ہمارے خاندان میں باپ داداسے جانور پالنے کا رحجان چلا آرہا ہے۔ہمارے گھر میں پچاس سے ساٹھ بطخیں تھیںاور ایک تالاب گھر کے ساتھ بنایا ہوا تھا اس میں تیرتی رہتی تھیں،اڑھائی سو کے قریب مرغیاں‘ خرگوش اور دوسرے جانور بھی رکھے ہوئے تھے۔جب بھی کسی جانورکو کو ئی کٹ لگ جاتااوراگر زخم ہو جاتا چاہے وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو تو ہم اس زخم کی جگہ حسب ضرورت سرسوں کا تیل اور ہلدی مکس کر کے لگادیتے جس سےچند ہی دنوں میں زخم بھرجاتا تھااور اگر زخم کم ہو جاتا ۔اس دوران اگر زخم تھوڑا رہ جاتا اور جلد فرق نہ پڑتا تو پھرہم سوت کا کپڑاپانی میں خوب اچھی طرح بھگو کر اسی گیلے گیلے کپڑےکوپٹی کے طور پرزخم پر باندھ دیتے تھے،جب تک کپڑا خشک ہوتا تھا زخم بھی ٹھیک ہو چکا ہوتا تھا۔ یہ نسخہ ایک بار نہیں بلکہ بارہا آزمایا اور ہر مرتبہ مجرب پایا۔میرا مشورہ ہے جن لوگوں نے جانور پال رکھے ہیں ‘ اگر انہیں ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو وہ یہ نسخہ ضرور استعمال کریں ‘ ان شاءاللہ فائدہ ہوگا۔