محترم حضرت شیخ الوظائف صاحب السلام علیکم!جو واقعہ تحریر کرنے لگی ہوں یہ ہمارے قریبی عزیز کا ہے۔پیشہ کے لحاظ سےوہ ڈاکٹر تھے۔لیکن ان کی عملیات میں بھی دلچسپی تھی اور اس متعلق وہ مختلف کتب کا مطالعہ بھی کرتے رہتے تھے۔ انہوں نے کسی عمل کے ذریعے ہمزاد اپنے تابع کیا ہوا تھا۔ انہوںنے کوئی چلہ کاٹا تھا جس کے بعد وہ اُن کے قبضے میں آیا۔ وہ اپنے سر کو ذرا سے تھپکی دیتے اور خاموشی سے بیٹھ جاتے۔ کچھ دیر بعد وہ ہمزاد بول کر بتا دیتا تھا کہ کسے کیا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مجھے بھی ایک عمل دیالیکن میں نےعبقری کے وظائف شروع کیے ہوئے تھے وہی پڑھتی تھی،اب بھی پڑھتی ہوں اس لئے کسی اور عمل کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔
بغیر کامل کے عامل
ڈاکٹر صاحب اکثرہمارے گھر پر ایک یا دو ماہ بعد چکر لگاتے۔وہ عملیات کے ذریعےجادو ‘ آسیب وغیرہ کا علاج بھی کرتے مگر انہوں نے کسی درویش سے اجازت نہ لی تھی بلکہ علم اور چلہ کی بنیاد پر وہ ایسا کرتے تھے ۔ہمارے پڑوسیوں میں ایک بچی کو مرگی کے دورے پڑتے تھے‘ وہ اُس کو مفت ادویات دیتے کیونکہ وہ لوگ مہنگا علاج نہیں کروا سکتے تھے۔ایک بار تین سے چار ماہ کا عرصہ گزر گیا اور وہ نہ آئے۔مجھے فکر ہوئی کہ سب خیر و عافیت ہو۔میں نے والدین سے درخواست کی کہ ان سے رابطہ کر کے خیر خبر لیں۔ پتہ نہیں وہ کہاں چلے گئے۔ جب وہ مزید کچھ عرصہ نہ آئے تو والد اور والدہ نے فیصلہ کیا کہ خود ان کے گھر جا کر خیرو خبر لیں۔کیونکہ اس وقت موبائل اتنا عام نہ تھا۔امی ابو جب وہاں سے واپس آئے تو بتانے لگے کہ وہ تو سخت بیمار ہیں۔ انہیں چلنے پھرنے میں بھی دِقت پیش آرہی ہے ‘مزید سنئیر ڈاکٹروں نے انہیں دھوپ میں نکلنے سے منع کیا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ میں جلد ہی اپنی بیٹی( یعنی مجھ سے) ملنے آئوں گا۔
جناتی قبیلے سے دشمنی
جب وہ ہمارے گھر آئے تو انہیں دیکھ کر پریشان ہو گئی کیونکہ واقعی ان کی حالت بہت خراب تھی۔ زرد رنگ، کمزوری‘ نقاہت اور بالخصوص بے خودی میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد بات کے دوران خاموش ہو جاتے۔ان کا ایسا اندازاور رویہ میں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔شاید انہوں نے بھی اس بات کو بھانپ لیا اور مجھ سے کہنے لگے’’تم میری بیٹی ہو تم سے کیا چھپانا۔ میں نے خاندان والوں کو بتایا ہے کہ میرے اوپر جادو کا اثر ہے لیکن اصل بات بیٹا یہ ہے کہ ہمارے پڑوس میں ایک گھرانہ ہے۔ اُن بہنوں کا جوان بھائی کافی عرصہ سے عجیب حرکتیں کر رہا تھا‘ کبھی گھر کے برتن توڑ دیتا ‘اُنہیں روز مارتا ‘ دراصل اُس پر کسی شیطانی جن نے قبضہ کیا ہوا تھا۔جب مجھے علم ہوا میں نے اُن سے ہمدردانہ طور پر کہا کہ میرے پاس لے آؤ، وہ اُسے لے آئیں جب میں نے عمل پڑھنا شروع کیا تو جننی حاضر ہو گئی اور بولی کہ ہمارے درمیان نہ آؤ ورنہ پچھتائو گے۔ میں نے اُس کی کسی بات پر توجہ نہ دی ‘اس کے بال کاٹ کر بوتل میں بند کیا اور پھر اس کےبالوں کو آگ لگا دی جس سے جننی بھی جل گئی۔اس دن کے بعد لڑکا تو ٹھیک ہو گیا پر اب اس جننی کے قبیلے والے جنات میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ وہ قبیلہ بہت طاقتور ہے۔
ہمزاد نے بھی دھوکہ دیا
میں نے ڈاکٹر صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ ہمزاد سے کہیں کہ آپ کو ان سے نجات دلائے۔انہوں نے بتایا کہ ہمزاد کا کہنا ہے کہ ان جنات کے مقابلہ میں بہت کمزور ہوں‘ اگر میں درمیان میں آیا تو وہ مجھے بھی مار دیں گے۔ میں تو بہت کمزور ہوں وہ طاقتور ہیں‘ مجھے بھی مار دیں گے۔ کہنے لگے اکثربیٹھا ہوتا ہوں تو کہنیوں جتنے لمبے بھورے رنگ کے جنات ہاتھوں میں لمبے اور موٹے موٹے ڈنڈے اٹھائے مجھ پر حملہ کرتے ہیں اور سب سے پہلے میرے دماغ پر وار کرتے ہیں تا کہ میں اُن کے قابو میں آ جاؤں۔ مجھے کہتے ہیں کہ ہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے ‘تم نے اُس جننی کو مارا ہے۔ان کی باتیں سن کر میں سخت پریشان ہو گئی لیکن انہوں نے خود ہی تسلی دی اور کچھ وٹامنز کی گولیاں جو اکثرمیرے لئے لاتے تھے وہ دیں اور چلے گئے۔ میں اُن کو گیٹ تک چھوڑنے گئی۔ کہنے لگے بیٹا ٹھیک ہوا تو آؤں گا۔ دعائیں دیں اور چلے گئے۔
آخر جنات نے انتقام لے لیا
لیکن حضرت جی آپ ٹھیک فرماتے ہیں کہ جنات اگر انتقام پر آئیں توبہت بھیانک لیتے ہیں۔ ایک ماہ بعد پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب انتقال کر گئے ہیں۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ سے یہ اندر سے ختم چکے تھے۔پہلے ان کے دماغ پر اٹیک ہوا‘ انہیں شدید جھٹکے لگتے ‘ پھرجسم کا اندورنی نظام خراب ہونا شروع ہوا‘گردے ، پھیپھڑے، سینے، دل اور تمام اعضاء خراب ہونا شروع ہو گئے۔ دل کے اندر سے نالی کے ذریعے تھیلی لگی تھی اور اُن کے گھر والے کہتے تھے کہ خون سے تھیلی ایسے بھر جاتی جیسے کوئی جسم کے اندر زخم لگا رہا ہو۔میں سمجھ گئی کہ جنات نے ان سے اپنا انتقام لے لیا ہے۔
قارئین!یہ واقعہ ہمارے لئے سبق ہے کہ جنات اور ہمزاد کو کبھی تابع نہ کریں‘غلام نہ بنائیں اور نہ ہی بغیر کسی کامل کی اجازت سے ایسے عملیات کریں جس کا نتیجہ آپ نے ملاحظہ فرمایا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے‘ آمین!