تلاش

محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم !آپ انسانیت کے لئے جس خیر اوربھلائی کا ذریعہ بن رہے ہیں اس احسانِ عظیم کا صلہ تو اللہ پاک ہی آپ کو عطا فرمائے گا۔ آپ لوگوں کو اللہ سے ملا رہے ہیں، مجھ گناہگار کو آپ کی بدولت قلبی چین و سکون نصیب ہوا ‘ میں بے بسی اور گناہوں کی قید سے آزاد ہوا۔ آپ کو بہت دعائیں دیتا ہوں۔ میری دعا ہے اللہ پاک آپ کو دنیا و آخرت میں ترقیاں اور کامیابیاں عطا فرمائے اور چونکہ اس دنیا سے ایک نہ ایک دن رخصت ہونا ہے اس لیے میں آپ کیلئے اکثر یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کی روح مبارک کو جنت البقیع کیلئے قبول فرمائے۔ آمین!
میری مرحوم والدہ آپ سے بہت عقیدت رکھتی تھیں‘ایسا کوئی دن نہیں گزرتا تھا جس دن اُنہوں نے آپ کی روحانی محفل یا عبقری رسالہ کی کوئی بات نہ کی ہو ۔ وہ عبقری رسالہ سے دیکھ کر ادویات کا استعمال اور روحانی بیڈ ٹی والا عمل کرتیں اور آپ کو دعائوں سے نوازتیں۔جب اللہ نے مجھے تسبیح خانہ سے جوڑا تو اس سے پہلے میں مختلف گناہوں اور علتوں میں مبتلا تھا۔ آپ کی روحانی محفل کو آن لائن سنتا رہا جس سے زندگی میں تبدیلیاں آنا شروع ہوئیں ۔جب پہلی مرتبہ تسبیح خانہ آکر آپ کی زیارت کا شرف حاصل کیا تو وہ دن اور آج کا دن ہے دل سے فیصلہ کیا کہ ان شاءاللہ اب ہر محفل تسبیح خانہ آکر سنوں گا۔ آپ کی روحانی محافل کی ریکارڈنگ میںبھی اللہ پاک نے کوئی غیبی طاقت رکھی ہے جو دل کی دنیا بدل دیتی ہے۔ سب گھر والے روحانی محفل کو شوق سے سنتے ہیں۔
جب میں نے آپ کی روحانی محفل کو سننا شروع کیا تو اس سے پہلے میں موسیقی کا بہت زیادہ شوق رکھتا تھا اور دیگر گناہوں بھری دنیاوی لذتیں بھی زندگی میں شامل تھیں۔ان گناہوں سے چھٹکارے کا کوئی ذریعہ نہیں بن پا رہا تھا۔میں کوشش کے باوجود بھی ان گناہوں کی دلدل سے خود کو نہیں نکال پا رہا تھا۔اس دوران آ پ کی روحانی محافل سننا شروع کیں تو اپنے گناہوں پر شرمسار ہوتا کہ کسی طرح سے ان سے نجات حاصل کرلوں مگر اس کے باوجود بھی موسیقی اور دوسرے گناہوں میں مبتلا رہتا۔ایک دن جب آپ کی زبان مبارک سے یہ اشعار سنے’’ نیکاں دے لڑ لگ کے میں وی شاید بخشیا جانواں‘‘ اور ’’ نہ میں سوہنی نہ دولت پلے‘‘۔ان اشعار نے مجھے گناہوں سے چھٹکارے کے لئے تقویت دی اور اللہ کا کرم ہے اب میں موسیقی اور دوسری دنیاوی لذتیں یعنی گناہوں بھری زندگی چھوڑ چکا ہوں۔
محترم شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم !آپ انسانیت کے لئے جس خیر اوربھلائی کا ذریعہ بن رہے ہیں اس احسانِ عظیم کا صلہ تو اللہ پاک ہی آپ کو عطا فرمائے گا۔ آپ لوگوں کو اللہ سے ملا رہے ہیں، مجھ گناہگار کو آپ کی بدولت قلبی چین و سکون نصیب ہوا ‘ میں بے بسی اور گناہوں کی قید سے آزاد ہوا۔ آپ کو بہت دعائیں دیتا ہوں۔ میری دعا ہے اللہ پاک آپ کو دنیا و آخرت میں ترقیاں اور کامیابیاں عطا فرمائے اور چونکہ اس دنیا سے ایک نہ ایک دن رخصت ہونا ہے اس لیے میں آپ کیلئے اکثر یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کی روح مبارک کو جنت البقیع کیلئے قبول فرمائے۔ آمین!
