معاملے میں بے بسی کا اظہار کردیا کہ بغیر ٹوکن کے آپ سے ملاقات نہیں ہو سکتی ۔ان دنوں غربت ‘ پریشانی اور مسائل کی کشتی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اس وقت دل ہی دل میں رو رو کر اللہ سے فریادیں کر رہے تھے۔ ادھر تسبیح خانہ کی دیواروں پر کبوتروں نے شور مچایا۔ ہم نے یعنی میں اور بیٹیوں نے آپ کا بتایا ہوا عمل تین تین بار درود شریف ، ایک بار سورئہ فاتحہ اور تین بار سورئہ اخلاص بے شمار تعداد میں پڑھ کر کبوتروں کو ہدیہ کیا۔ اس کے علاوہ سورئہ قریش اور بھی بہت کچھ ہدیہ کیا ۔ بس پڑھتے رہے، ان کو ہدیہ کرتے رہے اور ہر بار ان کبوتروں کی منت کرکے دعا کے لیے درخواست پیش کرتے رہے۔ وہ شور مچاتے رہے جیسے ہمارے ساتھ رو رہے ہوں۔ ہم کو تسلیاں دیتے ہوں اور میں پاگلوں کی طرح ان سے باتیں کرنے لگی۔اس دوران کچھ ایسی کیفیات ملیں کہ اللہ نے دل میں بات ڈال دی کہ بہت جلد ہمارے دکھی دل آسودہ ہو جائیں گے۔پھر جب اسسٹنٹ صاحب سے ملاقات کا وقت آیا اور ہم سب بیک وقت اکٹھے ملے ۔ان کو حالات بتائے اور انہوں نے اعمال دیئے اور تسلی دی۔
سسکیوں اور آہوں بھری صدائیں
اگلی مرتبہ جب ملاقات کے لئے ٹوکن ملنا تھا ‘میں نے رو رو کر دعا کی درخواست کی، بے بس مجبور، ماں آہوں سسکیوں میں، شوہر، بچیوں ہم سب نے ہاتھ اٹھائے۔پھر سارے گھر والے ہاتھ میں موبائل لیے سورئہ قریش 41,41بار سب نے پڑھی اور مسلسل ٹوکن والے نمبر پر کال کرتے رہے‘آخر کار اللہ نے ہماری فریاد سن لی۔ اس خوشی میں ہم سب بہت روئے اور اللہ پاک کا شکر ادا کیا۔ شکرانے کے نفل پڑھے۔ اب یقین ہوگیا کہ ان شاء اللہ اب مسائل ختم ہوگئے اور خوشحالی آگئی۔ ہمیں یقین تھا کہ یہ سب کرم پرندوں کی دعا سے ہوا ہے۔ پھر ایک ایک روپیہ اکٹھا کرتے رہے آخر کرائے کا بھی انتظام ہوگیا ۔ اِدھر اُدھر سے مزید ادھار لیا اور متعلقہ دن آپ سے ملاقات اللہ پاک نے فرمادی ۔ملاقات کے بعدسب سے پہلے پرندوں کے پاس گئے۔ تسبیح خانہ کی چھت اور آس پاس جہاں کبوتر ہوتے ہیں ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کوپھر3 بار درود شریف ‘ایک بارسورئہ فاتحہ اور تین بار سورئہ اخلاص کا ہدیہ پیش کیا۔ کبوتروں نے اب خوشی سے شور مچایا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ بھی خوش ہیں۔اس دن یقین ہوگیا کہ ان پرندوں کی دعائوں سے ہی ہمارے الجھے ہوئے مسائل حل ہوں گے کیونکہ شیخ الوظائف سے بھی بار ہا اس عمل کے فوائد سن چکے تھے۔چنانچہ اس دن سے آج تک گھر کی چھت پر دو بڑے تھال رکھے ہوئے ہیں۔ روزانہ ایک میں صاف پانی ڈالتی ہوں۔ ہر دو تین دن بعد برتن دھوتی ہوں ، صاف پانی ڈالتی ہوں اور دوسرے میں باجرہ، چاول‘ گندم ڈالتی ہوں۔ جب صبح چھت پر دانہ، پانی ڈالنے جاتی ہوں تو سب دیواریں ، کبوتر، چڑیوں ،کوئوں ، مینا اور دوسرے پرندوں سےبھرے ہوتے ہیں۔ جیسے وہ میرے آنے کا انتظار کرتے ہیں۔
پرندوں کی دعا سے سویا نصیب جاگ اٹھا
میں دن میں وقفہ وقفہ سے 3,3بار درود شریف اور ایک بار سورئہ فاتحہ اور تین بار سورئہ اخلاص پڑھتی ہوں اور ان پرندوں کو ہدیہ کر کے انہیں دعا کا کہتی ہوں ۔اس عمل کی برکت سے میری پریشاناں ختم ہونے لگی ہیں ‘ مشکلات اور مصائب دن بدن کم ہوتے جارہے ہیںاور حالات بھی بہتر ہو رہے ہیں۔پہلے گھر میں بے چینی اور بے سکونی تھی۔گھر کا ہرفرد کسی نہ کسی مسئلہ میں مبتلا رہتا تھا لیکن اب زندگی میں سکون آنا شروع ہو گیا ہے‘ گھر میں چین اور سکون نصیب ہوا ہے۔میں نے اس عمل کو اب مستقل زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔ دانہ ، پانی ڈالتے وقت، نیک مخلوقات کو بھی مخاطب کرکے ان کوبھی دعا کی درخواست پیش کرتی ہوں‘ چیونٹیاں بھی بہت آتی ہیں۔ اپنی اولاد کے اچھے نصیب اور مسائل کے حل کےلئے دعائیں کرتی ہوں۔اس کے علاوہ ایک کھانے کےبعد جو روٹی بچ جائے اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے آیت الکرسی پڑھ کردم کےبعد وہ بھی پرندوں کو ڈالتی ہوں اور اللہ سے رزق، دولت، صحت، عافیت، بچوں کے نصیب سب مسائل کی دعا مانگتی ہوں۔اس عمل کی برکات ملنا شروع ہو گئی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مجھ ظاہر بھی کرناشروع کر دیا ہے۔گھر سے ویرانی اور مسائل تیزی سے ختم ہونے لگے ہیں‘پتہ نہیں ان پرندوں میں اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نیک مخلوق رزق کھاتی اور دعائیں دیتی ہے۔چند دن پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ جن پرندوں کو روٹی کے ٹکڑے ڈالتی ہوں ان میں چھوٹے چھوٹے اور کچھ بڑ ے پرندے شامل ہیں جو یہ روٹی کے ٹکڑے کھانے کے بعد میرے لئے اپنی زبان میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں جن کی برکت سے میری آنےوالی آزمائشیں ٹل رہی ہیں اور بڑے بڑے مسائل حل ہو رہے ہیں۔اس عمل کی برکت سے زندگی میںسکون اور برکت ہے۔گھر سے بیماریوں کا خاتمہ ہوگیا ہے اور صحت ملی ہے۔ پہلے معاشی حالات کافی کمزور تھے لیکن الحمدللہ اب خوشحالی آنا شروع ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ گھر کے افراد کا آپس میں لڑائی جھگڑے والے مسائل ختم ہوئے اور آپس میں اتفاق و محبت کی فضا قائم ہوئی ہے۔پرندوں کی دعائوں نے ہمیں خوشحال کر دیا ہے اور ہم سب بہت خوش ہیں۔اولاد کے رشتہ کے مسائل ہیں لیکن اس عمل کی برکت سے وہ بھی ان شاءاللہ بہت جلد حل ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