تلاش

یک ہندو حکیم 1947ء سے پہلے ‘اس کے واقعات کئی لوگوں سے سنے کہ لوگ دور دور سے صحت یابی اور شفاء یابی کے لئے اس کے پاس آتے تھے‘ اس کے پاس دو مٹکے ہوتے تھے ایک سردیوں کے لئے اور ایک گرمیوں کے لئے۔ چونکہ اس وقت گرمی ہے تو گرمیوں کا مٹکا ‘میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں۔
جو بھی شخصچاہے وہ کسی بھی مرض کا شکار ہو گرمیوں میں آتا تھا تو دو پیالے پڑے ہوتے تھے‘ ایک مسلمانوں کا اور ایک ہندوؤں کا‘مزید مٹی کے پیالے ‘ مٹی کے گھڑےا ور مٹکے ہوتے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ اس سے ایک پیالہ پی لو اور گھڑے سے پانی کا ایک پیالہ پلا دیا جاتا تھا‘ اس کو بٹھایا جاتا‘ دوسرے مریض کو دیکھا جاتا‘ کچھ دیر کے بعد اس کو کہتے کہ ایک اور پیالہ پی لو‘ لیکن پیالہ پیتے ہوئے ہمیشہ یہ تنبیہ ضرور کی جاتی تھی کہ گھونٹ گھونٹ پئیں اور چھوٹے گھونٹ پئیں‘ یکایک اور فوراً نہ پئیں‘ ٹھہر ٹھر کر پئیں۔
جگر کے سرطان کا قدیم اور کامیاب علاج
 اگر کوئی قریب کے علاقہ سے مریض ہوتاتو کہا جاتا کہ تین دن  آکر یہ پیالہ پی جایا کرو‘ اگر کوئی دور کا مریض ہوتا تو مٹی کے کوزے مٹکے پڑے ہوتے تھے وہ بھر کر دے دئیے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کو ٹھنڈی جگہ رکھو اور ٹھنڈے پانی میں رکھو‘ بس اس کو پیتے رہو‘لوگ ایسا کرتے اور وہ ٹھیک ہوجاتے تھے۔خاص طور پر پرانا بخار جو نہیں جاتا تھا‘ کالا یرقان جسے آج کل ہیپاٹائٹس کہتے ہیں ‘ایسا جگر کا مرض جس میں جگر سکڑتا چلا جائے یعنی جگر کا سرطان جس کے لئے آج کل جگر کا آپریشن کرنا پڑتا ہے۔ ایسے لوگ جو معدہ کی جلن کے مریض تھے یا ایسے لوگ جو پرانے السر‘ تیزابیت کی وجہ سے کوئی چیز نہیں کھاسکتے تھے‘ منہ میں چھالے‘ منہ پکا ہوا‘ سانس کی نالی زخمی ہے‘ پھیکی چیز کھاتے ہوئے بھی ان کی ہائے ہائے نکلتی ہے ‘ ان کے اندر اکثر بے چینی رہتی ہے‘ بخار سے تپتے رہتےہیں یا ایسے مریض جو کسی بیماری کے بعد اٹھے ہوں اور کمزور ہوں‘ صحت مند ہونا چاہتے ہوں اور بہت علیل ہوں تندرست ہونا چاہتے ہوں۔ جو لوگ دو قدم چلتے ہوں‘ سانس پھولتا ہو‘ ہائی بلڈپریشر حد سےز یادہ ہو‘ شوگر نے جسم کو نچوڑ دیا ہو‘ ٹانگوں کا گوشت‘ پنڈلیوں کا گوشت لٹک گیا ہو‘ وقت سے پہلے بڑھاپا اور کمزوری نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو‘ ایسے لوگوں کو بہت زیادہ یہ پانی استعمال کرواتے تھے ۔
سخت گرمی میں راحت کا سامان
بلکہ یہاں تک سنا ہے وہ لوگ جن کو بھوک نہیں لگتی تھی یا ایسے لوگ جن کو گرمی میں کام کرنا پڑتا تھا ‘مثلاًاس دور میں چنے بہت کھائے جاتے تھے‘ چنے بھوننے والے اکثر آکر گرمی میں کام کرتے تھے‘ تندور پر کام کرنے والے یا ایسے لوگ جن کا شعبہ آگ کا تھا‘ بس وہ آکر پیالہ پیتے تھے کوئی آنا‘ کوئی پیسہ‘ کوئی دو آنے‘ حکیم صاحب کو دے جاتا تھا‘ شام کو اچھے خاصے پیسے جمع کرکےاٹھتے تھے۔ کئی لوگوں نے اس کی ترتیب پوچھی‘ اس کا فارمولہ پوچھا ‘ موصوف کہتے تھے پی جاؤ تم نہیں بنا سکو گے‘ یہ ایسا ٹوٹکہ یا فارمولہ ہے جو تمہارے بس سے باہر ہے‘ بناؤ گے تو تمہیں مقدار اور ترتیب کی سمجھ نہ آئے گی۔ 