میری مرحوم والدہ آپ سے بہت عقیدت رکھتی تھیں‘ایسا کوئی دن نہیں گزرتا تھا جس دن اُنہوں نے آپ کی روحانی محفل یا عبقری رسالہ کی کوئی بات نہ کی ہو ۔ وہ عبقری رسالہ سے دیکھ کر ادویات کا استعمال اور روحانی بیڈ ٹی والا عمل کرتیں اور آپ کو دعائوں سے نوازتیں۔جب اللہ نے مجھے تسبیح خانہ سے جوڑا تو اس سے پہلے میں مختلف گناہوں اور علتوں میں مبتلا تھا۔ آپ کی روحانی محفل کو آن لائن سنتا رہا جس سے زندگی میں تبدیلیاں آنا شروع ہوئیں ۔جب پہلی مرتبہ تسبیح خانہ آکر آپ کی زیارت کا شرف حاصل کیا تو وہ دن اور آج کا دن ہے دل سے فیصلہ کیا کہ ان شاءاللہ اب ہر محفل تسبیح خانہ آکر سنوں گا۔ آپ کی روحانی محافل کی ریکارڈنگ میںبھی اللہ پاک نے کوئی غیبی طاقت رکھی ہے جو دل کی دنیا بدل دیتی ہے۔ سب گھر والے روحانی محفل کو شوق سے سنتے ہیں۔
جب میں نے آپ کی روحانی محفل کو سننا شروع کیا تو اس سے پہلے میں موسیقی کا بہت زیادہ شوق رکھتا تھا اور دیگر گناہوں بھری دنیاوی لذتیں بھی زندگی میں شامل تھیں۔ان گناہوں سے چھٹکارے کا کوئی ذریعہ نہیں بن پا رہا تھا۔میں کوشش کے باوجود بھی ان گناہوں کی دلدل سے خود کو نہیں نکال پا رہا تھا۔اس دوران آ پ کی روحانی محافل سننا شروع کیں تو اپنے گناہوں پر شرمسار ہوتا کہ کسی طرح سے ان سے نجات حاصل کرلوں مگر اس کے باوجود بھی موسیقی اور دوسرے گناہوں میں مبتلا رہتا۔ایک دن جب آپ کی زبان مبارک سے یہ اشعار سنے’’ نیکاں دے لڑ لگ کے میں وی شاید بخشیا جانواں‘‘ اور ’’ نہ میں سوہنی نہ دولت پلے‘‘۔ان اشعار نے مجھے گناہوں سے چھٹکارے کے لئے تقویت دی اور اللہ کا کرم ہے اب میں موسیقی اور دوسری دنیاوی لذتیں یعنی گناہوں بھری زندگی چھوڑ چکا ہوں۔
خواہشات کی تکمیل اور گناہوں کی کثرت
 عبقری تسبیح خانہ کا فیض مختلف شکلوں میں مل رہا ہے۔ میں حلال و حرام کا خیال نہ رکھتا تھا۔ ایسے معاملات تھے جن سے میری آخرت میں ضرور پکڑ ہوتی او مرشد کا فیض بھی نہ ملتا۔ دل میں آتا کہ ان علتوں سے نکل جائوںلیکن دیر کرتا رہا تو اللہ پاک نے ایسا نظام بنایا کہ میرے معاملات درست کر دیئے۔ایک معاملہ یہ تھا کہ ایک مکان غیرشرعی طریقے سے میرے نام تھا جس کی مالیت بہت زیادہ تھی مگر میں نے چند لاکھ کے عوض وہ مکان جس میں بھائیوں کا بھی حصہ تھا اپنے نام لگوا لیا دنیاوی قانون کے مطابق وہ مکان میرے نام ہے لیکن اللہ کا قانون کچھ اور فیصلہ دیتا ہے۔ اللہ کے قانون کے فیصلے کے مطابق محض اللہ کے فضل سے میں نے سب کا حق واپس دینے کا فیصلہ کر لیا اور سب کو بتا دیا کہ آپ کا اتنا حق ہے۔ والدہ کی وفات پر سارا اختیار میرے ہاتھ میں آگیامگر میں نے آپ کی تعلیمات پر میںاُن کا حق دینے کا فیصلہ کیا۔اللہ نے اُن کے دل کو نرم کیا اور اُنہوں نے اپنا حق معاف کر دیا ۔ایک بھائی کا حصہ رہتا ہے وہ بھی ان شاءاللہ جلد ایک مکان بیچ کر ادا کردوں گا۔اپنے مرشدِ کامل کی بدولت  ہی مجھ پر یہ حقیقت کھلی ہے کہ حلال میں بہت خیر اور برکت ہوتی ہےاور آپ ہی کی بدولت اللہ کے احکامات پر عملدرآمد کرنے کے قابل ہوا ہوں۔ سچ کہا کہنے والے نےاللہ اللہ کرنے سے اللہ ملے نہ ملے‘اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملوا دیتے ہیں۔جی ہاں! یہ اللہ سے ملا دینے کی ہی ایک صورت ہے کہ اللہ کی مدد ایسی شامل ہوئی کہ حق والوں نے اپنا لاکھوں کا حق معاف کر دیا ورنہ آج کے دور میں کوئی ایک ہزار معاف نہیں کرتا۔ یہ اللہ ہی کی مدد سے ہوا جو اللہ نے اُن کے دل نرم کر دیئےاور اس کا ذریعہ آپ بنے۔
 
 عبقری تسبیح خانہ کا فیض مختلف شکلوں میں مل رہا ہے۔ میں حلال و حرام کا خیال نہ رکھتا تھا۔ ایسے معاملات تھے جن سے میری آخرت میں ضرور پکڑ ہوتی او مرشد کا فیض بھی نہ ملتا۔ دل میں آتا کہ ان علتوں سے نکل جائوںلیکن دیر کرتا رہا تو اللہ پاک نے ایسا نظام بنایا کہ میرے معاملات درست کر دیئے۔ایک معاملہ یہ تھا کہ ایک مکان غیرشرعی طریقے سے میرے نام تھا جس کی مالیت بہت زیادہ تھی مگر میں نے چند لاکھ کے عوض وہ مکان جس میں بھائیوں کا بھی حصہ تھا اپنے نام لگوا لیا دنیاوی قانون کے مطابق وہ مکان میرے نام ہے لیکن اللہ کا قانون کچھ اور فیصلہ دیتا ہے۔ اللہ کے قانون کے فیصلے کے مطابق محض اللہ کے فضل سے میں نے سب کا حق واپس دینے کا فیصلہ کر لیا اور سب کو بتا دیا کہ آپ کا اتنا حق ہے۔ والدہ کی وفات پر سارا اختیار میرے ہاتھ میں آگیامگر میں نے آپ کی تعلیمات پر میںاُن کا حق دینے کا فیصلہ کیا۔اللہ نے اُن کے دل کو نرم کیا اور اُنہوں نے اپنا حق معاف کر دیا ۔ایک بھائی کا حصہ رہتا ہے وہ بھی ان شاءاللہ جلد ایک مکان بیچ کر ادا کردوں گا۔اپنے مرشدِ کامل کی بدولت  ہی مجھ پر یہ حقیقت کھلی ہے کہ حلال میں بہت خیر اور برکت ہوتی ہےاور آپ ہی کی بدولت اللہ کے احکامات پر عملدرآمد کرنے کے قابل ہوا ہوں۔ سچ کہا کہنے والے نےاللہ اللہ کرنے سے اللہ ملے نہ ملے‘اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملوا دیتے ہیں۔جی ہاں! یہ اللہ سے ملا دینے کی ہی ایک صورت ہے کہ اللہ کی مدد ایسی شامل ہوئی کہ حق والوں نے اپنا لاکھوں کا حق معاف کر دیا ورنہ آج کے دور میں کوئی ایک ہزار معاف نہیں کرتا۔ یہ اللہ ہی کی مدد سے ہوا جو اللہ نے اُن کے دل نرم کر دیئےاور اس کا ذریعہ آپ بنے۔