تلاش

محترم حضرت حکیم صاحب السلام علیکم!میری بیوی کو بچپن سے ہی ڈسٹ الرجی ہے، جب بھی گندم کی کٹائی کا موسم آتا ہے تو اسے سانس کی تکلیف شروع ہو جاتی ہے ‘کھانسی‘ نزلہ تو عمومی بات ہے ۔ مجھے یہ نسخہ ایک تجربہ کار حکیم صاحب سے ملا۔وہ عموماً یہ نسخہ کسی کو نہیں دیتے مگر میری ان سے دوستی ہے ، اس لئےانہوں نے مجھےیہ نسخہ دیا اور شفقت فرمائی۔میں خود بھی طب کے شعبہ سے و ابستہ ہوں‘ اس لئے یہ نسخہ بناتے وقت میں نے دل میں فیصلہ کیا تھا کہ اسے الرجی اور دمہ کے مریضوں کو مفت دوں گا‘بس اللہ پاک میری بیوی کو شفاء دے دیں ۔ چنانچہ میں نے یہ نسخہ تیار کیا اور میری بیوی نے استعمال کرنا شروع کردیا، اس سے انہیں بہت فائدہ ہوا۔ یہ نسخہ استعمال کرتے ہوئے بعض اوقات طبیعت خراب محسوس ہوتی ہے‘ مریض چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہو تا ہے حتیٰ کہ واش روم تک جانا مشکل ہو جاتا ہے ،کیونکہ بیماری جسم سے باہر نکل رہی ہوتی ہے ‘ دل تھام کر بیوی نے یہ نسخہ استعمال کیا اور اللہ نے شفا ء دی ۔ پھر میں نے یہ دوائی اپنے ایک دوست کو دی اسے پولن گرین الرجی تھی ُجب بہار کا موسم آتا تو درخت وغیرہ پھوٹتے ہیں ان دنوں اسے بہت زیادہ تکلیف ہوتی تھی، نزلہ ، کھانسی، چھینکیں عموماً رہتی تھیں ۔ اس نے بھی بہت سے علاج معالجے کروا کردیکھے مگر شفایاب نہ ہو سکا۔
میں نے یہی نسخہ بنا کر اسے مفت دیا‘اس نے کچھ عرصہ استعمال کیا جس اللہ نے اسے شفاء دی اور وہ بالکل ٹھیک ہو گیا ۔اس کے بعدوہ میرے پاس 3 سے 5 مریض ایسے لایا جو ایسے ہی ا مراض میں مبتلا تھے ‘میں نے سب کو یہ نسخہ بنا کردیا،اللہ کا کرم ہے کہ ان تینوں کو شفاء ملے۔
چلنے پھرنے سے عاجز مریض صحت یاب
 ہمارے محلے میں ایک مریضہ ایسی تھیں جنہیں دمہ کاشدید مرض تھا ، انہیں بھی یہ نسخہ استعمال کرنے کے لئے دیا تو انہوں نے چند دن ہی استعمال کر کے چھوڑ دیا جس وجہ سے انہیں کافی فائدہ ہوا مگر انہوں نے چند دن استعمال کر کے چھوڑ دیا جس وجہ سے پورا فائدہ نہ ہوا کیونکہ یہ نسخہ حضرت صاحب آپ کے بولوں پر پورا اترتا ہے ، جو اکثر عبقری کی ہر دوا پر لکھے ہوتا کہ دشمن کا باہر نکلنا ہی بہتر ہے ۔اس کے بعد بھی میں نے مذکورہ امراض میں مبتلا بہت سے مریضوں کو یہ نسخہ استعمال کروایاجس سے وہ شفایاب ہوئے۔اس کے استعمال سے بلغم بہت خارج ہوتی ہے لیکن سینہ صاف ہو جاتاہے۔ میری بیوی نے جب استعمال شروع کیا تو ریشہ کی طرح پیلا بلغم بہت نکلتا تھا اور بے حساب نکلتا تھا جس وجہ سے  انہیں چلنا پھرنا بھی مشکل ہو گیا تھا‘چارپائی ،واش روم کے قریب بچھائی ہوئی تھی، وہاں سے بھی جانا مشکل تھا جاتی تو سانس پھول جاتا ، واپس بھی رک رک کر آتیں ، مگر جو بلغم بے حساب نکلتی رہی‘ چند ہی دنوں میں سینہ بالکل صاف ہو گیا، سانس کی تنگی دور ہوگئی اور الرجی بھی بالکل ٹھیک ہو گئی ۔
