محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!میں ایک سرکاری محکمہ میں نوکری کر رہا ہوں۔اس نوکری سے گھر کا نظام چل رہا تھا مگر میں چاہتا تھا اللہ کوئی ایسا ذریعہ بھی بنا دے جس سے تمام محرومیاں ختم ہو جائیں اور میرے معاشی حالات بہترین ہو جائیں۔ کیونکہ ہمارے محکمے میں ایسا ہوتا ہے کہ پچیس سال سروس یا ساٹھ سال کی عمر تک سروس ہو جائے تو تنخواہ تقریباً پچاس ہزار تک ہو جاتی ہےاور لوگ اسی کے ساتھ ریٹائر ہوجاتے ہیں۔تقریباً چھ ماہ پہلے میں نےمعاشی حالات کی بہترین کیلئے آپ کو خط لکھنا مناسب سمجھا۔ آپ کو خط لکھا تھا‘ الحمدللہ مجھے جواب ملا‘ آپ نےجواب میں فرمایا کہ آپ حلال روزگار کے حصول کے لئے جو کاروبار کرنا چاہیں کرلیں۔آپ نے شفقت فرمائی اور مجھے کپڑےکا کاروبار کرنے کی اجازت عطا فرمائی اور دعائوں سے نوازا۔اس وقت میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ اپنا ذاتی کاروبار شروع کر سکوں مگر الحمدللہ آپ کی اجازت اور دعا سے میرے پاس پیسے نہ ہونے کے باوجود غیبی اسباب بن گئے اور میرا گارمنٹس کا کام چل پڑا ہے۔ الحمدللہ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں ہر کام کی آپ سے اجازت لوں اور پوچھ پوچھ کر چلوں کیونکہ میرے دل میں یہ بات نقش کر گئی ہے کہ فقیر جو کہتا ہے، حق کہتا ہے اُسی میں برکت ہے۔ بس آپ کی اجازت کی دیر تھی کہ ایک دوست دُکان دار نے خود رابطہ کیا کہ آپ گارمنٹس کے کام میں میرے ساتھ شامل ہو جائیں۔ میں نے فوراً حامی بھر لی ‘ میںگارمنٹ فیکٹری سے سامان خرید کر اس دوست کو پہنچا دیتا ہوں اور اسی میں اچھا نفع ہوجاتا ہے۔ الحمدللہ ہمارا کام خوب چل رہا ہے۔ میری زبان پر ایک ہی بات ہوتی ہے کہ میرا رہبر کامل ہے اب لوگ مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ آپ پچیس سال پر ریٹائرمنٹ نہ لو، آگے نوکری کرو۔ میں کہتا ہوں کہ پچاس ہزار کی بجائے پچاس لاکھ دیں تو بھی نہ کروں کیونکہ فقیر جو کہتا ہے، حق کہتا ہے۔ بس آپ دعا اور توجہ میں رکھیں۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ جب دل چاہے تسبیح خانہ میں حاضری دوں جو کہ سروس کرتے ہوئے بہت مشکل ہے مگر میں آن لائن روحانی محفل میں شریک ہوتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے شہر میں آپ کی روحانی محفل ہو تاکہ یہاں بھی دُکھی لوگوں کو فائدہ ہو۔ دعا کی التجا ہے‘