یہ کہانی سچی اور اصلی ہے۔تمام کردار احتیاط سے دانستہ فرضی کر دئیے گئے ہیں‘ کسی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی۔
مجھے سمجھ نہیں آرہی اپنی بات کہاں سے شروع کروں‘میری زندگی گناہوں اور عیبوں سے بھری ہوئی ہے۔لیکن مجھے اس وقت اپنی ان برائیوں بھری زندگی کا احساس تک بھی نہ تھابلکہ ان گناہوں کو میں ایک عام انسان کے معمول کا حصہ سمجھتی تھی۔میرا پل پل گناہوں میں ڈوبا ہوا تھا۔میرا ادنیٰ ترین گناہ نامحرم سے فون پر باتیں کرنا تھا جو میرے نزدیک گناہ ہی نہیں تھا جو آج کل کے معاشرے کی سب سے بڑی لعنت ہے۔ اسلام نے ہمارے لئے شادی کا مقدس رشتہ رکھا مگر آج کل کے نوجوان لڑکے لڑکیاں اس رشتہ کو اپنانے کی بجائےایسے کاموں کی طرف راغب ہو چکے ہیں جن کی شریعت میں کوئی جگہ نہیں۔
امیر بننے کی خواہش
میری والدہ دو سال پہلے عبقری رسالہ لے کر آئیں۔میں نےرسالہ کو دیکھا اور رکھ دیا۔اس وقت اعمال والی زندگی کے ساتھ میرا دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔میں اپنے گناہوں بھری زندگی میں مشغول رہی۔میرا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا۔فلمیںاور ڈرامے دیکھنے سے میری بھی یہ سوچ بن چکی تھی کہ کسی امیر خاندان کے لڑکے سے فون پر رابطہ رکھوں گی اور پھر اس سے شادی کر کے اپنی زندگی سنوار لوں گی۔میں نے اپنی اس تمنا کو پورا کرنے کے لئے کوشش کی مگر میں جیسا سمجھتی تھی ویسا نہ ہو سکا‘ قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔مجھے اس راہ میں دھوکہ اور شرمندگی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہو سکا۔مجھ پر ایک نا محرم نے غلط اور جھوٹے الزامات لگا کر محلے میں بدنام کر دیا جبکہ میرا ان الزامات کے ساتھ کوئی بھی واسطہ نہ تھا لیکن مجھے سمجھ آگئی کہ میں جو گناہوں بھری زندگی میں ڈوبی رہی‘ نامحرم سے فون پر باتیں کرتی رہی یہ سب اسی کی سزا ہے۔جس شخص کو میں نے اپنا ہمسفر چنا تھا مجھےاس نے بھی دھوکہ دیا ‘ مجھےکبیرہ گناہ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر میں نے انکار کر دیا جس کے بعد اس شخص نے مجھے چھوڑ دیااور شادی سے انکار کر دیا‘ تب جا کر مجھ پر یہ بات عیاں ہوئی کہ ہم جو موبائل اور ٹی وی پر کہانیاں دیکھتے ہیں زندگی کی حقیقت اس سے برعکس ہے۔اب میرے پاس پچھتاوے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔
ایسا سکون ملا جو پہلے میسر نہ تھا
ایک دن گھر میں پریشان بیٹھی تھی ‘اچانک میری نظر عبقری رسالہ پر پڑی۔میںنے رسالہ کو پڑھنا شروع کیا اور اس کی ایک ایک تحریر میرے دل و دماغ پر اثر کرتی گئی۔اس دن مجھے احساس ہوا کہ ایک دنیا یہ بھی ہے کہ لوگ اپنے مسائل اور مشکلات اللہ کے نام کی برکت سے حل کروا رہےہیں۔میں نے اللہ کے حضور اپنے گناہوں سے سچے دل سے توبہ کی۔میں اب کسی نا محرم سے باتیں کرنے کی بجائے وظائف کے ذریعے اللہ سے باتیں کرتی ہوں‘اس کی برکت سے اب ایسا سکون ملا ہے جو پہلےکبھی نہ تھا۔میرے اللہ نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا‘میرے گھرو الوں کو میرے گناہوں سے متعلق کچھ علم نہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے میرا پردہ رکھ لیا ہے۔اس کے بعد بھی کئی بار گناہوں کا موقع میسر آیامگر عبقری کے زندگی میں آنے کے بعد روحانی اعمال کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے استقامت دی ہے‘گناہوں اور عیبوں سے نجات مل گئی۔میں اب خود بھی عبقری رسالہ سے دیکھ کر وظائف اور روحانی اعمال کرتی ہوں اور دوسروں کو بھی بتاتی ہوں‘ میرے کچھ رشتہ دارمیرا مصلیٰ پر بیٹھنا‘ تسبیح پڑھنے پر مذاق اڑاتے ہیںمگر انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ عبقری رسالہ کے وسیلہ سے اللہ نے مجھے گناہوں بھری زندگی سے نکال کر اعمال والی زندگی پر لگا دیا ہے۔اب پانچ وقت کی نماز ادا کرتی ہوںاور اللہ سے اپنے گزشتہ گناہوں سے رو رو کر معافی مانگتی ہوں۔یہ سب کچھ ’’عبقری‘‘رسالہ پڑھنے کی بدولت ہی ممکن ہواکہ آج میں نےگناہوں بھری زندگی کو چھوڑ دیاہے۔ میں خوش نصیب ہوں جو مجھے آپ ملے، ’’عبقری‘‘ ملا۔ کاش! آپ مجھ گناہ گار کو پہلے مل جاتے تو میری زندگی اتنی برباد نہ ہوتی مگر مجھے خوشی ہے کہ عبقری کا ساتھ ملا۔ جو کمی و بیشی زندگی میں رہ گئی ہے وہ بھی ان شااللہ دُور ہو جائے گی۔