فالسہ کا پودہ ہمارے ملک میں عام پایا جاتا ہے ۔بدنِ انسانی میں پیدا ہونے والی کئی ایک بیماریوں کیلئے آج سے صدیوں پہلے پرانے سائنسدان حکماء نے اسے ہمارے لیے غذا اور دوا قرار دیا۔ قدیم سائنسدان، اطباء شوگر کے مریضوں کیلئے اسے دوا اور غذا کا درجہ دیتے ہیں، معدہ جگر کی گرمی اور تیزابیت کو رفع کرنے میں یہ اپنی مثال آپ ہے۔ موسمِ گرما میں بے تحاشہ پیاس کی شدت سے پیدا ہونے والے عوارض گھبراہٹ، بے چینی اور تلخی کو فوراً رفع کرتا ہے، بدنِ انسانی کی رطوبت (ہارمونز) پیدا کرنے والے غدودوں کو اس کے استعمال سے تقویت ملتی ہے۔ قدیم اطباء نے اس کے خواص پر قلم کشائی کرتے ہوئے لکھا ہے لبلبہ میں انسولین پیدا کرنے کے عمل کو فالسہ کا استعمال تیز کرتا ہے۔ پرانے اطباء تیز بخاروں میں بھی اس کا استعمال عام کروایا کرتے تھے۔
معدہ اور جگر کی بیماری میں مفید
آج فالسہ کے مضمون میں ہم قارئینِ کرام کو ان کرشمہ سازیوں کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہیں۔ جو لوگ معدہ اور جگر کی گرمی میں مبتلا ہوں، گرم اور خشک چیزوں کے کثرت استعمال سے ان کے معدے میں تیزابیت زیادہ پیدا ہو وہ نہارمنہ پچاس گرام کے قریب فالسہ کا ناشتہ کر کے جملہ تکالیف سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ گرمی کے تیز بخاروں میں سوگرام فالسہ کو آدھ لیٹر پانی میںلکڑی والی مدھانی سے رگڑ کر اس میں بیس تولے عرق گائو زبان ملا لیں‘ چھان کر ٹھنڈا کر کے گھونٹ گھونٹ پلانے سے بخار میں فوری طور پر کمی واقع ہو کر جسم میں پیدا شدہ بے چینی ختم ہو جاتی ہے۔
دل کے امراض میں مفید
ایسے مریض جو موسمِ گرما کی شدت کی وجہ سے دل کی دھڑکن کی اکثر شکایت کرتے ہیں، ایسے مریضوں کو ایک پائو فالسے کے نچوڑے ہوئے شیرے میں آٹھ سو گرام چینی ملا کر اس کا شربت تیار کر کےاس پانچ تولے شربت میں پانچ تولے عرق کیوڑہ یا عرقِ بید مشک ملا کر صبح شام پلائیں۔ ایسے مریضوں کو چند یوم میں شفایاب ہوتے دیکھا گیا ہے۔
ہاتھ پائوں اور پیشاب میںجلن
آج کل گرمی کے موسم میں ہمارے اکثر نوجوان ہاتھ پائوں اور پیشاب میں جلن کی اکثر شکایت کرتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو چاہیے کہ رات کو ایک چھٹانک فالسہ کو آدھا لیٹر پانی میں بھگو دیں۔ صبح اسے مَل چھان کر اس پانی میں شکر سرخ حسبِ ضرورت ملا کر ٹھنڈا کر کے نہارمنہ پئیں تو اللہ کے فضل و کرم سے چند ہی یوم میں یہ شکایات ختم ہو جاتی ہیں۔ آج کل ہمارے معاشرے میں جدید سائنسی طریقے سے تیار کیے ہوئے مضر صحت اور مہنگے مشروبات زوروں پر استعمال کر کے لوگ دن بدن بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ان مشروبات میں کیفین کا جزو بھی استعمال کیا جاتا ہے جو قطعی طور پر مضر صحت ہے۔ ہمارے قدیم اطباء نے آج سے صدیوں پہلے ہمیں قدرتی نباتات پھلوں سے بنے ہوئے مشروبات کی نشاندہی فرما کر ہمارے اوپر احسانِ عظیم کیا ہے۔ فالسہ کے شربت ان نام نہاد مشروبات کا بہترین نعم البدل ہے جس کے استعمال سے فوری طور پرغذا ہضم ہو کر ڈکار بھی آ جاتا ہے۔ طبیعت میں سکون پیدا ہو کر بے چینی اور پیاس کی شدت ختم ہو جاتی ہے۔
حاملہ خواتین کے لئے: فالسہ کا شربت حاملہ عورتوں کی قے اور متلی کا بہترین بے ضرر علاج ہے۔ آج کل کے موسم میں ہمارے ہاں اکثر لوگوں کو متلی اور قے کی شکایت ہو جاتی ہے۔ ان امراض میں مبتلا افراد کو اگر صبح وشام فالسہ کے شربت میں لیموں نچوڑ کر دیں تو فوری طور پر طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔ پریشان حال مریض جو ریح، گیس، اپھارہ اور بدہضمی کی شکایت کرتے ہوں۔ ایسے مریضوں کو ایک نہایت مزے دار قسم کا سفوف، فالسے کو لگا کر کھانے کیلئے بتائیں۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ دیسی اجوائن، نمک سیاہ اور زیرہ سفید‘ ان تمام اجزاء کو ہم وزن پیس کر اس کا سفوف تیار کرلیں۔ صبح نہارمنہ یہ سفوف ایک چھٹانک فالسہ کے ساتھ لگا کر کھائیں تو چند ہی یوم میں اپھارہ‘ گیس، بدہضمی وغیرہ کے امراض ختم اور بھوک کی شکایت بھی ختم ہو جائے گی۔