للہ تعالیٰ کے بے پناہ احسانات ایک طرف اور امت مسلمہ کے لئے رمضان المبارک جیسے با برکت مہینے کا نرول ایک طرف۔ہمارے لئے رمضان المبارک کے ڈھیروں خیرو برکت سمیٹنے اور دنیا میں تعمیر سیرت کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کس طرح اس فضیلتوںوالے مہینے کی برکتیں سمیٹتے ہیں اور اپنے اندر کی چھپی ہوئی صالحیت کو دریافت کرتے ہیں۔ذیل میں کچھ ایسے مشورے بتائے جار ہے ہیں جو اس بابرکت مہینہ کی ہر خیر سے فائدہ اٹھانے میں ہماری مدد کریں۔
وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں
منصوبہ بندی وہ واحد چیز ہے جس کے بغیر ہم کوئی بھی دنیاوی کام نہیں کرسکتے تو پھر دین کے کاموں میں اسے اہمیت کیوں نہیں دی جاتی۔اگر آپ اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو رمضان المبارک سے پہلے ہی اپنی ایک روٹین ترتیب دیں۔ہر فرض نماز کے قرآن پاک کی تلاوت کیے بغیر جائے نماز سے نہ اٹھیں۔گھریلوخواتین ایک ڈائری میں ضروری کاموں کی لسٹ پہلے سےترتیب دے کر رکھیں مثلاً کیا پکانا ہے؟گھر کا کون سا ضروری کام رہتا ہے؟کوئی سودا سلف منگوانا ہے؟اس سے آپ کا تمام وقت گھر کے کاموں میں نہیں گزرے گا بلکہ ترتیب کے ساتھ چلتے ہوئے آپ کو عبادت کے لئے بھی وقت مل جائے گا۔اسی طرح طالب علم ‘ دفتر میں کام کرنے والے اور باقی شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے بھی اپنی ترتیب بنا لیں تاکہ اچانک سے تبدیل ہونے والے معمولات آپ کو سست نہ کردے۔
خوراک پر نظر رکھیں
رمضان المبارک روح کی پاکیزگی کا مہینہ ہے‘ گزرتے وقت میں ہم نے اسے ایسے ’’فوڈ فیسٹیول‘‘ میں تبدیل کردیا ہےجس پر عقل مندوں کی عقل دنگ رہ گئی ہے۔مرغن‘ ثقیل اور مرچ مسالے سے بھر پور غذائیں جن کی تیاری بھی گھنٹوں لیتی ہو یقیناً اس ماہ مبارک کی اصل روح اور مقصد کے ساتھ زیادتی ہے۔سموسے پکوڑے اور دوسری تلی ہوئی اشیاء روزہ دار کے لئے کسی صورت اچھی نہیں ہیں۔
سائنس کی رو سے روزہ انسانی جسم کو فاسد مادوں سے نجات دلانے کا بہترین راستہ ہے جسے(Body Detox)کہا جاتا ہے لیکن ہماری ستم ظریفی دیکھئے جسم 12 سے 14 گھنٹے کے روزے میں ان فاسد مادوں کا اخراج کرنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے اور ہم لوگ روزہ افطار کرتے ہیں اسے مزید فاسد مادوں(تلی ہوئی اشیا میدہ‘ مرچ مسالے) سے بھر دیتے ہیں۔ایسے میں نہ تو روزے کے جملہ فوائد حاصل ہو پاتے ہیں اور نہ ہی ہماری صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔لہٰذا جس قدر ہو سکے سادہ غذائیں کھائیں تاکہ عبادات اور تروایح کے لئے طبیعت سست نہ پڑے اور معدے کے مسائل بھی جنم نہ لیں۔
بہترین سحری وافطاری کا انتخاب
سحری و افطاری کے لئے بہترین کھانا وہ ہے جس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہو۔اس لئے سحر ی میں بغیر چھنے آٹے کی روٹی‘ سالن اور دہی شکر سادہ اور عام مگر غذائیت کے اعتبار سے اچھا انتخاب ہے۔اس کے علاوہ جَو کا دلیہ بمعہ ابلا ہوا انڈا بھی توانائی سے بھر پور سحر ی ہے۔جن لوگوں کو بلڈ پریشر یا کمزوری کی شکایت رہتی ہو تو وہ سحری میں تین کھجوریں استعمال کر کے پروٹین سے بھر پورغذا کا لطف اٹھائیں۔
افطار کا آغاز کھجور کے بعد شہد ملے پانی سے کریں۔اس سے بہتر کوئی دوسرا مشروب نہیں ہو سکتا۔اکثر لوگ دودھ سوڈا پسند کرتے ہیں لیکن سائنس کی رو سے اس میں غذائیت کے اعتبار سے آپ کو کچھ حاصل نہ ہوگا۔جھاگ دار مشروب اور بوتلیں شاید ذائقہ کےاعتبار سے اچھی لگیں لیکن دن بھر کے خالی معدے کے لئے زہر کی وجہ سے یہ دودھ پلانے والی ماؤں اور حاملہ عورتوں کے لئے بہترین زود ہضم غذا ہے۔
پروان چڑھتے ہوئے بچوں کو عمر کے مطابق پانچ سے سات قطرے تک اس کا استعمال ہڈیاں مضبوط بناتا، کیلشیم کی ضرور ی مقدار فراہم کرتا اور پیٹ ہلکا کر کے چستی پیدا کرتا ہے۔ اگر اسے آدھے یا ایک چمچ شہدمیں ملا کر استعمال کرایا جائے تو بچے موٹے تازے اور رنگ برنگے دستوں سے محفوظ رہتے ہیں اور آسانی سے دانت نکال لیتے ہیں ۔پیچش بڑا سخت مرض ہے مگر لیموں میں اس کے لئے بھی شفائی اثرات موجود ہیں۔ لیموں کے دوٹکڑے کر کے ان میں ایک چاول سے چار چاول تک کے برابر افیون کھا کر چوسنے سےپیچش دور ہو جاتی ہے۔لیموں کی خوشبو سے ہر قسم کی بوحتی کہ مچھلی کی بو بھی اس کو لگانے سے دور ہو جاتی ہے۔لیموں کے خشک تین ماشتے چھلکے اور تین عدد بڑی الا ئچی کو ڈیڑھ پاؤ پانی میں جوش دے کر میٹھا ملا کر گھونٹ گھونٹ پینے سے پیٹ کا درد دور ہو جاتا ہے۔ لیموں کے بیچ محفوظ کر لیں۔ اس کو پیس کر رتی بھر انار کے پانی میں یا شربت میں ملا کر دو تین دفعہ چاٹنے سے ہر قسم کی قے آنا بند ہو جاتی ہے۔لیموں کو ایک سیر پانی میں سونٹھ دانہ ،الائچی کلاں، پوست آملہ، زیرہ سفید، دودھ چھٹا نک ڈال کر برتن کو ڈھک کر پھر پانی خشک ہونے پر دھوپ میں سکھا کر پھر چھان کر شیشی میں بھر لیں۔یہ پیٹ کا عمدہ چورن ہوگا۔
سے کم نہیں