لسلام علیکم! چند سال پہلے کی بات ہے ڈاکٹرز کی کانفرنس کے لیے کینیڈا (Canada) سے ایک خاتون ڈاکٹر شرکت کرنے کے لیے پاکستان آئیں ۔ تین روزہ کانفرنس تھی لیکن ان کا قیام کچھ طویل تھا ۔ لنچ بریک میں پاکستانی دیگر سٹاف کے ساتھ کھانے میں ان کا رویہ کافی محتاط سا ہوتا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید انھیں کھانا پسند نہیں آیا۔ انٹرن ڈاکٹرز کو بھی وہ کافی گہرائی سے پرکھتی (Observe) نظر آتی تھیں۔ جیسے جیسے سیشن آگے بڑھتا گیا وہ کچھ گھل مل گئیں اور بالآخر کانفرنس ختم ہونے سے پہلے ان سے یہ بات پوچھ ہی لی گئی کہ ’’کیا آپ کو کھانا پسند نہیںآیا؟‘‘ اس سوال پر پہلے تو وہ بہت معذرت خواہ ہوئیں کہ ان کا رویہ شاید بہت سے لوگوں کی دل آزاری کرنے کا باعث بنا ہے یا شاید انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا بہرحال انھوںنے کہنا شروع کیا ’’آپ لوگوں پر دوسروںکی صحت کی ذمہ داری ہے اور میں حیران ہوں آپ لوگ کیسے اِتنا غذائیت سے خالی کھانا کھا سکتے ہیںا ور کافی اور چائے کا تو کوئی حساب ہی نہیں ۔ ان کھانوں میں موجود چینی، میدہ اور گھی کی بڑی مقدار نے مجھے ایسا محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کر دیا۔ میں معذرت خواہ ہوں مگر آپ سب لوگوں کو اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ بہت سے انٹرن اور سٹوڈنٹس جس حساب سے چپس اور بسکٹ کھاتے نظر آ رہے ہیںاتنا میرے بچے صرف خاص موقعوں پر بالکل تھوڑا سا کھاتے ہیںان کو اجازت نہیں دی گئی کہ وہ انھیں خوراک کی جگہ کھائیں۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ آپ خود کے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کیا ڈائٹ پلان استعمال کرتی ہیں تو ان کا جواب سب کو حیرا ن کر گیا۔
کینیڈا سے آئی ڈاکٹر کے مفید تجربات!
’’میں پریکٹس کے دوران ہسپتال اور کلینک میں اپنا کھانا جو کہ سبزیوں اور گوشت کے ایک حصے پر مشتمل ہوتا ہے وہ گھر سے بنا کر لے جاتی ہوںاو رہلکی پھلکی بھوک (Snacks) کے لیے ڈرائی فروٹ ایک مٹھی اور تازہ موسم کا پھل میرے ساتھ ہوتا ہے۔ لمبی گھنٹوں کی شفٹ میں ایک کپ بلیک کافی میں ناریل کا تیل ایک چمچ ڈال کر لیتی ہوں۔ اس کےعلاوہ کیفین اور کافی کا بے دریغ استعمال ہمارے ہاںاچھا نہیں سمجھا جاتا کہیں بھی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔‘‘
بازاری کھانوں کی لَت سےنسلوں کو محفوظ رکھیں:’’جہاں تک بات رہی میرے بچوں کی تو ان کی جیب سے چاکلیٹ کی بجائے آپ کو کھجوریں ملیںگی اور چپس سے بھوک مٹانے کے بجائے وہ گھر کے بنے انرجی بار کھاتے ہیں۔ بحیثیت ایک ماں کے یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ان کے لیے صحت مند(Healty) کھانے پہلے سے بنا کر فریج میں تیار رکھوں تاکہ ان کو بازاری جنک فوڈ کی طرف نہ جانا پڑے ۔ آخر میں آپ کو بھی میرا یہ پیغام ہے کہ اپنی خوراک کو بہتر کرنے پر ترجیح دیں کیونکہ جنک(فاسٹ) فوڈ جتنا جلدی صحت کو برباد کرتا ہے اتنا جلدی کوئی چیز اثر نہیں کرتی۔ آپ صرف یہ دیکھ لیں کہ آپ پورے دن میں کس قدر صحت کو تباہ کرنے والی چیزیں کھاتے ہیں اور ان سے اجتناب کرنا شروع کر دیں تو آپ کی صحت قابلِ رشک ہو جائے گی۔
ٹافی اور چاکلیٹ کا بہترین متبادل :یہ نصیحت میرے پاس ایک امانت تھی جو کہ قارئین تک پہنچانا میرا فرض تھا۔ اگر ہم دیکھیں تو نوجوان نسل اور بچوں کو ہم کس طرح سے ان چیزوں کا عادی کر رہے ہیں۔ کھجوریں جو کہ مسنون غذائوں میں سے ہیں ان کا استعمال ہم نے صرف رمضان تک محدود کر دیا ہے جو کہ آنے والی نسل کے ساتھ زیادتی ہے۔ روزانہ بچوں کو چاکلیٹ اور ٹافی دینے کی بجائے انھیں کھجوریں دیں۔ انرجی بار کے استعمالسے آپ کے بچوں کی صحت تو اچھی ہوگی ہی ساتھ ہی ساتھ ذہنی نشوونما بھی بہتر ہوگی اور کارکردگی کے لحاظ سے بھی آپ کےبچے کامیابی کی منزل طے کریں گے۔انرجی بار بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے۔
ترکیب: کھجور ایک پائو، بادام ایک چھٹانک، کاجو ایک چھٹانک، پستہ ایک چھٹانک، سفید تِل حسب ِ ضرورت، مکھانے حسب ِ ضرورت، ناریل کا برادہ کوٹنگ کے لیے۔ تمام تر ڈرائی فروٹ کو تھوڑے سے دیسی گھی میں بھون کر پیس لیں اور کھجوروں کے گاڑھے آمیزے میں مکس کر لیں اور لڈو تیار کر لیں۔ ناریل کے پائوڈر سے کوٹ کر لیں تاکہ بچو ں کو اسے دیکھ کر چاکلیٹ بالز کا گمان ہو