دانتوں کے ایک ڈاکٹر جن کا نام ڈاکٹر ویشنم داس پرکاش تھا‘ایک دفعہ وہ کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوئے کہ سارے علاج کروا کر تھک گئے‘ وہ اس پیالے‘ اس مٹکے‘ اس پینے پلانے کے نظام کو نہیں مانتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب نےآخر کار حکیم صاحب کی طرف رجوع کیا‘ حکیم صاحب نے ان کی تھوڑی سی بات سنی اور فوراً وہی بات کہی جو سب سے کہتے تھے جاکر آپ دو پیالے پی لیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی انہوں نے ایک پیالہ پی لیا‘ حکیم صاحب سمجھ گئے انہیں باتوں میں لگائے رکھا‘ تھوڑی ہی دیر میں کہنے لگے ایک اور پیالہ پی لیں‘ ان کی جھجک دیکھ کر اٹھے پیالہ بھر کر لے آئے اور اپنے پاس باتوں میں انہیںپورا پیالہ پلاد یا۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کوئی علاج دوا‘ حکیم صاحب کہنے لگے شام کوآئیے گا دوا دے دوں گا۔
برصغیر کے معروف ڈاکٹر بھی ما ن گئے
 ڈاکٹر صاحب شام کوا ٓئے‘ پوچھا کیسی طبیعت ہے کہا کچھ افاقہ محسوس کررہا ہوں‘ حکیم صاحب کہنے لگے دو پیالے اور پی لیں۔ اب نہ چاہتے ہوئے بھی دو پیالے اور پی لیے کہنے لگے دوائی‘ کہا بس یہی دوائی ہے آپ تین دن آکر صبح و شام دو دو پیالے پی جایا کریں۔ ڈاکٹر صاحب تین دن آئے اور صبح و شام دو پیالے پی گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے حکیم صاحب سے پوچھا آپ نے یہ نہیں پوچھا میرا مرض کیا ہے۔ حکیم صاحب بولے آپ نے سچ کہا میں نے یہ نہیں پوچھا کہ مرض کیا ہے‘ دراصل آپ کی بیماری کی اصل وجہ دن رات بیٹھنا‘ سوچناا ور پرتکلف زندگی اور ایسی غذائیں کھانا جو زیادہ پکی ہوئیں‘ تلی ہوئیں اور مہنگی چیزیں بس یہی چیز تھی جس نے آپ کے جگر‘ معدہ اور دل کو متاثر کیا ‘اس کا علاج یہی پانی تھا۔ایک دم حیران ہوگئے واقعی آپ نے ٹھیک پہچانا یہی وجہ تھی اور اسی وجہ سے سب کچھ ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہاکہ کیا یہ ٹوٹکہ اور فارمولہ مجھے مل سکتا ہے‘ وہ ڈاکٹر صاحب ایسی ہستی تھے جو پورے علاقہ کی بہت بڑی شخصیت تھی ان کے سامنے انکار نہ کرسکے۔وہ ٹوٹکہ فارمولہ ڈاکٹر صاحب نے لیا‘ بارہا خود بنایا پھر ان کو دکھایا‘ ان سے بنوایا وہی کا وہی تھا جو حکیم صاحب نے بنایا تھا اور خود بناتے تھے 
آئیں وہ راز آپ بھی لے لیں
آئیں وہ ٹوٹکہ فارمولہ آپ کو دیتے ہیں۔
ھوالشافی: املی آدھ پاؤ‘ آلو بخارا ایک پاؤ‘ خشک دھنیا50 گرام‘ سونف 50 گرام۔ ان تمام اجزاء کو پانچ کلو پانی میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جدا جدا کرکے رات کو بھگودیں‘ صبح خوب ملیں اچھی طرح ملیں‘ کم از کم ایک گھنٹہ دونوں ہاتھوں سے ان کو ملتے رہیں‘ اتنا ملیں کہ یہ سب خود پانی ہوجائے۔ اب اس سب کو برتنوں میں ڈال کر فریج میں رکھیں۔ میں فریج میں اس لیے رکھوا رہا ہوں کہ حکیم صاحب روز بناتے تھے اور ان کے پاس روز لوگ مٹکے سے پی جاتے ‘ اگر آپ نے بھی روز بنانا ہے تو اس کی مقدار کم کرکے روز بنا سکتے ہیں۔ بس اب اس کو آپ پیتے رہیں‘ گٹھلیاں‘ چیزیں‘ نیچے رہ جائیں گی‘ اوپر نتھرا ہوا پانی آپ پیتے رہیں گے‘ چاہیں روزانہ بنائیں ‘جو روزانہ بنائیں گے اس کی تاثیر کا فائدہ بہت لاجواب ہوگا۔ یہ ٹوٹکہ بہت کمال چیز ہے‘بہت سی بیماریوں میں کام آئےگا۔