بےجان جسم کیلئے بے بہا طاقت
 یہ نسخہ مریض کو دیتے ہوئے پہلے بتا دیتا ہوں کہ ایسی حالت ہوگی،پریشان نہیں ہونا،پھرمکمل سکون آ جائے گا۔الحمدللہ جس کو بھی یہ نسخہ دیا اللہ نے اپنے فضل سے اسے شفاء دی۔
ھوالشافی :سنبل کار سیاہ 2 تولہ ‘گائے کا دودھ 6 کلو‘اصیل مرغی انڈے 2 عدد لیں۔سنبل کار سیاہ کو ایک بڑے دیگچے میں رکھ کر اوپر سے گائے کا 6 کلو دودھ ڈال دیں اگر گائے کا دودھ پہلی دفعہ جس گائے نے بچہ جنا ہو، اس کا ہو تو زیادہ فائدہ ہوگا ، ورنہ کوئی بھی مل جائے۔ دیگچے کے نیچے ہلکی آنچ والی آگ چلا دیں‘ اصیل مرغی کے انڈے بغیر توڑے اس میں رکھ دیں اور ابلنے دیں۔ دودھ کو پکاتے ہوئے خیال رکھیں دودھ کے چھینٹے ہاتھوں پر نہ پڑیں کیونکہ جہاں پر بھی پڑیں گے آبلے بن جائیں گے ، کیونکہ کہا جاتا ہے سنبل فار سیاہ وہ پتھر ہے جس پر کالا شیش ناگ اپنا زہر اگلتا ہے ، احتیاط ضروری ہے ، اس دودھ کو اتنا پکائیں کہ 6 کلو میں سے آدھا کلو رہ جائے ، یہ کھویا بن جائے گا ، اب اسے اتار کر ٹھنڈا ہونے دیں ، اس میں انڈے نکال لیں ، انڈوں کو دھو کر چھیل لیں ، زردی الگ کرلیں ، سفیدی اور کھویا والا دودھ کہیں گڑھا کھود کر دبا دیں تاکہ کوئی جانور نہ کھالے ، اور اس کی موت واقع نہ ہو جائے ۔ اب جو انڈے کی زردیاں نکالی تھیں ، انہیں سائے میں خشک ہونے کے لئے رکھ دیں جب یہ خشک ہو جائیں تو باریک پیس لیں ۔ 
خوراک:صبح و شام 2 چاول کی مقدار جتنی دوائی ایک چھوٹا چمچ خالص چھوٹی مکھی کے شہد میں ڈال کر چاٹ لیں ۔ 7دن صبح و شام یہ نسخہ استعمال کرنا ہے، اگر مرض کچھ باقی رہے تو15 دن کا وقفہ کرکے دوبارہ شروع کر یں ۔
اس کا ایک اور طریقہ ہے ، سنبل فار سیاہ کو کسی کپڑے میں لپیٹ کر دیگچے میں لٹکا دیں تاکہ دودھ میں اس کا اثر نکلتا رہے، جب انڈے نکال لیں ‘جو کھویا بچے اسے جاگ لگا دیں تاکہ دہی بن جائے، صبح اس دودھ کو مدھانی سے گرینڈ کرکے مکھن نکال لیں ، یہ مکھن ایسے مرد جو طاقت کے لحاظ سے بالکل ختم ہوگئے ہوں‘ بہت کارآمدہے ، اس سے مالش کریں اور صبح نیم گرم پانی سے دھو لیں ،تین سے چار دنوں میں رزلٹ دیکھیں آپ خود حیران رہ جائیں گے، آزمودہ ہے۔
۔