شادی کےبعد ہر دلہن کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے سسرال کی چہیتی بہو اورمیاں جی کی لاڈلی بیوی بن جائے۔ کوئی فیصلہ اس کی رضا مندی کے بغیر نہ ہو۔ کسی تقریب میں جائے تو لوگ اس کا پوچھیں یا اگر خدانخواستہ بیمار ہو تو سب اس کے لیے پریشان ہوجائیں۔ مختصر یہ کہ ہردلعزیز بننے کی خواہش سب میں ہوتی ہے اور ایسے میں نئی دلہنیں مختلف ترکیبیں سوچتی ہیں۔ یقیناً کچھ گر ایسے ہیں جنہیں اپنا کر آپ بھی اپنے سسرالیوں اور میاں جی کو اپنا گرویدہ بناسکتی ہیں ۔ اس کے لیے آپ کو چند چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔
خود کو دوسروں کی پسند میں ڈھال لیں
ہماری روایات کے مطابق ایک لڑکی کو ہی شادی کے بعد دوسرے گھر میں آکر رچنا بسنا ہوتا ہے۔ درحقیقت ہر گھرکی اپنی مخصوص روایات ، رہن سہن اور طور طریقے ہوتے ہیں اسی طرح ہر شخص کا مزاج بھی جداگانہ ہوتا ہے۔ کچھ لڑکیاں نادانی میں سسرا ل کے رنگ میں رنگنے کے بجائے ان کو اپنے مزاج میں ڈھالنے کی کوشش کرتی ہیں جیسےکچھ دلہنیں بات بےبات یہ کہتی نظر آتی ہیں کہ ’’ہمارے یہاں تو ایسا نہیں ہوتا یا بھئی میری عادت تو ایسی ہی ہے‘‘ اس طرح کے جملے سسرالیوں کے دل میں آنے والی کے لیے منفی جذبات پیدا کرتے ہیں کیونکہ اس طرز عمل سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ لڑکی خود کو اپنے میکے والوں کو بہت اعلیٰ جبکہ سسرال والوں کو کم حیثیت گردانتی ہے‘ اس لیے سمجھداری کا ثبوت تو یہ ہے کہ آپ سسرال والوں کی پسند ناپسند کو یوں اپنائیں گویا آپ بھی انہی کا حصہ رہی ہوں اگر کوئی بات آپ کوناگوار گزرتی بھی ہو اورآپ کوئی مثبت تبدیلی لانے کی خواہاں ہوں تو اس کورائج کرنے کے لیے ہنگامی لائحہ عمل ٍتیار کرکے لاٹھی نہ تھام لیں بلکہ آہستہ آہستہ نہایت سست روی سے اپنی بات کی اہمیت ثابت کریں کبھی بھی اپنے سسرال والوں کا موازنہ اپنے میکے سے نہ اور شوہر کا مقابلہ کسی بھی دوسرے مرد سے نہ کریں۔
محبت کو شعار بنالیں
محبت میں بڑی طاقت ہوتی ہے ۔ ہر شخص کو چاہے جانے کی خواہش ہوتی ہے ہر کوئی توجہ کا متقاضی ہوتا ہے اس لیے خود کو محبت کے ہتھیار سے لیس کرلیں۔ سسرال کی ہر تقریب میں ہنسی خوشی شرکت کریں۔ فون پر رابطے بحال رکھیں۔ ساس، نندوں کے رشتے داروں اور سہیلیوں سے خلوص سے پیش آئیں۔ شوہر کا موڈ خراب ہو تو آپ ان سے الجھنے کے بجائے محبت سے ان سے وجہ دریافت کریں ان کا دھیان بٹانے کی کوشش کریں۔ سسرال والوں اور شہر کی جانب سے ملنے والے چھوٹے سےچھوٹے تحائف کی بھی دل کھو ل کر تعریف کریں اور انہیں اپنے استعمال میں لائیں۔ نندیں اگر غیر شادی شدہ ہیں تو ان کا بھی خصوصی خیال رکھیں۔ ان سے دوستی کا رویہ اپنائیں، شادی شدہ نندوں کے آنے پر منہ نہ بنائیں۔ اہم معاملات میں شوہر اور ساس سسر کی رضا مندی کو شامل کریں۔شوہر حضرات شکی بیویوں سے دور بھاگتے ہیں اس لیے شوہروں پر بلا وجہ شک نہ کریں نہ ان کی پرائیویسی میں دخل دیں۔ جیسے ہر تھوڑی دیر بعد ان کا موبائل کرنا یا ان کی آئی ڈی کا پاس ورڈ حاصل کرنے کی ضد کرنا ٹھیک نہیں