لسلام علیکم !شیخ الوظائف صاحب آئے روز طلاقوں کی شرح میں اضافہ ہور ہا ہے۔میں نے اس حوالے سے آپ کوبہت پریشان دیکھا۔یہ بالکل حقیقت ہے کیونکہ آج کے اس جدید دور میںلوگوں کےدرمیان زمینی فاصلے جس قدر سمٹ کر رہ گئے ہیں اس قدر ہی لوگوں کے دل ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ آپ اکثر فرماتے ہیں کہ ایسے عمل بتائیں جس سے میاں بیوی میں لڑائی جھگڑے اور اختلافات نہ ہوں اور اجڑے گھر بس جائیں۔بس میرے دل میں بھی یہ غم منتقل ہوگیا اور میںان اعمال اورطریقوں کی کھوج میں لگ گئی۔ایک دن ہماری پڑوسن جو کہ پٹھان قبیلے سے تعلق رکھتی تھی۔ ہمارے گھرآئی اورمیں نے ان سے اپنے اس غم کا اظہا ر کیا ۔اس پر اس نے ایسا انکشاف کیا کہ میں حیران رہ گئی۔اس نے بتایا کے ہمارے خاندا ن میں کبھی بھی کسی کو طلاق نہیں ہوئی ، وجہ پوچھنےپر اس نے مزید بتایا کہ ہم نے ہمیشہ اپنے بڑوں سے سنا ہےکہ میاں بیوی میں لڑائی کی بڑی وجہ شیطانی وسوسے ہوتے ہیں جو کہ شیطانی جنات اور مختلف طریقوں سے میاں بیوی کےاندر آپس میں ایک دوسرے کے لئے ڈالے جاتے ہیں۔ان دیکھی اس مخلوق کی وجہ سے بہت سے روحانی مسائل شروع ہو جاتے ہیں اورنتیجہ میاں بیوی کی طلاق کی صورت میں نکلتا ہے ۔ لوگ طلاق کی صورت میں لڑکا یا لڑ کی کو قصوروار ٹھہراتے ہیںجبکہ اکثر حقیقت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ہم پہاڑ پر رہنے والے لوگ اس ان دیکھی مخلوق کے وجود کی حقیقت پر نہ صرف یقین رکھتے ہیں بلکہ ان سے حفاظت کا اہتمام شادی کے پہلے دن سے ہی کر لیتے ہیں۔ ہمارے خاندان میں جب کسی کا نکاح ہوتا ہے تو لڑکے کے ساتھ پانچ سے سات بزرگ اور لڑکی کے ساتھ پانچ سے ساتھ بڑی عمر کی خواتین باپردہ مسجد میں جاتی ہیںوہی پر نکاح ہوتا ہے اور وہی سے لڑکی کی رخصتی کردی جاتی ہے۔مسجد میں نکاح کرنے سے ایک تو شریر جنات اس نکاح میں شامل نہیں ہو پاتے دوسرا اللہ پاک کی مدد بھی شامل حال ہو جاتی ہےاور سنت کے مطابق نکاح کرنے کی وجہ سےسنت کا نور بھی دونوں افراد کو اپنے سائے میں لے لیتا ہے،یوں ازدواجی زندگی کا آغاز اللہ کے گھر اور نبی کریمﷺ کے بتائے گئے طریقے کے مطابق سادگی سے ہوتا ہے۔یہی وہ راز ہےکہ ہمارے خاندان میں طلاقیں نہیں ہوتیں۔