تلاش

سبزیوں اور خاص کر پتے والی سبزیوں میں پیاز سے زیادہ خوبصورت خوش رنگ اور کوئی سبزی نہیں ۔ پُر لطف یہ کہ قدرت خداوندی نے اس کے نازک اندام پر توں میں انسانی جسم کے سخت ترین حصہ یعنی دل کا نہایت کارآمد علاج رکھا ہے۔پیاز صدیوں سے غذا اور دوا کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ قدیم مصر میں یہ خاص و عام کی خوراک تھی ۔ ہزاروں سال قبل مسیح میں بننے والوں اہراموں کے کتبوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ مصری طبیب پیاز کو متعدد بیماریوں کے علاج کے لئے تجویز کرتے تھے ۔ایک تحقیق کے مطابق ۱۸۳۵ء میں مرض استسقاء (جسم میں پانی کا جمع ہونا)کے لئے پیاز کو علاج بالغذاسمجھا جاتا تھا۔ 
محنتی افراد کی پسندیدہ غذا
پیاز کے معدنی اور حیاتینی اجزاء میں کیلشیم، فاسفورس، فولاد تھایا مین، کیروٹین، نایاسین اور وٹامن سی بھی پائے جاتے ہیں۔ اگر پیاز کو پانی میں ڈال کر کاٹا جائے تو یہ انزائمنز پانی میں حل ہو جاتے ہیں جس کے باعث آنکھوں سے پانی نہیں بہتا اور نہ ہی بو آتی ہے۔پاکستان میں پیاز ایک عوامی غذا ہے۔ دیہاتوں اور دور افتادہ پہاڑی صحرائی علاقوںمیں دوپہر کے وقت پیاز کے ساتھ روٹی کھانے کا رواج ہے۔ محنت و مشقت کے عادی افراد کی یہ من پسند خوراک ہے جو انہیں دن بھر کی تھکاوٹ سے بچاتی اور انہیں توانائی مہیا کرتی ہے۔
کچے پیاز کے فوائد
تحقیق کے مطابق پیاز ہاضم بلغم کوختم اور ریاح کو تحلیل کرتا ہے۔ کچے پیاز کا استعمال کھل کر پیشاب لاتا ہے اور اس کا استعمال امراض چشم میں مفید ہوتا ہے۔ پیاز کا پانی اور خالص شہد ہم وزن لے کر اور دونوں کو ملا کر سلائی سے آنکھ میں لگانے سےآنکھیں صاف ہو جاتی ہیں۔ دانت داڑھ درد ہو تو کچا پیاز چبانے سے درد دور ہوجاتا ہے جنگلی پیاز کے استعمال سے پیٹ کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں ۔
امراض قلب میں حیرت انگیز نتائج
امراض قلب یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ انسانی بدن کے مضبوط ترین عضو یعنی دل کا علاج سب سے زیادہ نازک ترین سبزی بلکہ اس کے باریک ترین پردوں یا پتوں سے کیا جاتا ہے۔ یونانی حکماء کا یہ فیصلہ بالکل درست اور سو فیصد مفید ہے کہ پیاز کی ان نازک پنکھڑیوں میں گوشت پیدا کرنے والےنمکیات اور وٹامنز کی کثیر تعداد پائی جاتی ہے۔ چنانچہ محققین کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ پیاز دل جیسےاہم اعضاء ریشہ کے اردگرد چربی جمع نہیں ہونے دیتا کیونکہ پیاز کے چکنے خلیوں میں چربی کی تہیںجمنےسے قاصر رہتی ہیں۔ گویا اس معمولی سبزی میں قدرت نے دل کے شفائی اجزا کوٹ کوٹ کے بھرے ہیں۔روٹی کے ساتھ پیاز کی گانٹھ استعمال کیجئے تو یہ ایک عمدہ سالن کا کام دیتا ہے۔ اگر دوروٹیوں کے ساتھ آدھ پاؤ پیاز ( دو گانٹھ ) اور ایک چھٹانک کھایا جائے تو پورے دن کے غذائی اجزاء انسان کو حاصل ہوتے ہیں۔پیاز بدن کی زہریلی ہوا کو روغنی اجزاء سے پاک کر دیتا ہے اور پیٹ سے نکلنے والےبدبو کے بھبکے ختم ہو جاتے ہیں۔
هیضہ اور بدہضمی کا عجب علاج
اگر کسی کو بد ہضمی کی شکایت ہو یا ہیضہ کی وبا پھیل جائے تو ان دنوں میں پیاز کے ٹکڑےکاٹ کاٹ کے گھر میں جگہ جگہ لٹکا لیں اس سے بیماری اور وباء کا زورٹوٹ جاتا ہے۔اگر ہیضے کی شدت کی وجہ سے کسی کو قے اور دست شروع ہو جائیں تو فوراً چھ ماشےپودینہ‘ تین ماشے چھوٹی الا ئچی کے دانوں کو کوٹ کر ایک تولہ پیاز کے پانی میں ملا کر چار چار رتی باربار چاٹنے سے دست اور قے بند ہو جاتے ہیں اور بے چینی دور ہوتی ہے ۔ اگر کوئی گیس یا ہاضمہ کی کمزوری میں مبتلا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ایک پاؤ پیاز کے ٹکڑےکرے اور انہیں ایک مرتبان میں آدھ سیر سر کہ ڈال کر دو دن دھوپ میں رکھے پھر کھانے کے بعدایک تولہ سرکہ میں بھگویا ہوا پیاز کھایا جائے تو ہاضمہ مضبوط ہو گا اور گیس سے چھٹکارا مل جائے گا۔
دانتوں کیلئے بے حد اکسیر
اس کے علاوہ مذکورہ بالا پیاز کا محلول کھانے سے دانتوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اور ان پرمیل نہیں جمنے پاتی۔جس سے دانت خوبصورت اور چمکدار نظر آتے ہیں۔