محترم قارئین السلام علیکم!چند ماہ پہلے عبقری رسالہ میں موبائل فون کے منفی استعمال کے اثرات پر تحریر پڑھی جس کے بعد قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا کہ اس ضمن میں اپنا تجربہ بھی تحریر کروں۔میں جو واقعہ تحریر کررہی ہوں یہ کسی جاننے والے یا عزیزکا نہیں بلکہ اپنی آپ بیتی ہے۔
میرا ایک بیٹا جو جوانی کی عمر میںپہنچ چکا ہے ‘ اسے بہت لاڈ پیار سے پالا۔لیکن وہ بچپن سے پڑھائی میں زیادہ دلچسپی نہ لیتا تھا‘بہت کوشش اور محنت کر کے اسے پڑھایا ‘پھر اس نے قرآن حفظ کرنا شروع کیا‘ پڑھائی میں بہتر ہونا شروع ہو گیا۔اس کے بعد عصری تعلیم دوبارہ سے شروع کی۔ہمیں کچھ تسلی ہوئی کہ بیٹا اب پڑھائی میں چل پڑے گا لیکن بدقسمتی سے اسے موبائل کی لَت لگ گئی اور وہ دوبارہ سے پڑھائی میں کمزور ہوناشروع ہو گیا‘ حتیٰ کہ ایک کلاس مکمل کر نے میں دو سے تین سال لگانا شروع کردئیے۔اس کا دل پڑھائی سے اُچاٹ چکا ہے کبھی کہتا ہے میں نے کوئی ہنر سیکھنا ہےاور کبھی کچھ۔پھر اس نے پڑھائی چھوڑ کر کام کرنا شروع کیا لیکن چند ماہ بعد وہ بھی چھوڑ دیا۔پھر ٹیکنیکل ڈپلومہ کرنے کی خواہش ظاہر کی‘ ہم نے بھی رضا مندی ظاہر کی کہ شاید اس کے بعد وہ اپنے پائوں پر کھڑا ہو جائے‘ اس کا مستقبل سنور جائے مگردو سال کا ڈپلومہ چار سال گزر جانے کے باوجود بھی مکمل نہ ہوسکا کیونکہ اس کی زیادہ تر توجہ مو بائل پرہی ہوتی ہے۔سارا دن موبائل پر ایک مشہور گیم کھیلتا رہتا ہے جس کی لَت میں آج کل بہت سے نوجوان مبتلا ہیں۔اِس گیم کے اُس کے ذہن پر بہت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔گھر کے حالات اس قدر خراب ہیں بیٹیاں نوکری کرنے پر مجبور ہیں مگر اسے احساس تک نہیں۔بڑی مشکل سے گزر بسر ہو رہا ہے۔اکثر ادھار رقم لے کر گزارا کرناپڑتا ہے مگر اسے ذرا برابر بھی احساس نہیں۔مسائل دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں۔
قابل بیٹا ناکارہ ہو گیا
سارا دن موبائل استعمال کرنے اور اشتعال سے بھر پور گیم کھیلنے کی وجہ سے اس کی طبیعت پر اثر پڑ رہا ہے‘ اپنی ناکامیوں کا ملبہ گھر والوں پر ڈالتا ہے۔بڑی بڑی باتیں‘ دعوے اور کامیاب کاروباری بننے کی باتیں کرتا ہے لیکن عملی طور پر بالکل ناکام ہے۔اب گھر والوں کے بارے میں بھی منفی باتیں سوچنے لگ گیا ہے۔جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتا ہے اس میں ناکامی ہوتی ہے۔ہم نے اسےبہت سمجھانے کی کوشش کی کہ موبائل کی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا کو دیکھے اورحالات کا مقابلہ کرے مگر وہ یہ بات سننےاور ماننے کو تیار نہیں۔موبائل فون اور گیم کی لَت کی وجہ سے قرآن پاک پر توجہ چھوڑ دی اور جو قرآن حفظ کیا تھا وہ بھی بھول گیا۔بیٹے کی اس علت کی وجہ سے سخت پریشان ہوں ‘ شوگر‘ بلڈ پریشراورمختلف بیماریوں کا شکار ہو چکی ہوں مگر حالات اس قدر سازگار نہیں کہ ان کا مستقل علاج کرواسکوں۔موبائل فون کی لَت نے میرے قابل بیٹےکو ناکارہ بنا دیا مگر اسے احساس تک نہیں اور ہم اب خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔
میری اس تحریر کا مقصد قارئین کوباور کرانا ہے کہ خدارا اپنے بچوں کی تربیت کا بچپن سے ہی ٹھیک تعین کریں۔لاڈ پیار یا ضد کی صورت میں ان کے ہاتھوں میں موبائل نہ تھمائیں ورنہ میری طرح خدانخواستہ آپ بھی اپنی اوران کی زندگی برباد کربیٹھیں گے۔