تلاش

انسانی فطرت
میں ہر وقت چھوٹی چھوٹی بات پر شکوک و شبہات میں پڑ جاتا ہوں۔کیا قدرت نے ہمارے ذہن کو مسلسل کام کرنے والا بنایا ہے اور یہ بات انسان کی فطرت میں ہے کہ فارغ ہونے، کوئی ذمہ داری نہ ہونے یا خود کو کچھ کرنے کیلئے پابند بنانے پر معمولی چیزوں اور باتوں پر زیادہ توجہ جاتی ہے اور چھوٹی چھوٹی چیزوں میں شکوک و شبہات وغیرہ ہونے لگتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی یہ مسائل ہیں۔(انورخان،کوئٹہ)
مشورہ ـ:اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ آپ شکوک و شبہات کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس کیفیت کا سبب فارغ رہنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قدرت نے ہمارے ذہن کو اِدھر اُدھر بے مقصد بھٹکنے کیلئے نہیں بنایا۔ کائنات پر غوروفکر کریں۔ آسمان، زمین، درخت، پرندے اور بہت کچھ ان سب کا خالق کون ہے؟ اس طرح سوچ مثبت سمت سفر کرے گی۔ ہم جس چیز پر پوری توجہ کرتے ہیں وہ ہمارے لیے اہم ہو جاتی ہے۔ مثبت سوچ پر فوکس کریں تو اسی قدر بڑھے گی۔
خود اعتمادی کی کمی
میں اکثر ڈپریشن میں چلی جاتی ہوں، تنہائی محسوس ہوتی ہے، خود ہی احساس ہوتا ہے کہ بالکل اکیلی ہوں۔ سسرال کے معاملات میں شوہر سے بھی جھگڑے ہوتے ہیں، خوداعتمادی کی کمی ہے، کسی انجانے ڈر اور خوف کا شکار رہتی ہوں۔ اپنی حالت پر بہت پریشان ہوں، لگتا ہے پاگل ہو جائوں گی۔ میرےدو بھائی تھے، دونوں کی شادی ہو گئی، وہ اپنی بیویوں کے ہو کر رہ گئے ہیں۔ سسرال میں نندیں ہیں، وہ حسد کرتی ہیں۔ میری ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے، بیٹی مجھ سے کہتی ہے کہ میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں۔ (پوشیدہ)
مشورہ :سب کے ہوتے ہوئے خود کو اکیلا محسوس کرنا ڈپریشن کی علامت ہے۔ اگر اپنے اردگرد دیکھیں تو سسرال اور میکے کے معاملات اس طرح ملتے جلتے ہوتے ہیں جیسے کہ آپ کے ہیں۔ والدین سے ملنا نہ چھوڑیں، سسرال میں تعلقات بہتر بنائیں اور شوہر سے کسی کی وجہ سے کبھی جھگڑا نہ کریں۔ سچی خوشیاں اپنے بچوں سے دوستی کر کے ملتی ہیں۔ بیٹی آپ سے جو سنتی ہے وہی کہتی ہے۔ بچوں کیلئے ماں سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔ 
صبر سے سکون
میری عمر19 سال ہے، تین ماہ پہلے میرے والد کا انتقال ہو گیا، میں ان سے بہت قریب تھی۔ ان کے جانے کے بعد جب بھی ان کا خیال آتا ہے تو دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے تب ایسا لگتا ہے کہ ہر ایک مجھے دھوکہ دے رہا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ کسی کے گلے لگ کر بہت روئوں لیکن ایسا نہیں کر پارہی جب تک نہیں روئوں گی، سکون نہیں ملے گا۔ (شازیہ‘میلسی)
مشورہ :کوئی بڑا صدمہ انسان کو بے قرار اور مضطرب کر دیتا ہے۔ اس وقت ایسے بہت سے کندھے مل جاتے ہیں جن پر سر رکھ کر یا لوگوں کے گلے لگ کر رویا جا سکے لیکن اس کے بعد صدمہ ختم نہیں ہوتا۔ دُکھ اس وقت کم ہوتا ہے جب انسان صبر کرے اور صبر خود کو منفی خیالات اور رد عمل سے روکنے کا نام ہے۔ 
تب دل نہ مانا
 میری عمر چوبیس سال ہے، مجھے زندگی گزارنے کیلئے کیا کرنا ہے،اکثر یہ سوچتا ہوں۔دو بڑے مواقع گنوا دئیے‘ ایک بیرون ملک جانے کا اور دوسرا بینک میں کام کرنے کا‘ اس وقت دل نہ مانا اور اب خود کو کوستا ہوں، بے وقوفی سے زندگی خراب کر لی۔ لوگوں کو خوش حال دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے۔ (انصر‘خیرپور)
مشورہ ـزندگی میں صرف یہ دو مواقع ہی نہیں ، حقیقت یہ ہے بار بار موقع ملتا ہے اس وقت فوری طور پر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تیسرا موقع اس وقت آئے گا جب دماغ کوپچھتاوے سے خالی کریں گے۔ ممکن ہے اس سے بہتر صورتِ حال پیدا ہو جائے لیکن ایسا اسی وقت ہوگا جب خود کو کوسنے کی بجائے حوصلہ دیں گے۔ خوشحال لوگوں سے دوستی کریں گے اور انہیں دیکھ کر ان سے مل کر خوش ہوں گے۔