آج کے دور کے بچے بہت تیزی سے ہر چیز کی کھوج میں لگے رہتے ہیں۔ وہ ایسے موضوعات تک پہنچ جاتے ہیں جس متعلق انہیںبچپن میں علم نہ ہوتا بہترہے۔ ان کی سوچ، باتیں، انداز و بیان اور حرکات و سکنات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ پرانےزمانے کے بچوں کی طرح ،بھولے بھالے اور لاعلم نہیں ہیں۔
معاشرہ‘ بچے کی تربیت گاہ
پرانے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ بچہ جب گھر کی تربیت لے کر باہر جاتا ہے تو معاشرہ جس بھی قسم کا ہوبچے پر اثر نہیں کر پاتا۔ مگر آج کل کے معاشرے میں اس کا الٹ ہو رہا ہے۔ گھر کی تربیت نہ ہونے کے برابر ہے۔یوں جو چیزیں وہ گھر سے نہیں سیکھ پاتا وہ معاملات چاہے اچھے ہوں یا برے اس کو معاشرہ سکھا دیتا ہے ۔ پھر بعد میں والدین اس بات کا رونا روتے ہیں کہ بچے باہر سے غلط حرکات سیکھ کر آتے ہیں۔ تو یہاں سوال والدین سے یہ ہے کہ کیا آپ نے ان کی بھرپور تربیت کی تھی؟ کیا آپ اپنے بچوں کو زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنے کا حوصلہ دیتے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ بچے آپ سے سیکھنے کے بجائے باہر کی باتوں پر عمل کرتے ہیں؟
کمپیوٹر‘میڈیا اور بچوں کی تربیت
بچہ تو ایک کھلی کتاب ہے‘ ایک ایسا سادہ صفحہ کہ آپ اس پر جو رنگ بکھیریں گے وہ ان رنگوں کو جذب کرے گا ۔اہم بات یہ ہےکہ آپ کون سے رنگ اپنے بچوں کو دے رہے ہیں۔ آج کمپیوٹر،انٹرنیٹ اورموبائل فون کا دور ہے ۔چھوٹی عمر کےبچے کھیل کودکے بجائے انہیں ترجیح دیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔اگر آپ ان چیزوں پر گھر میں پابندی بھی لگا دیں تب بھی آپ کے بچوں کے پاس ان کو استعمال کرنے کے اور بہت سے طریقے موجود ہیں۔
بچے کی فطری صلاحیتوں کو نکھاریں
اپنے بچہ کی فطری صلاحیتوں کو جانیے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ ان کی آزادی سلب کر لیں لیکن یہ آپ کا نہ صرف فرض ہے بلکہ حق بھی ہے کہ آپ اس بات پر نظر رکھیں کہ دن بھر آپ کا بچہ کیا کرتا ہے۔کوشش کریں کہ جب بچہ سوشل میڈیایا انٹرنیٹ کا استعمال کر رہا ہوتو آپ اس کےبڑھتےہوئے رحجانات کا جائزہ لیں۔ آپ دیکھیں کہ آپ کا بچہ کسی چیز میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔اپنے بچوں کی فطری صلاحیتوں کو جانیےاور اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ کن حالات میں خوش رہتا ہے۔ مار دھاڑ اور تشدد کے راستے پر اگر آپ کے بچے کا رحجان ہے تو اپنے پیار اور محبت سے ان خیالات کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ آپ یہ سوچیں کہ آپ کا بچہ آپ سے کتنی دیر بات چیت کرتا ہے اور کتنی دیر خیالی دنیا میں رہتا ہے۔ اگر آپ اپنے بچے کو خیالی دنیا کا مسافر بنا دیں گے تو پھر وہ صرف اس رنگین دنیا کا ہو کر رہ جائے گا۔
بچوں کی بے جا خواہشات
بچے جو فرمائش کریں اسے پورا کرنا ماں باپ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔بچوں کی بےجا خواہشات کو بھی بعض والدین اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ پھر وہ بچے خود سر اور خود پسند ہو جاتے ہیں اور یہ عادت بڑے ہونے پر ان میں مزید پختہ ہو جاتی ہے۔کوشش کریں کہ اپنے بچوں کو بہتر تربیت اور تہذیب دینے کے ساتھ ساتھ ان کو اپنا بھر اور بھروسہ دیں تا کہ وہ خود کو آپ کے قریب تصور کریں۔
بچوں کی عزت نفس کا خیال رکھیں
سکول سے آنے کے بعد بچے سے سکول کے متعلق سوالات کریں اور جاننے کی کوشش کریں کہ اس کی پورے دن کیا کار کردگی رہی۔ان سے دوستی لگائیں ‘ان کی باتوں کو اہمیت دیں۔پڑھائی کے دوران انہیں کس قسم کی مشکل پیش آرہی ہے اس متعلق بات کریں اور پھر اس کے تدارک کے لئے انہیں ایک اچھے انداز میں مشورہ دیں۔
اپنا غصہ بچوں پر نہ اتاریں اگر آپ کسی بات پر سخت برہم ہیں تو کوشش کریں کہ اپنے بچوں سے نارمل رہیں کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے جب کچھ پوچھنے ماں باپ کے پاس آتے ہیں تو دونوں اپنی کسی الجھن کو لے کر پریشان ہوتے ہیں اور سارا غصہ بچے پر اتار دیتے ہیں اور بعض اوقات ہاتھ بھی اٹھا دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے آپ کے بچے سہم کر رہ جاتے ہیں۔ ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے اور آپ یہ محسوس کریں گے کہ وہ بچہ جو ہر بات پر بھاگ بھاگ کر آپ کے پاس آیا کرتا تھا آپ سے دور ہو گیا ہے۔ آپ کا ایک غلط رویہ آپ کے بچے کو احساس کمتری کا شکار بنادے گا۔اس بات کا بھی خیال کریں کہ آپ اپنے بچے کو سب کے سامنے نہ ڈانٹیں اور نہ جھڑ کیں کیونکہ بچہ اس بات کو اپنی تو ہین محسوس کرتا ہے۔بچہ کو سمجھاتے ہوئے سخت الفاظ استعمال نہ کریں تا کہ بچہ اس بات کو محسوس کر ے کہ غصہ کے وقت بھی اس کے ماں باپ غلط الفاظ استعمال نہیں کر رہے‘ خود بھی غصہ کے وقت غلط اور نازیبا زبان استعمال کرنے سے گریز کرے گا۔
پور اعتماد(