تلاش

ایک نبوی ﷺ عمل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی کبھار ننگے پاؤں بھی چلتے تھے‘ ظاہر ہے مدینہ کی گلیاں مٹی اور ہلکے پتھروں میں گوندھی ہوئی تھیں اور مٹی ہی مٹی تھی۔ وہاں پکے فرش‘ ٹائل اور ماربل تو تھے نہیں‘ آخر میرے حضورﷺ ننگے پائوں کیوں چلتے تھے اور ننگے پائوں چلنے اور خاص طور پر مٹی کے اوپرچلنےکے کیا فوائد ہیں ۔ دوسرا آپ محسوس کریں گے جتنا بھی ہمارے پیدل چلنے کے راستے جنہیں واکنگ ٹریک کہتے ہیں وہ سارے کچے ہوتے ہیں ‘اگر کہیں پکے ہیں تو وہ صحت اور تندرستی کے راز نہیں دے سکیں گے جو کچے راستے دیتے ہیں ۔ تیسرا: جس کو بھی پہلوانی کرنی ہوتی ہے وہ مٹی کے کچے اکھاڑے میں جہاں مٹی نرم ہوتی ہےوہاں پہلوانی کرتا ہے۔ 
ترکیہ میں صحت مندی کا راز
میں نے ترکیہ میں عق بابا کے مزار کے ساتھ (یہ وہاں کےایک مشہور بزرگ ہیں‘ رجب طیب اردگان ترکیہ کےموجودہ حکمران کی پارٹی کا نام بھی عق پارٹی ہے) ایک پارک دیکھا‘ اس میں تین چیزیں تھیں۔ 1۔ایک حصہ میںدرختوں کےاوپر کے چھلکے تھے۔ 2۔ دوسرے حصہ میں گھاس تھا اور تیسرے حصہ میں مٹی تھی۔ وہ بچوں کو ان تینوں حصوں میں کھیلنے کا موقع دیتے تھے۔ میرے والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ گھر کےکسی حصہ میں مٹی یا ریت بچھاتے فرماتے‘ اس پر پیدل چلو۔وہ مزید فرماتے تھے سڑکوں کے کنارے خانہ بدوشوں کے بچے مٹی میں کھیلتے پھلتے اور پھولتے ہیں نہ وہ بیمار ہوتے ہیں نہ انہیں تکلیف ہوتی ہے نہ وہ روز معالج اور ہسپتالوں میں جاتے ہیں کیونکہ مٹی کے اندر قدرتی ایک صحت مندی کا راز ہے اور وہ ایسا راز ہے جو کبھی انسان کو بیمار نہیں ہونے دیتا ہمیشہ صحت مند اور تندرست رکھتا ہے۔
مٹی پر جدید تحقیق!
 موجودہ سائنس اب ایک ترکیب پر آئی ہے کہ آپ دفتری کام کریں‘ کچن میں کھڑے ہوں یا بہت زیادہ دیر جہاں بیٹھنے کا کام ہے وہاںمٹی پائوں کےنیچے بچھائیں ‘آپ کے پاؤں مٹی پر ہوں نہ کہ جوتے یا قالین ‘ میٹ یا پتھر پر۔ آئیں میں آپ کو ایک سائنسی تحقیق بتاتا ہوں‘ سائنس کیا کہتی ہے۔
ایک تصویرمیں گوروں کو دکھایا گیا ہے کہ وہ کمپیوٹرپرایک پرکشش دفتر میں کام کررہے ہیں اور دنیا کے مہنگے ترین نظام کو چلا رہے ہیں‘ لیکن انہوں نے جوتے اتارے ہوئے ہیں ان کے پاؤں کے نیچےمٹی ہےا ور مٹی میں پاؤں ڈال کر بیٹھے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح دنوں کے دن بیٹھیں رہیں ‘نہ تھکیں گے نہ بیمار ہوں گے ‘نہ سرچکرائے گا نہ کندھوں میں کھچائو‘ نہ سر درد ہوگا نہ نظر کمزور ہوگی اور یادداشت پر کوئی منفی اثر نہ پڑے گا۔
انسانی فطرت اور سکون
ان کا کہنا ہے کہ ہمیشہ سےمٹی ہی ہماری زندگی ہے کیونکہ مٹی سے بنے ہیں اور مٹی میں رہیں گے تو صحت یاب ہوں گے ۔ آخر جانا بھی تومٹی میں ہے۔ آئیے میں آپ کو ایک انگریز سائنس دان کی مٹی پر تحقیق بتاتا ہوں، ملاحظہ فرمائیں۔ حقیقت یہی ہے کہ مٹی ایک عظیم تحفہ ہے‘ مٹی ہمارے پاؤں کے ذریعے منفی توانائی جذب کرکے مثبت توانائی فراہم کرتی ہے اور قدرتی ماحول میں وقت گزارنے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔ مٹی میں موجود بیکٹیریا جلد کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں اور مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں، یہ عمل انسان کو فطرت سے جوڑتا ہے اور روحانی سکون فراہم کرتا ہے۔
نظروں کشش اور چہرے کی سرخی
آج بھی گاؤں دیہات کے لوگوں کی صحت اور تندرستی دیکھیں جن کا دن رات مٹی میں گزرتا ہے ان کے جوتے‘ ان کے پائوں مٹی سے بھرے رہتے ہیں۔ ان کے بستر پر جھاڑنے سے اچھی خاصی مٹی نکل سکتی ہے لیکن آپ ان کی صحت‘ نظروں کی کشش اور چہرے پر سرخی اور طاقت دیکھیں‘ عقل دنگ رہ جائے یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کون سا ٹانک کون سے موتی و جواہر‘ کون سے قیمتی انجکشن یا کون سے بڑے ہسپتالوںمیں اپنا علاج کروایا۔
 کیا یہ دن رات کوئی قیمتی سے قیمتی ادویات کھاتے رہے ؟ ہرگز نہیں مٹی خود ایک معالج ہے اور ایسا کامیاب معالج ہےجو ہمیں کبھی بوڑھا نہیںہونے دیتا ‘ نہ تھکنے دیتا ہے اور نہ کمزور ہونے دیتا ہے۔ آج بھی اگر بوڑھا ہونے اوروقت سے پہلے جھریاں ‘کمزوری‘ ذہنی تناؤ‘ کھچاؤ ‘دباؤ سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کو مٹی کا دوست بنائیں اور مٹی سے دوستی کریں اور سوچیں ہمارا جسم پاؤں کے ساتھ کیسے مٹی چھوئے، اس کی ترتیب بنائیں۔