نبی کریمﷺ کی حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے: ’’ اگر کسی شخص نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی لی تو اس قبضہ شدہ زمین کے عوض روز قیامت اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ ‘‘ اس ضمن میں جو واقعہ تحریر کرنے لگی ہوں یہ ہمارے اپنے خاندان کا ہے۔
اللہ کی توفیق سے میرے والدین بہن بھائیوں کا رویہ غریبوں، بے زبانوں اور رشتے داروں سے اچھا ہے لیکن اس سب کے باوجود بھی ہم پر عجیب طرح کی آزمائشیں ہیں۔ میری بڑی بہن جس کی ایک ہی بیٹی ہے اور وہ بھی ذہنی طور پر مفلوج اور بے بس ہے‘ذہنی حالت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے سب کو آخری درجے کا تنگ کرتی ہے۔اس کا کئی بار علاج کروانے کی کوشش کی مگر فائدہ نہ ہوا۔ مجھ پر بھی کئی سال سے شیطانی اثرات ہیںجس کی وجہ سے میری گردن کا پچھلا حصہ بھاری ہو جاتا ہے اور بہت درد کرتا ہے۔ میری چھوٹی بہن جو اب جوان ہو چکی ہے‘اس کی پیدائش ہوتے ہی ابا کے ماموں نے لے لیا تھا کیونکہ ان کی اولاد نہیں تھی۔ اس کے ساتھ بھی عجیب قسم کا مسئلہ ہے۔ اس کا دماغ، آنکھیں اور بالخصوص حرام مغز والی جگہ بہت زیادہ درد کرتی ہے۔ وہ درد کی وجہ سے بہت زیادہ کراہتی ہے‘بتاتی ہے کہ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے گردن کٹ کر چُور ہو جائے گی کیونکہ اس پر پہاڑ کی طرح کسی چیز کا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ اس کی زندگی بھی سخت ترین آزمائشوں میں ہے۔ اس کا درد جاتا ہی نہیں‘ ہر طرح کا طبی علاج کروا کر بھی دیکھ لیا مگر ذرا برابر بھی فائدہ نہ ہوا‘حیرت کی بات یہ ہے کہ جب بھی ان کے امراض سے متعلق ٹیسٹ کروائے گئے تو رپورٹس بالکل ٹھیک آتی ہیں۔آئے دن ہم سب گھر والوں پر کوئی نہ کوئی مصیبت‘ بیماری یا مشکل گلے پڑی رہتی ہے۔ہم نے ان مسائل سے نجات کے لئے تمام اسباب اختیار کیے مگر اس کے باوجود بھی ناکام رہے۔
معذور شخص کے ساتھ ظلم
میں اکثر سوچتی تھی اور دل ہی دل میں اللہ تعالیٰ سے عرض کرتی تھی کہ مالک ہم نے پوری کوشش کی ہے کہ انسان کےعلاوہ کسی جانور کے ساتھ بھی کوئی ظلم نہ کریں مگر اس کے باوجود بھی پے درپے ہم سب پر اتنی بڑی آزمائشیں کیوں ہیں۔
اس کا جواب کچھ عرصہ قبل ایک قریبی رشتہ دار سے ملا۔کسی موقع پر کچھ قریبی رشتہ دار جمع تھے‘ایک رشتہ دار خاتون نے بتایا کہ ہمارے دادا ابواپنے علاقہ کے بڑے اور اثر و رسوخ رکھنے والے شخص تھے۔وہ کمزور لوگوں پر ظلم کرتے تھے یعنی اپنے غلبہ کی وجہ سےغریب لوگوں کی زمین ہتھیالیتے تھے۔
جائیداد گلے کا طوق بن گئی
ایک بار انہوں نے کسی معذور شخص کی زمین پر ناجائز قبضہ کرلیا‘اس نے بہت منت سماجت کی مگر دادا جی کو ترس نہ آیا اور انہوں نے زبردستی اس شخص سے زمین لے کر قبضہ کر لیا اور اپنے ایک قریبی عزیز کو خوش کرنے کے لئے وہ زمین اسے تحفے میں دے دی۔جن کے نام زمین کی گئی وہ شخص بھی بیماری کی وجہ سے معذور ہو کر چارپائی کے ساتھ لگ گیا‘پاخانہ بھی چارپائی پر نکل جاتا تھا‘ذلت کی موت نصیب ہوئی۔دادا ابو کا انجام بھی برا ہوا‘بہت مشکل سے روح نکلی‘ ان کی دولت اور چودھراٹ کسی کام نہ آئی۔اپنی بیمار بہن جن کا تذکرہ کیا وہ اسی گھر میں رہتی ہے جسکی زمین نا حق لی گئی تھی۔
آج ہمارے گھر اور خاندان میں جو تباہی‘ بربادی‘ بیماریاں اور ناکامیاں ہیں‘اس کے پیچھے اس معذور شخص کی بددعائیں ہیں جن کی زمین نا حق ہمارے دادا ابو نے ہتھیائی تھی‘اس کا خمیازہ آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔دادا جی کی طرف سے اب استغفار کرتی ہوں‘ اللہ سے دعا مانگتی ہوں‘ظلم کی یہ نحوستیں اب ختم ہو جائیں۔یہ واقعہ اس لئے تحریر کیا تاکہ ہم عبرت حاصل کریں‘اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم کرنے سے محفوظ رکھے‘ آمین!